جوابی بیانیے کا بیان بخدمت مفتی منیب الرّحمٰن

ہمارے ملک کے ایک نامور عالم و صاحبِ منصب مفتی منیب الرّحمٰن صاحب حالیہ دنوں میں ایک سے زیادہ مواقع اور کالموں کے ذریعے جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے پیش کردہ جوابی بیانیے پر مختلف جہات سے تنقید کر چکے ہیں۔ حال ہی میں اُن کا مضمون’علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ’ کے عنوان سے سامنے آیا ہے۔ بشمول آنجناب کے علما و ناقدین کے اس حوالے سے مؤقف اور نقد بہت مفید ہیں، کہ بیانیوں کی اس بحث میں میرے جیسے طالبعلموں، حکمرانوں اور  عوام کو وضوح کی جستجو و حصول کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اس مضمون میں مفتی صاحب نے کچھ ایسے اعتراضات کیے ہیں جو شائید نئے تو نہیں، پر دعوتِ غور و خوض کے ایسے مواقع فکرمند لوگ غنیمت جانا کرتے ہیں۔ ان اعتراضات میں وہ منفرد بھی نہیں ہیں، بلکہ ملتے جلتے معارضہ اور ناقدین پیش کر چکے ہیں، اور ان سے تعارض بلاگوں اور فیس بُک پوسٹوں کے ذریعے وقتاً فوقتاًہوتا بھی رہا ہے۔ بہت سے اعتراضات علمی و شرعی اعتبار سے کوئی لائقِ بحث تو نہیں، تاہم راقم کی رائے میں بعض تمہیدی نوعیت کے اعتراضات تکرار کی وجہ سے اتنی کمیتِ فاصل (critical mass) کو پہنچ چکے ہیں کہ اِنہیں از طرفِ سر موضوع بنانا اب بے فائدہ نہ ہو گا۔ اس مضمون میں اسی کا ارادہ ہے۔

مفتی صاحب ہمارے ممدوح و موقّر مفکر ہیں۔ اُن کے مضمون کو تجزیے کے لیے فقط اس لیے چنا گیا ہے کہ اعتراضات کو اس طرح معیّن کر دینے سے علمی تعارض واضح اور بر محل ہو جاتا ہے ۔ اس میں کسی شخصیت کے اعتراضات کو بنیاد بنانا بنیادی استدلال کی تعیین کے زاویے سے ہوتا ہے، وگرنہ جیسا کہ گزر چکا ایسے ہی اعتراضات کے متغیّرات متبادل شخصیات کے یہاں سے بھی دستیاب ہیں۔

`بیانیہ` کی اصطلاح

لفظِ بیانیہ (Narrative) کے بطور اصطلاح استعمال پر توحش کا اظہار پڑھنے کو ملا۔ اس پر حیرت کے سوا اور کس چیز کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ اب تو کئی دہائیاں ہوئیں کہ دنیا بھر کے اہلِ علم کے یہاں یہ اس قدر عام استعمال ہوتا ہے کہ اس اصطلاح کے منشاء و مدعا کے متعلق کوئی تشکیک یا اضطراب سمجھ سے باہر ہے۔ تاہم، چونکہ بعض حضرات بلاوجہ اس بین الاقوامی طور پر مستعمل اور عام فہم اصطلاح کے استعمال پر تشویش کا اظہار فرما رہے ہیں، تو چلیے اس کے سیدھے سادے مفہوم سے بھی لمس کیے لیتے ہیں۔

