مسئلۂِ عمرِ عائشہ بوقتِ نکاح و رخصتی

معروف اسلامی روایت کے مطابق نبی اکرم ﷺ سے نکاح کے وقت حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عمر چھ (6) برس تھی اور رخصتی کے وقت نو (9) برس۔ انتہائی کم سنی کی یہ مبیّنہ شادی عصرِ حاضر میں دینِ اسلام کی مذمت کے لیے عمومی طور پر اور رسول اللہ ﷺ کی اپنی کردارکشی کے لیے    خصوصی طور پر پیش کی جاتی ہے اور مسلمان اس الزام کے دفاع/جواز میں تذبذب کا شکار دکھائی دیتے دیتے اب معاملے کی حقیقت کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں ۔  ماضی قریب سے شروع ہونے والی اس بحث کو ہمارے زمانے میں دو بنیادی وجوہات سے حددرجہ اہمیت و انفرادیت حاصل ہو گئی ہے:

1۔ عالمِ اسلام کے مغربی اقوام کے زیرِ تسلّط آنے اور پھر آزادی پانے کے بعد مغربی روشن خیالی کے زیرِ اثر اخلاقی معیارات کی جو از سرِ نو تعمیر ہوئی اس میں  کم سن بچیوں سے شادی / تعلقِ زن و شو کے رجحان کو قابلِ کراہت قرار دے دیا گیا ۔ اس اصول کو بڑی حد تک اب دنیا میں ایک بنیادی  اخلاقی حقیقت کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اور یہ امرِ واقعہ ہے کہ کم سے کم جدید تعلیم یافتہ طبقہ – مسلم و غیر مسلم –  اس اصول کی اخلاقی قوت اور انحراف کی صورت میں شناعت کو اپنے اخلاقی وجود میں محسوس کرتا ہے۔  چنانچہ ادوارِ ماضی کے برعکس ہمارے دور کی جوان اور نوجوان نسلوں کو اس معاملے کی حقیقت معلوم کرنے میں غیر معمولی دلچسپی ہے؛ صرف اس لیے نہیں کہ وہ غیر مسلموں کے حملوں کی مدافعت کر سکیں، بلکہ بدرجۂِ اُولیٰ ‘وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي’کی غرض سے۔

2۔ ماضی قریب میں مستشرقین سے ہونے والی بحثیں بڑی حد تک ‘مذہبی’ بحثیں تھیں جس میں فریقین کسی نہ کسی مذہب کے پیرو ہی ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ یا تو ‘اپنے’ مذہبی پیشواؤں / مقدّس ہستیوں سے منسوب کچھ سوال طلب طرزِ عمل کی روایات پر اعتقاد انہیں پوری جرات سے سوال کرنے سے ہی روک دیتا تھا، اور یا پھر سوال کے جواب میں نفسِ مسئلہ کے علی الرّغم مسلمان اُن کی اپنی دینی تاریخ میں مذکور انحرافات کی نشاندہی کر کے ان کو سبکی کھانے پر مجبور کر دیتے تھے۔ مگر ہمارے دور میں الحاد پرستوں نے – خصوصی طور پر ‘جدید الحاد پرستی’ (New Atheism) کے معتقدین نے، جو صرف اسلام نہیں بلکہ تمام ادیان کے پیروؤں پر جارحانہ دلائل کی بوچھاڑ کیے ہوئے ہیں –  اس طرح کے سارے طرزِ تخاطب نا ممکن بنا چھوڑے ہیں۔ اُن کے نزدیک جب کوئی  مقدّس اور قابلِ حرمت ہستیاں ہی نہیں تو مسئلے کا خالص عقلی و تاریخی و اخلاقی جواب دینے پر ہی ڈیرے ڈالنا ہمارے دَور کی مجبوری ہو چلا ہے۔

یہ مضمون غیر مسلموں کو مخاطب نہیں بناتا، بلکہ اس کی نوعیت امّتِ مسلمہ کی ایک ‘In-house Discussion’ کی ہے۔ اس مضمون کا مقصد اس مسئلے پر ہونے والی بحثوں اور جانِبیَن – یعنی وہ مسلمان جو اس روایت کو درست مانتے ہیں اور وہ جو اسے غلط سمجھتے ہیں –  کے دلائل کا جائزہ لینا، اور ان زاویوں کی نشاندہی کرنا ہے جو ان مباحث میں اب تلک موضوعِ بحث نہ بن پائے ہیں مگر مسئلے کی تحقیق میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ گویا ایک طرح سے یہ مضمون بیک وقت اب تک ہونے والی بحثوں پر تبصرہ اور تشنہ یا غیر مذکور رہنے جانے والے زاویوں کا مرکب ہے۔

جانِبَین اور مجوّزہ طرزِ گفتگو

اس سے پہلے کہ نفسِ مسئلہ کا رُخ کیا جائے میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جانِبَین کی شناخت اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے محرکات کی نشاندہی قدرے تفصیل سے ہو جائے تا کہ طرزِ گفتگو پر جو گزارش میں پیش کرنا چاہتا ہوں اس کا جواز فراہم ہو سکے۔

اِس بحث کا ایک فریق وہ گروہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ امّاں عائشۃؓ کی عمر کے متعلق روایتی مؤقف ہی درست ہے۔ اس گروہ کا مرکزہ (nucleus) اصلاً دینی علما پر مشتمل ہے۔ پھر اُن مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد بھی اس  رائے میں ان کی ہمنوا ہے جو علما کی محافل میں اٹھتی بیٹھتی یا دین کی روایتی تعبیر کو ہی درست مانتی ہے۔ اِن کے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ان میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی بھی کچھ نمائندگی موجود ہے تو خلافِ واقعہ نہ ہو گا۔

اس گروہ کا بنیادی استدلال اس روایت کی اسنادی پختگی اور اسلاف کا اس پر اعتماد ہے۔ یعنی وہ اسے فنی اور علمی اعتبار سے ناقابلِ انکار سمجھتے ہیں۔ وہ جن موازین پر تول کر دین میں کھرے اور کھوٹے کو باور کرتے ہیں ، اُن موازین میں اس روایت کا وزن بھی باقی درجۂِ وثوق کو پہنچنے والی اخبار سے کسی قدر کم نہیں سمجھتے۔ پھر اپنے دعوے کو تقویت دینے کے لیے وہ کم سنی/قبل البلوغ کی شادیوں میں کوئی مستقل بالذات قباحت نہ ہونے کے مدعی اور تاریخ کی کچھ قرآئنی شہادتوں کی ناموافق  توجیہات کے غلط، جانبدارانہ یا ناکافی ہونے کے قائل ہیں۔