بیانیے سے مرادیہ ہوتی ہے کہ کوئی گروہ، جماعت یا تحریک کسی خاص حوالے سے جو اقدامات لے رہی یا لینے جا رہی ہے اُس کے اسباب و دلائل وہ  کیا بیان کرتی ہے۔ یعنی وہ ایسا کیوں کرنے جا رہے ہیں۔ وہ کیوں سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اقدامات میں حق بجانب ہیں۔ چنانچہ اسباب و دلائل کی تحدیث میں وہ اپنے نظریات، اور حالات پر اُن نظریات کا اطلاق بھی بیان کر دیتے ہیں۔ یہ ‘منشور’ سے قدرے مبدئی اور اجمالی، جبکہ ‘فلسفے’ سے نسبتاً  نہائی اور صریح ہوتا ہے ۔ اس کی تدوین کا کام کبھی وہ خود کر دیتے ہیں اور کبھی مخاطبین کے اہلِ علم و دانش اخذ و تجزیہ سے کام لیتے ہوئے اسے سر انجام دے لیتے ہیں۔ علم کی دنیا میں اقدامات کی بنیاد بننے والے نظریات کی ایک ایسی جامع تالیف کو اب کسی گروہ یا تحریک کا بیانیہ یا Narrative ہی کہا جاتا ہے۔

پس اگر آئی آر اے (IRA) برطانیہ کے خلاف علمِ جنگ بلند کیے ہوئے تھی تو اس کے لیے اُن کے پاس ایک پورا بیانیہ تھا جو یہ بتاتا تھا کہ وہ کن وجوہات و علل کے باعث ایسا کر رہے ہیں۔ اسی طرح یورپ و امریکہ میں ماضی میں جب کبھی سفید فام قوم پرستوں نے غوغائی یلغار مچائی تو وہ اس کے لیے اپنے نظری و فکری دلائل پورے شدّ و مدّ سے بیان کرتے تھے۔ صلیبیون اپنا بیانیہ رکھتے تھے اور صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلمان اپنا۔ جب یورپی اقوام کی استعماری توسیع شروع ہوئی تو ‘White Man’s Burden’ کے زیرِ عنوان اُن کے پاس اپنا فلسفہ اور بیانیہ تھا۔ جب اشتراکیت پوری دنیا پر چڑھ دوڑنے کی جہدِ مسلسل میں مصروف تھی تو وہ جن نظریات کی پورے تبختر سے تلویح کر رہی تھی وہ اس کا بیانیہ ہی تھا۔  پھر اُس کے بعد جب سے دہشتگردی کے عفریت نے سر اُٹھایا ہے تو چاہے عیسائی نژاد جيش الرب للمقاومة (Lord’s Resistance Army) ہو یا اسلامی نژاد القاعدہ، بوکوحرام، داعش وغیرہ ہر کوئی اپنا ایک پورا بیانیہ رکھتا ہے جس کی اشاعت و تشہیر پوری شدّت و شوکت سے وہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کے متعلق تشویش کیونکر پیدا کی جا رہی ہے  جبکہ دنیائے علم میں اس کی حیثیت مسّلم اور عمومِ بلویٰ ہے۔کہیں یہ صرف اس لیے تو نہیں کہ کسی کو یہ گمان ہے کہ اسے پاکستانی نشر و اشاعت میں عام کرنے والے غامدی صاحب ہیں؟اگر ایسا ہی ہے تو جان لینا چاہیے کہ یہ اصطلاح کہیں پہلے سے دنیا بھر میں مستعمل و رائج ہے۔

جوابی بیانیہ کیوں ضروری ہے؟

دوسرا اہم اعتراض یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی جوابی بیانیے ویانیے کی کوئی ضرورت ہے ہی نہیں۔اس اعتراض کو دو زاویوں سے کچھ یوں بیان کیا گیا ہے۔

1۔ اصولی طور پر کسی ملک و قوم کا دستور ہی اُس کا اجتماعی میثاق اور بیانیہ ہوتا ہے، اور اُس میں ملک کو درپیش معاملات کو حل کرنے کا طریق کار موجود ہوتا ہے۔اس لیے کسی نئے بیانیے کی ضرورت نہیں ہے، اصل مسئلہ قانون کی حکمرانی ہے جو ہمارے ہاں مفقود ہے، جرم کو جرم سمجھا جائے اور مجرم کو عبرتناک سزا دی جائے۔