فریقِ آخر وہ گروہ ہے جو اس روایت کو درست نہیں سمجھتا۔ اس گروہ کا مرکزہ اصلاً جدید تعلیم یافتہ طبقے پر مشتمل ہے۔ پھر ان مسلمانوں کی بھی ایک قابلِ لحاظ تعداد اس رائے کی حامی دکھائی دیتی ہے جو مغرب میں پلے بڑھے یا وہاں خاطر خواہ وقت گزارا یا وہاں کے لوگوں سے منسلک رہے ہیں۔ بلکہ اس کو اگر سمتِ مخالف سے یوں بیان کیا جائے کہ جو لوگ مذہب کی روایتی تعبیر یا شدّت پسندانہ تعبیر  سے مرغوب نہ ہو پائے ہیں وہ زیادہ تر اسی رائے کے حاملین ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔

اس گروہ کے بنیادی استدلال رُسُل اللہ علیھم السلام کی اعلی اخلاقی قدروں کی ہمیشہ پاسداری اور قرآئن کی شہادتیں ہیں۔ یعنی وہ بنیادی طورپر یا تو مزعومہ فعل  کی شناعت و کراہت کے قائل ہیں اور اس سبب سے اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنے کے لیے تیار نہیں اور یا پھر قرآئن کی شہادتوں اور تاریخی واقعات کی روایات کو اپنا مؤیّد مانتے ہیں۔ چنانچہ وہ قدیم مؤقف کی تائید میں پیش کی گئی روایات کو عقلی اعتبار سے ناقابلِ قبول یا کم سے کم باعتبارِ ثبوت ناکافی سمجھتے ہیں۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ دونوں گروہ دینِ اسلام کے وقار و حقانیت کے قائل اور اس کی سچی تعبیر کی کھوج کے مسافر ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے مؤقف کا حامی اس لیے نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ یا اسلام کے تقدّس کو پامال کرنے کے درپے ہو یا غیر مسلموں کا جانتے بوجھتے آلۂِ کار بننا چاہتا ہو۔ چنانچہ کوئی وجہ نہیں کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلوص پر سوال اٹھائیں اور اس کے نتیجے میں وہ اہانت و حقارت آمیز رویہ اختیار کریں جو اب تک کی مراسلت میں اِلّا ما شآءَاللہ غالب نظر آتا ہے۔

الغرض دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلوص کا اعتراف کرتے ہوئے دوستانہ اور با ادب لب ولہجہ اختیار کریں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ معاملے کی تہہ تک پہنچنا ممکن ہو سکے گا بلکہ اقوامِ عالم کو ایک انتہائی حساس و جذباتی معاملے کے متعلق بحث و تمحیص میں بھی  اس دین کی سکھلائی ہوئی تہذیب کی شدّت و گہرائی کا اندازہ ہو سکے گا۔

اس اپیل کے ساتھ آئیے اب تک ہونے والی بحثوں کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔

جانِبَین کے دلائل کا جائزہ

عمرِ عائشۃ ؓ کو ایک واضح مسئلے کی حیثیت سے ماضی قریب کے کچھ محققین نے اٹھایا۔ ان میں غلام احمد پرویز، محمود احمد عباسی، ظہور احمد قریشی وغیرہ آغاز کنندگان میں قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے چند علمی و تاریخی دلائل کی روشنی میں حضرت عائشۃؓ کی شادی کے وقت عمر کے روایتی مؤقف سے اختلاف کیا۔ پھر حکیم نیاز احمد صاحب نے ‘کشف الغمہ عن عمر امّ الامہ’ اور علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی نے ’عمر ِسیدہ عائشہ پر ایک تحقیقی نظر  ‘میں تفصیل کے ساتھ بحث کرکے ان سارے دلائل کو جمع کردیا ہے جو ان کے نزدیک یہ بات واضح کر دیتے ہیں کہ نکاح کے وقت سیدہ کی عمر وہ نہیں تھی جو بیان کی جاتی ہے، بلکہ وہ ایک بالغ اور نوجوان خاتون تھیں۔بلکہ کاندھلوی صاحب نے تو اپنے مؤقف کی تائید میں سب سے زیادہ یعنی چوبیس (24)دلائل فراہم کر دیے۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ کاندھلوی صاحب کا رسالہ اس مسئلے میں فریقِ آخر کے سب دلائل کا ایک جامع اور اتمّ خلاصہ ہے تو غلط نہ ہو گا۔

فریقِ اوّل کے نمائندہ علما نے ان دلائل کا وقتاً فوقتاً ردّ شائع کیا۔ اگرچہ متعدد علما نے چیدہ چیدہ دلائل پر اپنی تنقید اور تجزیہ نقل کیا جن کو یہاں شمار کرنا ممکن نہ ہو گا، تاہم میری نظر سے گزرنے والے فن پاروں میں سے تین اصحاب کا کام اس سلسلے میں بہت جامع ہے۔ فہد بن محمد بن محمد الغفیلی کی کتاب ‘السّنا الوھّاج فی سنّ عائشۃ عند الزّواج’ اور حافط ثناء اللہ ضیاکی کتاب ‘عمرِ عائشۃؓ کی تحقیق اور کاندھلوی تلبیس کا ازالہ’ میں تمام دلائل کا نکتہ بہ نکتہ جواب دیا گیا ہے۔ اور عمار خان ناصر صاحب کا مجلّہ ‘الشریعہ’ اپریل 2012  کے شمارے میں شامل مضمون بعنوان ‘رخصتی کے وقت امّ لمؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر’میں اہم دلائل کا مختصر مگر جامع تجزیہ کیا گیا ہے۔ پہلے دو اپنی تفصیل اور تیسرا اختصار کے باعث فریقِ اوّل  کے دلائل کا ایک جامع مطالعہ فراہم کرتے ہیں۔

اہم کتب و رسائل کی نشاندہی کے بعد آئیے اب اہم دلائل اور ان کے جوابات کا تجزیہ کرتے ہیں۔

روایات کی اسنادی حیثیت

روایتی مؤقف پر سب سے قوی ‘فنّی’ اعتراض اس دلیل کی صورت میں سامنے آیا کہ حضرت عائشہؓ کی کم سنی میں شادی کی دعویدار روایت جن طرق سے ہم تک پہنچی ہے ان سب کے رواۃ میں ایک مشترک راوی ہشام بن عروہ ہیں، جو اگرچہ رشتے میں تو حضرت عائشہؓ کے بھانجے عروہ بن زبیرؓ کے بیٹے ہیں، مگر چونکہ اُن کی131 ہجری کے بعد اور/یا عراقیوں سے ملنے والی روایات کو ہمارے اسلاف نے اصولی طور پر مردود جانا تھا اور یہ بھی اسی نوعیت کی روایت ہے اس لیے ناقابلِ قبول ہے ۔ یہ دعویٰ اگر درست ہوتا تو قطعِ نظر اس سے کہ ہشام پر اٹھائے گئے اعتراضات کس قدر فیصلہ کن ہوتے، ان کا اس روایت میں متفرّد ہونا ہی شاید اُس بنیادکو منہدم کر دیتا جس پر روایتی مؤقف قائم ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ فریقِ اوّل نے ایسی متعدد طرق اور روایات سامنے رکھ دیں جو ہشام بن عروہ کے واسطے سے نہیں تھیں۔ اس کے بعد ظاہر ہے کہ یہ استدلال قطعاً قابلِ اعتنا نہیں رہتا۔ تاہم اس استدلال کی بازگشت اب بھی فریقِ ثانی کے مضامین میں سننے کو ملتی رہتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جوابی استدلال اب تک ان کے مطالعے میں آ نہیں سکا یا وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔

تاریخی قرآئن پر جانِبَین کے دلائل اور نتائجِ مختلفہ پر تبصرہ

حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شادی کے وقت عمر کا تعیّن اپنی اصل کے اعتبار سے ایک تاریخی قضیہ ہے۔ یعنی نہ تو اللہ نے اس کا ذکر قرآن میں فرمایا ہے اور نہ ہی کوئی قولِ رسولﷺ ایسا ہے جس میں عمر مذکور ہو۔ پس اس کی نوعیت ایک ایسے تاریخی واقعے کی ہے جس کے بارے میں یہ طے کرنا ہے کہ وہ پیش آیا کہ نہیں اور اس کی تفصیلات کیا تھیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ   تاریخی تحقیق میں جس طرح کسی مسئلے سے متعلق شخصیات کے براہِ راست اقوال  کی جانچ پڑتال اہمیت کی حامل ہوتی ہے اسی طرح دوسرے واقعاتی قرآئن کے ساتھ تکرار و تطبیق سے بھی کسی  دعوے کی تصدیق و تکذیب  بہت ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً اگر یہ دعوٰی تاریخ میں کسی شخص سے منقول ہو کہ اُس نے فلاں فلاں جگہیں فتح کیں، یا اُس نے فلاں فلاں کام کیے، یا اُس کی عمراِن کاموں کے وقت فلاں فلاں تھی، تو یہ دیکھا جائے گا کہ اُس دَور کی جو تاریخ ہمیں ملتی ہے وہ عمومی طور پر اِن دعاوی کی تصدیق کرتی ہے کہ نہیں۔ مثال کے طور پر اگر تاریخ کے مطالعے میں متعدد بالواسطہ قرآئن ایسے ملیں کہ اس کی فوج تو فلاں جگہ پہنچ ہی نہ پائی تھی، یا مزعومہ کام کرنے کی اس میں استعداد ہی نہ تھی، یا پھر اس شخص کی عمر فلاں شخص کے جتنی تھی  جو اس کے دعوے کی نفی کر دیں تو کسی بھی محقّق کے لیے یہ ایک تجزیاتی فیصلہ قرار پاتا ہے کہ وہ مبیّنہ دعوے کو درست مانے یا ردّ کر دے۔

بالفاظِ دیگر زبانِ قال اور زبانِ حال میں بظاہر تصادم پایا جائے تو اس امر کی تحقیق ضروری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس معاملے کے محققین نے بھی ایسے متعدد قرآئن پیش کر دیے جن سے فریقِ ثانی اپنے مؤقف کی تائید کے دعویدار ہوئے ۔ ان قرآئن کا اگر خالی الذہن ہو کر مطالعہ کیا جائے، کمزور دلائل کو منہا بھی کر دیا جائے، تو عائشہؓکا کم سے کم بچپنے کی حدود سے پار ہونا قرین ازقیاس لگتا ہے۔تاہم ان قرآئن کو ضم کرنے کے بعد بھی فریقِ اوّل انہیں حضرت عائشہؓ سے منسوب قولی روایات کو بے اثر کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھتے۔ نتیجتاً دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر متحجر سے ہو گئے ہیں۔ میں جتنا سمجھ پایا ہوں اس اختلاف کا باعث انفرادی دلائل کی داخلی قوت نہیں بلکہ ایک اصولی علمی رویّے کی کشمکش ہے، جس کی تحلیل بہت ضروری ہے۔

تفہیم کے واسطے ایک علمی رویّے کو محدّثانہ اور دوسرے کو مؤرّخانہ[i] کہہ لیتے ہیں۔ محدّثانہ سے مراد وہ رویّہ ہے جس میں کسی شخصیت سے منسوب قولی روایت کے رایوں کی اگر تحقیق کر لی جائے تو وہ ایک ایسے ناقابلِ انکار ثبوت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے جس کی تلافی کسی مثلِ آفتاب دلیل سے کم سے نہیں ہو سکتی۔ اگر قرآئن اس کے خلاف بھی جاتے ہوئے محسوس ہوں تو جب تک اُن کی تاویل بالکل ناممکن نہ ہو جائے، وہ فیصلہ کن نہیں سمجھے جاتے۔

مؤرّخانہ سے مراد وہ رویّہ ہے جس میں کسی تاریخی واقعے کی تحقیق کے لیے کسی ہستی کا کوئی دعوٰی – خواہ وہ اپنے متعلق ہی کیوں نہ ہو— قرآئن میں سے بس ایک قرینہ ہو۔ چنانچہ تمام بالواسطہ قرآئن اور عقلی و منطقی تقاضوں کی تضمیم کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے کہ معاملے کی کونسی صورت قرینِ قیاس لگتی ہے۔ اور غیر معمولی دعاوی کو قبول کرنے کے لیے ہوا بند اور آہن پوش شواہد درکار سمجھے جائیں جو اگر میسّر نہ ہوں تو نامعقول دعاوی کو ردّ کر دیا جائے۔ اس رویّے میں صریح دعویٰ کرنے والی براہِ راست روایت  کسی ایسی حرمت کی حامل نہیں سمجھی جاتی کہ اس کو کسی واقعے کی تحقیق میں قرآئن کے مخالف یا بعید از قیاس ہونے کے سبب ردّ نہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رویّے کے حاملین ‘رجال’ کی بحثوں کے بجائے اصلاً ‘امکانِ وقوع’ کی بحثوں کے قائل ہوتے ہیں۔

چنانچہ زیرِ بحث مسئلے میں ہوا یہ ہے کہ فریقِ اوّل محدّثانہ روش کا قائل اور فریقِ ثانی مؤرّخانہ نقطۂِ نگاہ کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فریقِ ثانی عمر کے متعلق صریح نصوص کی موزونیت سے مرغوب نہیں ہوتا اور فریقِ اوّل بات یہاں سے شروع کرتا ہے کہ چونکہ روایات ‘صحیح’ ہیں اس لیے قرآئن کی تاویل حتی الامکان کی جائیگی۔ یعنی چاہے روایات ایک انتہائی خلافِ معمول فعل کی دعویدار ہوں، مبیّنہ قرآئن یہ بتاتے ہوں کہ رخصتی کے وقت اور اس کے گرد و نواح میں حضرت عائشہؓ ایسی عمر میں تھیں جس میں انہیں جنگوں میں شامل کیا گیا، بیماروں اور زخمیوں کی تیمارداری پر مامور ہوئیں، اپنی بہن اور سوتیلی بیٹی کی عمروں کے ساتھ موازنے کے نتیجے میں ان کی عمرمختلف بنتی ہے، اور مؤرّخین انہیں اولین اسلام لانے والیوں میں شامل کرتے تھے۔۔۔مگر فریقِ اوّل ‘غیر معمولی ذہانت و صلاحیت’  یا دوسری ملتی جلتی تاویلات کر کے تمام قرآئن کی موافق توجیہہ کر دیتے ہیں  ۔الغرض یہ ایک ایسی ناقابلِ مصالحت پیچیدگی ہے جسے عبور کرنا فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