2۔ "۔۔۔دہشتگردی کوئی فلسفہ نہیں بلکہ گھناؤنا جرم ہےاور ارتکابِ جرم کے خلاف ریاست کا بیانیہ نفاذِ قانون کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ۔۔۔معاشرے اور ریاست کی قائم کردہ عدالت مجرم کے بیانیے کو موضوع بنا کر اس سے فلسفیانہ بحث میں نہیں الجھتی بلکہ اسے طے شدہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے مناسب سزا دیتی ہے۔ اگر جرم کے خلاف اور خاص طور پر دہشتگردی کے خلاف بیانیے کی ضرورت اتنی شدید ہے تو یہ صرف مذہبی دہشتگردی تک ہی محدود کیوں رہے۔ کیا بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کا حق نہیں کہ حکومت ان پر گولیاں برسانے کی بجائے فلسفیانہ گفتگو فرمائے؟۔۔۔بات یہیں تک کیوں رکے، بھوک کے نام پر چوری، غیرت کے نام پر قتل، ضرورت کے نام پر آمریت بھی کیوں نہ جائز قرار دے دیے جائیں کہ بھوک، غیرت اور ضرورت تو تعزیراتِ پاکستان کے مقابلے میں کہیں طاقتور فلسفے اور جدید اصطلاح میں بیانیے ہیں۔” (از حبیب اکرم صاحب)

قبل اِن استدلالات سے تعارض کے آئیے پہلے بیانیوں کے زباں زدِ عام مقصد پر کچھ روشنی ڈال لیتے ہیں – جو اگرچہ کوئی محتاجِ بیان تو نہیں پر معترضین کی دلجوئی اور کمزور اذہان کی تفہیم کی خاطر یہ کوئی بارِ گراں بھی نہیں –  تا کہ جوابی بیانیوں کی ضرورت متبادر ہو جائے اور ان اعتراضات کی کمزوری آپ سے آپ مبرہن۔

بیانیے کا ایک سرسری مقصد اوپر پیش کی گئی تعریف سے خود واضح ہے، یعنی مخالفین تک اپنے اقدامات کی توجیہات کا ابلاغ۔ پر ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ اس کا محض ظاہری مقصد ہے۔ اس کا مخفی مگر اصلی اور بنیادی مقصد نئے عملا اور مجنّدین کی بھرتی (recruitment) اور پہلے سے موجود کارکنان کی اپنے مقاصد کو پا لینے کی جدوجہد میں تحریض و استقامت (mobilization) ہوتا ہے۔یہ کسی گروہ کی عوام الناس کے لیے دعاءِ تألیب (rallying call) اور اشاراتِ فضیلت (virtue signaling) ہوتی ہے، کہ ہم اتنے اعلی مقاصد کے لیے سر بکف ہیں، آؤ اور تم بھی اس شجرۂِ ‘طیّبہ’ کی آبیاری میں ہمارے مددگار بنو۔ اس کے لیے وہ ایسے سیاسی، معاشرتی اور/یا مذہبی دلائل فراہم کرتے ہیں کہ جو سادہ لوح عوام، بلکہ سمتِ مخالف کے سپاہیوں کو بھی گھائل کر سکیں۔ کیونکہ کسی بھی جنگ یا تحریک کے لیے رجال و موارد کی کثیر ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر عدو سے لڑائی جیتی نہیں جا سکتی۔ پس بیانیوں کا اصل مقصد اپنے خیالات کی ترویج سے بھرتی و استقامت کے ذریعے اور دشمن سپاہیوں کو حسبِ مقدور برگشتہ کر کے اہداف کو پا لینے تک کمک کی لامتناہی فراہمی ہوتا ہے۔

چنانچہ یہ معلوم و مسّلم ہے کہ جب بھی کہیں شورش یا بغاوت کی نوعیت کی منظّم تحریکیں سر اٹھاتی ہیں تو وہ مادی میدان میں جنگ کے ساتھ ساتھ خیالات کے میدان میں بھی جنگ برپا کرتی ہیں۔بلکہ یہ مؤخّر الذّکر جنگ تو مادی جنگ کے آغاز سے کہیں پہلے شروع ہو جاتی ہے اور انجام تک جاری رہتی ہے۔ خیالات کے میدان میں دونوں فریقین کے افراد کی اخلاقی اور مذہبی حسّ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ باغیوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ عوام الناس کے اخلاقی و شرعی احساسات کو برانگیختہ کر کے اپنا ہمنوا یا کم سے کم خاموش موئیّد بنا لیا جائے، تا کہ سہولت کار نہ بھی سہی چشم پوشی پر تو آمادہ ہو ہی جائیں۔ اور حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ عوام الناس کو اس طرح کے حملوں اور اُن کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے مؤقف کے اخلاقی و مذہبی دلائل کی فوقیت لوگوں کے ذہنوں میں ہمیشہ مستحضر رکھے۔ ورنہ اگر خیالات کے میدان میں حکومت و ریاست یہ جنگ ہار جائے تو سالوں، دہائیوں بلکہ صدیوں تک بھی جنگ کا تسلسل تھمنے کا نام نہیں لیتا۔

مجھے معلوم ہے کہ ایک عام فہم حقیقت کی تصریح کے لیے  اتنی لمبی تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں تھی، پر جب ناقدین معصومیت کی حد کر دیں تو اور چارۂِ کار کیا رہ جاتا ہے۔ پس جتنی بھی بغاوتیں ماضی بعید و قریب میں اٹھیں سب میں بیانیوں اور جوابی بیانیوں کو جنگی حکمتِ عملی کا ہمیشہ ایک اہم رکن سمجھا گیا ہے۔ ناقدین دُور نہیں پاکستان کی آزادی کی تاریخ پر ہی ایک نظر دوڑا لیتے۔ دو قومی نظریہ ہمارا بیانیہ ہی تو تھا۔ اور دیکھ لیجیے بیانیے کی اخلاقی، منظقی و مذہبی قوت کے باعث جب عوام الناس میں اس کو کثیر پذیرائی مل گئی تو پھر حاکموں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ حقِ خودارادیت دے دیا جائے۔ کشمیر تو ہمارے روز و شب کی کہانی ہے۔ کیا کشمیریوں کے مضبوط بیانیے نے اپنی کششِ ثقل سے اپنی ساری عوام کو حکومتِ ہندوستان کے خلاف مزاحمت پر آمادہ نہیں کیا ہوا؟کیا ہندوستان جیسی دیو قامت ریاست محض قانون کی طاقت سے آزادی کی جدوجہد کو دبانے میں کامیاب ہو گئی ہے؟