بنا بریں حاصلِ کلام یہ ہوا کہ  فیصلہ قارئین نے خود کرنا ہے۔ جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے چونکہ یہ فقط ایک تاریخی واقعہ ہے  اس لیے’مؤرّخانہ’ اندازِ فکر – جس میں بنیاد امکانِ وقوع سے اٹھائی جائے– زیادہ موزوں ہے۔

مجوّزہ علمی رویّے کے حق میں ایک تجرباتی دلیل

آخرالامم ہونے کے ناطے ہمیں یہ امتیازی خوش قسمتی حاصل ہے کہ ہم اپنے سے قبل امتوں کی غلطیوں سے وافر سبق سیکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پروردگار نے بنی اسرائیل کے احوال ہمیں تفصیل سے سنائے۔ اس کا مقصد دیگر مقاصد کے ساتھ یقیناً یہ بھی تھا کہ ہم وہ غلطیاں نہ دہرائیں جو ہم سے پہلے لوگوں سے سر زد ہوئیں۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ‘روایت پرستی’ کا نظریہ بنی اسرائیل کے ہاں بھی شدّت سے پیدا ہوا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ انہوں نے اپنے انبیاء و صالحین کے متعلق یا ان سے منسوب ایسی قبیح  اورو اہی باتوں پر یقین کیا کہ اُس پر دل خون کے آنسو روئے تو بھی کم ہے۔ نقلِ کفر کفر نہ باشد— وہ لوطؑ کی اپنی بیٹیوں سے ہمبستری، ابراہیمؑ سے زنا، داو ٗدؑ سے سازشِ قتل  وغیرھم کے ارتکاب کے قائل ہوئے۔ یہ نتائج اسی لیے نکلے کہ انہوں نے اُن روایات پر تو اعتماد کیا جو اُن تک پہنچیں پر زبانِ حال کو بالکل نظر انداز کر دیا جو چیخ چیخ کر پکار رہی تھی کہ یہ افکٌ مبین ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی بلکہ دنیا کی تاریخ کے بڑے ترین مؤرّخین میں شمار ہونے والے— اور بہت سوں کے نزدیک مؤرّخین کے سرِخیل—ابنِ خلدون نے ‘مؤرّخانہ’ علمی رویّہ اختیار و تجویز کیا جس کے نتیجے میں انہوں نے بہت سے ایسے روایتی مؤقف ردّ کر دیے جن کی تائید میں ڈھیروں روایات موجود تھیں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس رویّے کو ہمارےحلقۂِ علما و مشائخ میں عمومی قبولیت نہ حاصل ہو سکی۔ درانحالیکہ خود ہمارے صحابہؓ سے ایسی کتنی ہی مثالیں منسوب ہیں جہاں انہوں نے کسی راوی کی روایت – بغیر اس کے کہ راوی کے ضبط یا کذب پر کوئی سوال اٹھایا گیا ہو – کو علم و عقل کی بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اور یہ باوجود اس کے ہوا کہ راویِ اوّل اُن کے درمیان موجود تھا اور ان کے سامنے دعوٰی کر رہا تھا۔ بلکہ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جن میں مبیّنہ اخبار کو بے ہودہ یا بہتان ہونے کی بنیاد پر ردّ کر دیا گیا قبل اس سے کہ اُن کے رجال کی تحقیق کر لی جاتی ،اور اس طرزِ عمل کی تصویب خود باری تعٰالیٰ نے بھی کر دی[ii]۔

بدیں وجہ ہمارے لیے یہی مناسب ہے کہ ہم کسی غیر معمولی خبر کے متعلق تحقیق کے آخری درجے تک جائیں چاہے ہمیں سطح پر ہی ایک طرح کا جواب ملتا دکھائی کیوں نہ دے۔ یہ علم و عقل کا تقاضا اور یہی قرآن و سنت کا مدعا بھی ہے۔

اصل میں اُنِّیس (19) تھا جو غلطی سے نَو (9) رہ گیا؟

فریقِ آخر کے بعض محققین نے حضرت عائشہؓ سے منسوب اپنی عمر کے متعلق روایات کو ردّ کرنے کی بجائے قرآئن کے ساتھ تطبیق کی کوشش کی ہے ۔ اُن کااستدلال یہ ہے کہ جس طرح انگریزی زبان میں بیس (20) سے اوپر کے اعداد کو مرکب اعداد (جیسے 21 کو Twenty One، یعنی بیس اور ایک) کے طور پر بولا جاتا ہے عربی زبان میں یہی معاملہ دس (10) کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے (جیسے 11 کو أَحَدَ عَشَرَ، یعنی دس اور ایک)۔چنانچہ راویوں نے یا تو سننے میں غلطی کی اور یا پھر کلام میں ‘بعد العشر’ (یعنی دس کے بعد) کے مقدر الفاظ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔

اگرچہ روایات کے بالاستیعاب مطالعے کے بعد بھی کسی بھی طریق میں کوئی ایسا اضطراب نظر نہیں آتا جو اس استدلال کو تقویت بخشے، تاہم ایک اور وجہ سے یہ بعید از قیاس ہے۔ وہ یہ کہ اس سلسلے کی بعض روایات [iii]میں صرف 6 اور 9 سال ہی مذکور نہیں بلکہ ان دو عمروں  کے ساتھ ایک ہی ترتیب میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب نبی اکرم ؐ نے وفات پائی تو اُنؓ کی عمر 18 (ثَمَانَ عَشْرَةَ) برس تھی۔ یعنی یہ ایک تدریجی (categorical) اور اندرونی طور پر اتنا مربوط بیان ہے کہ اس طرح کے عقلی احتمالات کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ پھر ‘عشرہ’ کا لفظ اگر ایک عدد کے لیے عبارت میں موجود ہے تو ظاہر ہے باقیوں کے لیے اس کا سہواً چھوٹ جانا یا مقدر ہونا اور ‘عشرین’ کا ‘عشرہ’ ہو جانا بظاہر معقول نہیں لگتا۔

پس یہ طرزِ استدلال تو کمزور ہے۔

نکاحِ عائشہؓ کا پسِ منظر

حضرت عائشہؓ  کے ساتھ نبی ﷺ کے نکاح کا پسِ منظر  –  جو روایتی مؤقف کے حاملین کے یہاں بھی صائب ہے – کے ایک اندرونی تضاد کو بھی فریقِ ثانی کے محققین نے اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ تاریخ کی تحقیق میں جس طرح کسی واقعے کےصدورکی ذاکرہ روایات اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں اسی طرح واقعے کی وجوہات و علل اور پیش خیمہ بننے والے واقعات بھی قابلِ توجّہ ہوتے ہیں۔

ایک روایت[iv] کے مختلف متون کو جمع کر کے دیکھا جائے تو اس میں مذکور ہے کہ جب نبی ﷺکی پہلی زوجہ اور عمر بھر کی ساتھی حضرت خدیجہؓ انتقال فرما گئیں تو ایسا نہیں ہوا کہ نبی ﷺ نے خود کسی نئی زوجہ کی تلاش شروع کر دی ہو۔ بلکہ آپؐ کی بھاوج خولہ بنتِ حکیمؓ کو آپؐ کی تنہائی کا احساس ہوا اور انہوں ؓنے خود اپنی جانب سے یہ تجویز پیش کی کہ چونکہ آپؐ بالکل تنہا ہو کر رہ گئے ہیں تو کیوں نہیں شادی کر لیتے۔ اگر آپؐ اس کے لیے تیار ہوں تو وہؓ آپؐ کی جانب سے بات کرنے – یعنی  رشتے کا پیغام لے کے جانے –  کے لیے تیار ہیں۔ آپؐ نے رضامندی کا اظہار کیا۔ اس پر بھی بجائے اس کے کہ اپنیؐ جانب سے کسی کا نام تجویز فرما کر کہتے کہ فلاں جگہ بات آگے بڑھائی جائے، آپؐ نے صاف اس انداز میں کہ جیسے اس بارے میں آپؐ کی کوئی رائے ہی نہ ہو حضرت خولہؓ ہی سے نام دریافت فرمایا۔ صحابیہؓ نے فرمایا کہ اگر آپؐ چاہیں تو ثیّبہ (شوہر دیدہ) بھی ہے اور اگر چاہیں تو باکرہ (کنواری) بھی۔باکرہ لوگوں میں آپؐ کے سب سے محبوب شخص حضرت ابو بکرؓ کی بیٹی عائشہؓ ہیں، اور ثیّبہ آپؐ پر ایمان لانے والی اور آپؐ کا اتباع کرنے والی سودہؓ ہیں۔اس پر آپؐ نے دونوں طرف پیغام کا عندیہ دیا۔

چونکہ فریقِ اوّل اس بات کے قائل ہیں کہ اس پیشکش کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر چھ (6) برس تھی  فریقِ ثانی اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو نہ حضرت خولہؓ انہیں شادی کے قابل (eligible) ہونے کی حیثیت سے پیش کرتیں اور اگر کر بھی دیتیں تو  آپﷺ اس پر اس علت کے سبب کہ وہ تو ابھی بچی ہیں  قبول نہ فرماتے۔ "بیوی کی ضرورت زن و شو کے تعلق کے لیے ہو سکتی ہے، دوستی اور رفاقت کے لیے ہو سکتی ہے، بچوں کی نگہداشت اور گھر بار کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چھ سال کی ایک بچی اِن میں سے کون سی ضرورت پوری کر سکتی تھی؟ کیا اُس سے زن و شو کا تعلق قائم کیا جا سکتا تھا؟ کیا اُس سے بیوی کی رفاقت میسر ہو سکتی تھی؟ کیا وہ بچوں کی نگہداشت کر سکتی تھی؟ کیا گھر بار کے معاملات سنبھال سکتی تھی؟ سیدہ کی عمر سے متعلق روایتوں کے بارے میں فیصلے کے لیے یہ قرائن میں سے ایک قرینہ نہیں، بلکہ بنیادی سوال ہے۔ کیا عقل باور کر سکتی ہے کہ جو ضرورت آج ہے، اُس کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسی تجویز پیش کی جائے جس کے نتیجے میں وہ برسوں کے بعد بھی پوری نہیں ہو سکتی ؟”[v]

یہ ایک معقول اور قوی استدلال ہے، اس لیے بھی کیونکہ اخلاقی کے بجائے عقلی جواز کو بنیاد بناتا ہے۔ تاہم فریقِ اوّل نے ایسے اعتراضات کیے ہیں جن سے اُن کے بیان کے مطابق اس استدلال کا وزن ختم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان میں سے معقول اعتراضات کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔

ایک توجیہہ یہ پیش کی گئی ہے کہ دراصل حضرت خولہؓ کی مراد بیک وقت دونوں نکاحوں کی تھی تا کہ نبیؐؐ کی دو مختلف حاجات پوری ہو سکیں۔ ایک فوری خانگی ضروریات کو پورا کرنے  کی اور ایک حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ اپنے رشتے کو گہرا کرنے کی۔چنانچہ حضرت عائشہؓ سے شادی کا مشورہ فی الفور رخصتی کے ارادے سے دیا ہی نہیں گیا تھا۔ اس کی تائید میں دو قرآئن پیش کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ عملاً ایسا ہی ہوا، یعنی پیغام دونوں کو بھیجا گیا اور ایک کی رخصتی فوراً عمل میں لائی گئ اور دوسری کو مؤخر کر دیا گیا۔ اور دوم یہ کہ حضرت عائشہؓ سے شادی کی تجويز کے الفاظ میں جو یہ فرمایا گیا کہ "لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب شخص کی بیٹی”  اس سے صاف واضح ہے کہ یہ تجویز اپنے اندر دونوں دوستوں میں تعلق کو مزید مضبوط کرنے کا اصل او ر اہم تر محرّک لیے ہوئےتھی ۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اسی روایت کے متن میں حضرت عائشہؓ کی عمر کی تعیین خود اپنے قول کے مطابق بھی چھ اور نو صراحتاً مذکور ہے۔ چنانچہ یا تو اس روایت کو پورا قبول کیا جائے اور یا پھر اگر اسے  اندرونی تضاد ہی سمجھنا ہو تو پھر اس مبینہ درونی غیر مربوطی (Intrinsic Incoherence) کے باعث اسے پورا ردّ کر دیا جائے، جس سے ظاہر ہے کہ علت کی یہ واحد روایت ہی منہا ہو جائے گی اور تضاد کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی۔

تاہم یہ دونوں اعتراضات محلّ نظر ہیں۔

پہلے اعتراض کو لیجیے۔ یہ تاویل اگرچہ روایت ہی میں مذکور حضرت خولہؓ کے صریح الفاظ (ان شئت بکراً و ان شئت ثیّبًا) کے بھی خلاف ہے جو واضح طور پر دو میں سے ایک شئے کے انتخاب کے لیے ہی بولے جاتے ہیں، مگر چونکہ روایات اکثر بالمعنیٰ ہوتی ہیں اس لیے قطعی الفاظِ عبارت سے استدلال ہمیشہ کوئی بہت وزنی چیز نہیں ہوتی۔چنانچہ اس کا خلافِ قیاس ہونا زیادہ اہم دلیل ہے۔ یعنی یہ تجویز ایک ایسے شخصؐ کو دی جا رہی تھی جس نے اپنا سارا شباب ایک ہی رفیقۂِ حیات کے ساتھ بسر کر دیا تھا اور یہ اس شخص نے اپنے معاشرے کے تعدّدِ ازواج کے عام رواج کے علی الرّغم کیا تھا ۔ پھر تجویز دینے والیؓ بھی کوئی اجنبیہ نہ تھیں جو حضورؐ کے ماضی و مزاج سے ناواقف ہوتیں کہ ایک سوگوار شخص کو ایک نہیں بلکہ اس کی طبیعت کے بالکل برخلاف دو دو نکاحوں کا مشورہ دیتیں۔اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ دو نکاحوں کی بیک وقت تجویز کی توجیہہ کو خلافِ عبارت اور خلافِ قیاس ہونے کے سبب قابلِ التفات سمجھا جائے۔