حاصلِ کلام یہ کہ جوابی بیانیے ویانیے کی کوئی ضرورت نہیں جیسے خیالات کی علمی اعتبار سے کوئی وقعت نہیں۔ اسی طرح یہ معصومانہ خیال کہ قانون کا اطلاق اور جوابی بیانیے کوئی باہم متعارض (mutually exclusive) چیزیں ہیں بھی کمال سادگی کا مظہر ہے، اور اس سے تعارض وقت کا کوئی بہتر مصرف نہیں، پر چلیں۔ یہ کس نے کہا کہ جوابی بیانیے قانون کے اطلاق میں تعطّل کو لازم ہوتے ہیں؟ قانون کا اطلاق تو ہر وقت اور ہر حالت میں بے لاگ ہی ہونا چاہیے اور ہوتا ہے۔ جوابی بیانیے تو اس اطلاق کو کارگر اور اس کی تاثیر کو دیرپا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت استعمال ہو تے ہیں۔بلکہ اس کو یوں سمجھیے کہ جرم جب واقع ہو جاتا ہے تو اس پر قانون کا اطلاق تو بہر حال کیا جاتا ہے۔ پر اُس جرم کے پیدا ہونے کی بھی تو کوئی جگہ ہوتی ہے۔ اس پیدا ہونے کی جگہ کو جوابی بیانیے ہدف بنا کر جرم کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے میں مدد دیتے ہیں۔ بالکل جس طرح کسی بیماری کا علاج ڈاکٹر صرف مرض کی موجودہ حالت کے حساب سے نہیں کرتا بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ یہ پیدا کیوں اور کہاں سے ہوا تا کہ مرض کی پیدائش کے اسباب کا استیصال کر دیا جائے۔ صرف اسی صورت میں کیا گیا علاج کارآمد ہوتا ہے۔ ورنہ وہی مریض کچھ عرصے بعد پھر اسی مرض کے کسی نئے ورژن میں مبتلا دوبارہ ڈاکٹر اور کٹھن تر علاج کے مرہونِ منت  پایا جاتا ہے۔ شکر ہے یہ خیال پیش کرنے والے لوگ طبیب نہیں ، ورنہ۔۔۔

اس ‘غیر ضروری’ تمہید کے بعد آئیے جوابی بیانیے پر داغے گئے مندرجہ بالا اعتراضات کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ ہمارے ملک میں خصوصاً اور عالمِ اسلام میں عموماً جو دہشتگردی بپا ہے اس کا ایک اپنا پورا بیانیہ ہے۔ اور وہ بیانیہ سر تا سر مذہبی عقائد و نظریات پر مبنی اور عام دستیاب ہے۔ یہ ویسے تو روز و شب انٹرنیٹ پر موجود ہزاروں صفحات اور سوشل میڈیا پوسٹوں پر مزیّن مل جاتا ہے، پر القاعدہ کے ‘Inspire’، داعش کے ‘Dabiq’، انور العولاقی کے ثبت شدہ آڈیو ویڈیو خطبات و دروس کے ذریعے پوری طرح منظّم حالت میں بھی متیسر ہے۔ اگرچہ یہ تو ہمیشہ ممکن ہوتا ہے کہ باغی جو بیانیہ پیش کرتے ہوں وہ مذہب کی غلط تشریح کا شاخسانہ ہو، یا پیش کرنے والوں کے عزائم تو کچھ اور ہوں پر اپنے مخفی و قبیح اہداف کو پانے کے لیے چال کے طور پر وہ شریعت کو استعمال کر رہے ہوں، پر اگر ایسا بھی ہو تو بھی حکومت کا یہ کام تو بہر صورت ہے کہ اُن دلائل سے تعارض کر کے جو مفسدین پیش کر رہے ہیں، تمام ایسی تاخت کے راستے مسدود کیے جائیں جو مذہبی دلائل سے مرعوب یا متاثر ہو کر ایسی کسی تحریک کے رضاکارانہ سپاہی یا سہولت کار بننے والے مسلمانوں کو اس کی طرف لے جا رہے ہوں۔ تاہم تحریکِ طالبان پاکستان، داعش وغیرہ کے معاملے میں تو صورتحال ان دو صورتوں سے کہیں نازک ہے۔ وہ توجو دلائل بیان کر رہے ہیں اور اپنے بیان کے مطابق جن اہداف کو حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں وہ تو ایک حصول کے طریقہ کار کو چھوڑ کر تقریباً وہی ہیں یا اُن سے بہت مماثل ہیں جو ہمارے علما پیش کرتے ہیں، اسلاف اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں، اور محولہ بالا مضمون میں مفتی صاحب نے بھی دہرائے ہیں۔ پس قانون کی طاقت کا استعمال ضرور کریں اور یہ لازم ہے، پر کیا یہ سوچ کوئی راکٹ سائنس ہے کہ خیالات کی اشاعت و ترویج سے رضاکارانہ بھرتی اور رجحاناتِ سہولت کاری میں بھی کمی لانے کی کوشش کی جائے؟ بلکہ ایسے دلائل کی اثر اندازی سرداروں اور نظریہ سازوں کو چھوڑ کر بہت سے عام باغیوں پر بھی ہوجانا عام توقع سے کہیں اکثر الوقوع ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ نے دلائل کے ذریعے اکثر خوارج کو بھی توڑ لیا تھا۔ہمارے دستور میں، بلکہ دنیا کے کسی دستور میں ایسی کوئی علمی بحثیں نہیں ہوتیں جو کسی خاص گروہ کے پیش کردہ دلائل کے جوابی دلائل لازماً مہیا کرنے کے قابل ہوں۔ایسے دلائل جب کبھی کوئی شورش برپا ہوتی ہے اسی کی نوعیت کے اعتبار سے وضع کرنے پڑتے ہیں۔ اگر دساتیر اس کا جواب ہوتے تو نہ دینا بھر کی حکومتیں جوابی بیانیوں کے بیسیوں مسوّدے تیار کر چکی ہوتیں اور نہ ہی الاظہر کے پائے کی بڑی اسلامی یونیورسٹیاں اور سکالرز ایسے جوابی دلائل کے دستاویزات کی تیاری اور اشاعت میں مصروف ہوتے۔ ایسے نادر و ناپختہ خیالات ایک پاکستان ہی کی قسمت میں نہ جانے کیوں لکھے ہیں۔  اس لیے دستور میں دی گئی سزائیں لازماً نافذ کریں، پر جو جوابی دلائل اوپر دیے گئے مقاصد کے لیے ہمیں چاہییں، وہ دساتیر میں نہیں ہوا کرتے، ان کی تالیف خود اور لازماً کرنا پڑتی ہے۔