رہے قرآئن، کہ بالفعل ایسا کیوں ہوا –  ایک کی بجائے دونوں کو پیغام کیوں بھجوايا گیا اور ایک کی رخصتی تاخیر سے کیوں ہوئی— تو اس میں سے صرف رخصتی دیر سے کیوں ہوئی مضمونِ حاضر سے متعلق ہے۔ یعنی اگر رخصتی تاخیر سے کرنے کا اردہ حضورؐ  کا پہلے سے ہونا ثابت ہو جائے تو حضرت عائشہؓ کا زوجیت کی عمر سے کم ہونا قابلِ التفات ہو سکتا ہے۔اس پر دو تین باتیں عرض ہیں۔

ایک تو یہ کہ متنِ حدیث میں ایسی کوئی بات موجود نہیں جس سے یہ باور کیا جا سکتا ہو کہ ایسا کرنا ‘pre-planned’ تھا۔حضرت خولہؓ نے عائشہؓ کو بالکل حضرت سودہؓ کے ہم پلہ پیش کیا۔ نہ انہوںؓ نے، نہ حضورؐ نے اور نہ ہی عائشہؓ کے والدین نے اتنی اہم بات کا کوئی بھی اشارہ دیا۔ دوسرے یہ کہ نکاح فی الفور یا عنقریب رخصتی کے ارادے ہی سے کیا جاتا ہے۔ کوئی آدمی یہ گوارا نہیں کرتا کہ عقدِ نکاح ہونے کے بعد بھی اس کی زوجہ اپنے والدین کے گھر پر ہی بیٹھی رہے ۔اگر اسے پہلے سے پتہ ہو کہ رخصتی نہیں کرنی یا نہیں ہو سکتی تو پھر نکاح میں تاخیر ہی متوقع رویّہ ہے۔ اور تیسرے اگر عمر کم ہونے کے سبب رخصتی تاخیر سے کرنا متضمّن ہوتا تو وعدۂِ نکاح یا سگائی کفایت کرتا۔ یہ منطقی بھی ہے اور عرب کا رواج بھی یہی تھا۔ بلکہ حضرت عائشہؓ خود بھی اس سے پہلے اسی رواج کے مطابق مطعم بن عدی کے بیٹے کے ساتھ منسوب (betrothed) تھیں۔

رہی یہ بات کہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ شادی کی تجویز میں مذکور الفاظ ‘ابنۃ احبّ خلق اللہ عزّ و جلّ الیک’ سے کوئی اس نوعیت کا استنباط درست بھی ہے کہ نہیں، تو اس پر عرض ہےکہ کسی بھی عورت سے شادی کی تجویز جب بھی دی جاتی ہے اس انتخاب کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہی بتائی جاتی ہے۔ یہ معمول ہے اور اس کا مقصد بس یہ ہوتا ہے کہ گرد و پیش میں موجود آخر اتنی بہت سی شادی کے قابل رشتوں میں سے یہی کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح حضرت عائشہؓ کے انتخاب کی وجہ بتائی گئی اسی طرح حضرت سودہؓ کی بھی بتائی گئی۔ اس معمول کے عمل سے اس طرح کا کوئی استنباط  کہ جس کے نتیجے میں مجوّزہ لڑکی کی اہلیتِ شادی (Eligibility for marriage) پس عمر سرے سے غیر اہم قرار پائے— ایک متجاوز استنباط ہے۔

دوسرے اعتراض پر عرض ہے کہ اندرونی تضاد کا جو حل پیش کیا گیا ہے وہ ‘محدّثانہ’ طرزِ فکر کے حاملین کے لیے یقینا قابلِ عمل ہو گا، تاہم ‘مؤرّخانہ’ نظریے کے حاملین کے لیے ایسا کرنا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک تو اس طرح کے تضادات ہی اکثر صحیح ماجرے تک رسائی ممکن بناتے ہیں۔ اور یہاں تو یہ روایت جس تضاد کی نشاندہی کے لیے پیش کی گئی ہے وہ تو اس روایت  کے بغیر بھی لازماً حل طلب ہے۔ یعنی زوجیت کی وہ کونسی قابلیت تھی جس نے اس رشتے کو معقول بنایا۔

بدیں وجہ میرے نزدیک اس استدلال  کا وزن پوری طرح باقی ہے اور اس کے مقابل میں جو اعتراضات بھی پیش کیے گئے ہیں وہ کمزور ہیں۔

کم سنی کی شادی کی حیثیت تاریخ کے آئینے میں

یہ تو طے ہے کہ باقتضائے عہدِ حاضر کم سنی –  جیسے نو (9) برس اَوْ نحوھا –  میں لڑکیوں سے تعلقِ زن و شو قائم کرنا عقلی ، احشانی اور جذباتی سب ہی اعتبارات سے قابلِ کراہت چیز ہے۔ کم از کم دورِ حاضر میں تو اِس سے انکار ناممکن اور احمقانہ ہے۔ یعنی چاہے یہ تقریر مغربی تہذیب کے زیرِ اثر ماضی قریب میں ہوئی ہم میں سے ہر ایک نہیں تو کم سے کم جدید تعلیم یافتہ طبقے نے تو اپنے پورے اخلاقی وجود میں اس کی قوت کو محسوس کیا  اور پورے شعور سے اس کی توثیق کی ہے۔ بلکہ اس کی شناعت اس درجے کی ہو چلی ہے کہ ایسا معاملہ پاکستان کی طرح کے ایک تیسری دنیا کے ملک میں بھی چاہے باہمی رضامندی سے ہی پیش آیا ہو سماج عمومی طور پر اسے قابلِ دست اندازیِ معاشرہ سمجھتے ہوئے کالعدم قرار دینے کے لیے اقدام کا حق استعمال کرتے نہیں جھجھکتا۔ چنانچہ معاصر فکر میں اس فعل کے امتناع کے خلاف کسی نئی بحث کی کوئی وجہ موجود نہیں ۔تاہم کسی بھی محقق کے لیے یہ ابھی بھی ایک قابلِ غور مسئلہ ہے یا ہونا چاہیے کہ عقلی، احشانی اور جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ کیا یہ ایک فطری نتیجہ بھی ہے؟ اس سوال کا جواب اس لیے اہم ہے کہ اگر یہ جواب اثبات میں ہوا تو اس کا مؤثر بہ ماضی ہونا منطقی ہو گا، اور کم سنی کی شادیوں کی کراہت کومطلق مانتے ہوئے چودہ سو برس پہلے کے ایک معاشرےمیں بھی اسے ایک اخلاقی گراوٹ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا— خصوصاً وہ معاشرہ جو اسلام کی روشنی سے منوّر ہو چکا تھا۔ اہلِ مغرب کا یہی نظریہ ہے اسی لیے وہ اسے اخلاقی گراوٹ ہی سمجھتے ہیں۔ اور اگر اس کا جواب نفی میں ہوا تو اعتباری اور غیر مطلق ہونے کی وجہ سے ماضی کے دریچوں پر کوئی حکم لگاتے ہوئے اُس دَور کی روحِ عصر کے زیرِ اثر اس رویّے کو اخلاقی گرفت سے باہر، اُس زمانے کی انسانی نفسیات اور معیاری طرزِ عمل کے عین مطابق بھی سمجھنا ممکن ہو گا۔ اسی لیے یہ نکتہ ہمارے اطمینانِ قلب کے لیے شائید سب سے اہم ہے۔

اگرچہ فطری و غیر فطری کی بحث میں بہت سے عوامل کا تجزیہ ضروری ہے تاہم یہاں اُن سب کا احاطہ کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ موزوں۔ اس کے لیے تو ایک مکمل مقالہ ہی کفایت کرے گا۔ سرِ دست اس کے ایک اہم عامل یعنی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں جو ہمارے مضمون سے براہِ راست متعلق بھی ہے۔ مگر اس سے پہلے کہ ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں پہلے اپنے دَور میں ہی دائیں بائیں نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ سنِّ بلوغ، سنِّ زوجیّت، سنِّ رضامندی وغیرہ نہ صرف یہ کہ ایک نہیں ہیں بلکہ آج بھی مختلف ممالک میں باہم دگر مختلف ہی ہیں۔ یہ عمریں عموماً 14 سے 21 کے درمیان ہوتی ہیں، جس میں کم سے کم عمرِ زوجیت اکثر 18 برس مقرر کی جاتی ہےجس میں لڑکیوں کے لیے 14 برس آج بھی متفرّقاً رائج ہے۔ تاہم یہ سب جانتے ہیں کہ یہ لکیریں زیادہ تر عملی فائدہ مندی (pragmatism) کے اصول کے تحت کھینچی گئی ہیں اور کم اخلاقی جواز کے اصول پر۔حدِّ فاصل کی تصویب میں اگر اتنا انشار آج کے دن بھی موجود ہے تو کوئی بھی محقق یہ جان سکتا ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا عموماً  مغربی فکر میں تصوّر کیا جاتا ہے۔

ماضی کی طرف نگاہ دوڑائیں تو اس موضوع پر لکھی جانے والی تمام تحقیقیں اس سے ملتے جلتے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں کہ "تاریخی طور پر بچپنے میں شادی کا رواج اور بلوغت سے قبل لڑکیوں کی سگائی کا رواج عام تھا۔ "زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو سولوھویں (16th) صدی عیسوی کے متعلق بھی مؤرّخین کا یہ خیال ہے کہ بچپنے کی شادی اتنی عام تھی کہ گویا قاعدہ (Norm) تھا[vi]۔ مشہور شادیاں اس کے لیے ثبوت کے طور پر بھی پیش کی جاتی ہیں جیسے مثلاً1689 میں ورجینیا، امریکہ میں میری ہیتھوے (Mary Hathaway) کی جب ولیم ولیمز (William Willams) سے شادی ہوئی تو وہ نو 9 برس کی تھی۔ بلکہ امریکہ میں تو انیسویں صدی کے اختتام سے کچھ پہلے تک سنِّ رضامندی 10-12 سال کے درمیان تھا[vii] (ڈیلاویر میں اس  سے بھی کم 7 سال تھا)۔ سترھویں صدی برطانیہ کے ایک معروف قانون دان سر ایڈورڈ کوک (Sir Edward Coke) سے اپنے دَورکے بارے میں منقول ہے کہ "بارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی عام تھی اور نو (9) سال کی لڑکی مہر کے حصول کی حقدار سمجھی جاتی تھی۔”[viii] رضامندی کی نوعیت (Nature of Consent) کے بارے میں قدیم اور قرونِ وسطٰی کے اسرائیلی رواج کے بارے میں فریڈمین (Friedman) لکھتا ہے کہ "کسی بچی کی شادی کا انتظام و عقد کرنے کا باپ کو ناقابلِ نزاع استحقاق حاصل تھا”[ix]۔ اسی دَور میں یورپ میں سات (7) سال سے بڑے لڑکا لڑکی کے درمیان عقدِ نکاح کو جائز سمجھا جاتا تھا[x] اور کبھی کبھار اس سے کم عمر میں بھی[xi]۔ بلکہ بہت سے قارئین کے لیے  شائید یہ دلچسپ انکشاف ہو کہ مشہور فرانسیسی مؤرّخ فیلیپ آرییس (Philippe Ariès) کی تحقیق کے مطابق "بچپنا” کوئی فطری نظریہ ہے ہی نہیں بلکہ سترھویں صدی سے پہلے اس کا کسی ممیّز مرحلۂِ زندگی کی حیثیت سے وجود ہی نہیں تھا[xii]۔ بچے اصلاً ‘چھوٹے جوان’ (Mini-adults) کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔یہ روشن خیالی اور عہدِ رومانوی کی تحریکیں تھیں اور صنعتی انقلاب کے بعد حاصل ہونے والی معاشی آسودگی تھی جس نے اٹھارویں صدی میں بچپنے کے نظریے کو مستقل بالذات وجود بخشا، جس کے نتیجے میں عمرِ شادی اور عمرِ رضامندی کو قانوناً بلوغ کی دہلیز پر یا اس کے ورا قرار دے دیا گیا اور بچپنے میں شادی کو قابلِ کراہت۔

اس سے زیادہ تفصیل میں جانا یہاں موزوں نہیں ۔ سمجھانا یہ مقصود تھا کہ تاریخ کے تتبع سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ شادی بیاہ کے لیے جسمانی بلوغ ہمیشہ سے ایک واضح قدرتی مظہر اور عاملہ سمجھا جاتا تھا مگراس کی حیثیت کسی حدِّ فاصل کی کبھی نہیں رہی۔ کوئی موزوں رشتہ مل جانے پر بلوغ کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا۔ اخلاقی قباحت تو دُور کی بات ایسا کرنا ساری دنیا میں ہی استثنا نہیں بلکہ تقریباً معمول تھا۔  بلوغ بھی 12، 14 سال کی عمر میں مکمل تصور کیا جاتا تھا۔ اور کم سنی کی شادیوں کے لیے رضامندی کا غیر متنازع استحقاق باپ کو ہی حاصل تھا۔ مشرق و مغرب میں اس درجے مشترک، محیط، اثر پذیر اور مروّج ہونے کے سبب کم سنی کی شادی کا غیر فطری ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