2۔ یہ خیالات ایسی صریح غلط فہمیوں پر مبنی ہیں کہ اِن سے کسی قسم کا علمی تعارض اس وقت تک موزوں نہیں جبتک یہ فہمی اغلاط دور نہ کر دی جائیں۔ چنانچہ ان پر خامہ فرسائی سے گریز ہی مناسب تھا۔ پر چونکہ مفتی صاحب نے بھی ان کا حوالہ دیا ہے اس لیے چلیں ان پر بھی کلام ہو جائے۔ مضمون نگار کی پہلی واضح غلطی یہ ہے کہ انہیں یہ اشکال ہو چلا ہے کہ جوابی بیانیے کا مطالبہ  دانشور و حکمران مفسدین سے مذاکرات منعقد کرنے کے لیے کر رہے ہیں، جس کے دوران شائید قانون کی تنفیذ معطل رہے گی۔ اس خیال کے لیے کوئی بنیاد نہ بیانیے کے فلسفے میں ہے اور نہ ہی اس کا اظہار بلکہ اشارہ تک مطالبہ کرنے والوں کی جانب سے ہوا ہے۔ جوابی بیانیہ قانون کے اطلاق کے بالمقابل نہیں بلکہ باوجود، معاً اور بیک وقت رو بہ عمل حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ پتہ نہیں یہ وہم انہیں کیونکر لگا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ جوابی بیانیے اگر تیار ہو جائیں تو قانونی ادارے یا عدالتیں مجرموں سے فلسفیانہ بحثیں چھیڑنے کی مجاز ہوں گی یا اُن میں الجھ پڑیں گی۔ تو یہ کس کو معلوم نہیں کہ ایسے بیانیے مجرموں کے قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے نہ کہ بعد، اور ممکن و متوقع مضلّین – جنہوں نے ابھی تک کسی جرم کا بالفعل ارتکاب نہیں کیا ہوتا – کو ‘تلقین سے تحصین’ (immunization against indoctrination) کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ کمرۂِ عدالت میں مستعمل کسی متوازی قانون کے لیے۔تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ  ہرجرم، جیسے مثلاً چوری اور مذہبی یا نظریاتی دہشتگردی ایک ہی قماش کی چیزیں ہیں ۔دنیائے علم کے اس بودے و نایاب دعوے سے تعارض کی تو کوئی معقول وجہ نہیں۔ ہاں مگر اسی فہرست میں بلوچستان کی علیحدگی پسندی اور غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم کا ذکر میں کر ڈالا گیا ہے، پس اس کا محاسبہ تو ضروری ہے۔ علیحدگی پسندی و انفصال کی تحریکیں جہاں کہیں بھی اُٹھ کر ایک دفعہ کچھ پذیرائی حاصل کر لیتی ہیں تو اُن کا مقابلہ ہمیشہ قانون اور جوابی بیانیوں، دونوں ہی سے کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی نوع میں ایسی تحریکیں ہوتی ہیں کہ ان کے ساتھ خاص دقّت و حساسیت سے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ اگر یہ علیحدگی پسند اپنے ہتھیار پھینک دیں تو بسا اوقات، اور باقی جرائم کے برخلاف، ماضی کے انحرافات کو بخش دینا اقوام حکمت کا تقاضا سمجھتی ہیں۔اسی طرح غیرت کے نام پر قتل بھی تنفیذِ قانون کے ساتھ ساتھ ایسی بہت سی کاوشوں کا متقاضی ہے جو معاشرتی اور مذہبی اقدار سے کشید کردہ کچھ ضرر رساں خیالات کا علمی طور سے استیصال کریں، ورنہ یہ کس کو معلوم نہیں کہ سزا کے خوف سے تو یہ جرم معدوم ہونے کو نہیں۔ ان مختلف نوعیت کے جرائم کو ایک ہی لاٹھی سے جس قلتِ تدبّر سے ہانک دیا گیا ہے، حیرت انگیز ہے۔

یہ تھے وہ  بنیادی اعتراضات جن کو میں نے محض صفایا کرنے (mopping up) کے زاویے سے اور علمی وضوح کے لیے موضوع بنانا ضروری سمجھا۔ورنہ جوابی بیانیے کی تعریف و ضرورت مسّلم ہےاور دنیا بھر کے دانشور، علما یہاں تک کہ ہمارے حکمران بھی اس بابت اعتراف کر چکے ہیں۔ سوائے بےدرد لوگوں کے، جنہیں اپنے بھائیوں، بیٹوں، جوانوں کی کوئی فکر نہیں، کوئی اس کی ضرورت سے انکار کیسے کر سکتا ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے ہی نہیں کہ جوابی بیانیہ چاہیے یا نہیں، بلکہ سوال فقط اس کے مندرجات کا ہے، جس پر انشاءاللہ کسی اور مضمون میں کلام مناسب رہے گا۔

مفتی صاحب نے اگرچہ غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کے بعض نکات کو بھی موضوعِ بحث بنا کر اپنے رشحاتِ فکر سے آگاہ فرمایا ہے، بلکہ مضمون کا اکثر حصہ اسی پر مشتمل ہے، تاہم مجھے پورا اعتماد ہے کہ اُن کو اپنے اعتراضات –  بلکہ اسی نوعیت کے کہیں متقدّم اعتراضات –  کا تجزیہ و جوابات میری بلاگ (https://mymusingsinurdu.wordpress.com/) سمیت اور  مضامین میں مل جائیں گے۔ خصوصاً سیّد منظور الحسن صاحب نے تو ایک ایک کر کے مفتی صاحب کے ان سب اعتراضات کا تجزیہ اور وقیع محاسبہ اپنے مضمون ‘ جوابی بیانیہ: مولانا مفتی منیب الرحمٰن کے تاثرات کا جائزہ ‘  میں پیش کر دیا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s