مجھے معلوم ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے اس سب کو ہضم کرنا آسان نہیں اور ان حقائق پر حیرانی بالکل بجا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات مرورِ زمانہ سے انسانی نفسیات میں کچھ ایسی تخمی اور مہیب تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں کہ ماضی قریب بھی کسی اور سیّارے کی داستان لگتا ہے۔ مثال کے طور پر غلاموں کی خرید و فروخت یا مملوکہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق کے بارے میں سوچ کر بھی کراہت آتی ہے۔ زوجَین کی عمروں میں ایک خاص حد سے زیادہ فرق بھی قابلِ اعتراض لگتا ہے۔ بلکہ اب تو تعدّدِ ازواج بھی معیوب محسوس ہونے لگا ہے ۔ تاہم ہمیں کوئی وقت کے پہیے کو الٹا چلا کر واپس ان رواجوں کو اپنانے پر مجبور نہیں کر رہا۔ چنانچہ یہ رویّہ تو صحیح ہے کہ اپنے دور اور معروضی حالات کے تحت اخلاقی معیارات کی تنقیح کی جاتی رہے ۔ تاہم کسی بھی طالبعلم کے لیے یہ مناسب رویّہ نہیں کہ زمان و مکاں سے بے نیاز ہو کر ہر اخلاقی قدر کو مطلق مانتے ہوئے ماضی پر بھی بد اخلاقی یا جہالت کے فتوے جڑ دے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ بالفرض اگر روایتی مؤقف  درست بھی  ہے تو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ قطعِ نظر اس سے کہ علمِ حیاتیات کی توثیق سے نو دس برس کی عمر میں لڑکی کا بالغ ہوجانا بھی پوری طرح ممکن ہے ، تاریخی اعتبار سے آج سے دو تین صدیاں پہلے کے معاشروں میں اس عمر میں رخصتی کوئی غیر اخلاقی امر نہیں تھا۔ اور یہ واقعہ تو چودہ سو برس پہلے کا ہے۔اس وجہ سے فریقِ ثانی کے وہ تمام اعتراضات بے اصل ہیں جو نو برس میں خلوت یا زوجَین کی عمری تفاوت  کو اخلاقیات کے زاویے سے ہدف بناتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ایسے غیر معمولی رشتے پر دشمنانِ رسولؐ کے کوئی اعتراضات منقول نہیں اس لیے روایتی مؤقف نہیں مانا جا سکتا۔

الغرض، مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں کم سے کم اخلاقیات کے نقطۂِ نگاہ سے تو کوئی اعتراض قابلِ التفات نہیں رہتا۔

نَو (9) نہیں چھ (6) برس

اس موضوع پر کی گئی مراسلت کا تجزیہ کريں تو ایسا لگتا ہے کہ سب نہیں تو اکثر استدلالات کا زور نو (9) برس ہی پر مرتکز ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ عمر اس اعتبار سے تو یقیناً اہم تر ہے کہ عمرِ خلوت ہے، اور اعتراضات میں اصل شدّت اسی احساس سے پیدا ہوتی ہے کہ ایک ایسی عمر میں قربت ہوئی جو موجودہ فکر ،رواج اور شائید علمِ حیاتیات کے مطابق بھی بہت کم تھی۔ تاہم چھ (6) برس کی عمر ِ نکاح کو یکسر نظر انداز کر دینا  یا قابلِ توجہ نہ سمجھنا غیر منصفانہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا تاریخی حقائق کی روشنی میں 9 برس تو  احاطۂِ جواز کے اندر یا کم سے کم بھی سرحد پر تو ضرور ہی شمار ہونا چاہیے ، مگر 6 برس کی عمر میں شادی تو ہر اعتبار سے ہی غیر معمولی اور توجیہہ طلب ہے۔خصوصاً اس لیے کہ خلوتِ صحیحہ تو  شادی کے قدرتی اور قریبی نتائج و لوازمات میں سے ہے۔ اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے نہ تو زیرِ عنوان شادی میں رخصتی میں تاخیر کرنا پہلے سے مذکور تھا اور نہ ہی ایسا گمان کرنا قرین از قیاس لگتا ہے۔ رخصتی تاخیر سے کرنا پیشگی ارادہ ہوتا تو عرب کے رواج کے مطابق وعدۂِ نکاح/ سگائی پر اکتفا کافی ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم جب اپنے اعتراضات کو مخلّص انداز میں پیش کرتے ہیں تو اسی عمر سے قواعدِ  اعتراض بلند کرتے ہیں۔

چنانچہ فریقِ اوّل نے جو بھی جواز فرہم کرنے ہیں انمیں صرف 9 سال نہیں بلکہ وہ وجوہات و علل بھی بیان کرنی ہیں جن کے باعث ایک خلافِ رواج وتعامل شادی 6 برس میں ہی ضروری تھی۔ ورنہ ایک غیر ضروری کام کے لیے معاشرے میں مسلّمہ رسوم کے خلاف جانا خلافِ عقل اور ناقابلِ انہضام ہے۔

صدّیقہؓ کی گواہی کی قانونی موزونیت

نکاح و رخصتی کی مبیّنہ عمریں غیر معمولی ہیں، اس میں تو کوئی اختلاف نہیں۔ اور اصول یہ ہے کہ عام معاملات میں جو معیارِ ثبوت چاہیے ہوتا ہےحساس اور غیر معمولی معاملات میں اس سے زیادہ وزنی ثبوت درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون دانوں نے ہمیشہ معاملات کی نوعیت کے اعتبار سے مقدارِ ثبوت میں فرق کیا ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ بھی ثقیل تر ثبوت کا متقاضی ہے۔

روایتی مؤقف کے حاملین نے اس معاملے میں حضرت عائشہؓ کی اپنی گواہی کو کافی اور ماوراءُ الشّک قرار دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی شخص کی اپنی عمر کے متعلق گواہی ایک وزنی ثبوت ہے –  خصوصاً تب جبکہ گواہ کے متعلق امکانِ کذب قطعاً مفقود ہو—مگر جس معاملے کی نوعیت ایک معاہدے کی ہو اور گواہی  گواہ کی ذات تک محدود نہ ہو بلکہ کسی دوسرے فریق پر اس کا اثر پڑتا ہو، تو دوسرے فریق کا اس سے متفق ہونا یا کسی اور متعلقہ فرد سے اس کی تصدیق ہونا فیصلہ سازی کے لیے لازم ہوتا ہے ۔

یہاں متعلقہ افراد کون ہو سکتے ہیں؟ عمر ایک اتنا ذاتی اور غیر مرءئی معاملہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے صرف والدین یا اپنے سے بڑے بہن بھائی ہی قطعی اور یقینی خبر دے سکتے ہیں۔ پھر چونکہ یہ عقدِ نکاح تھا، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شوہر بھی قطعی عمر سے واقف ہو نگے۔ خصوصاً جبکہ شوہر رسول اللہ ﷺپس عالمُ الغیب سے رابطے میں ہوں۔ تاہم یہ معلوم ہے کہ شوہرؐ سے اس بارے میں کوئی توثیق یا تقریر منقول نہیں ۔ رہے والدین اور بڑے بہن بھائی تو اُن  سے بھی اس معاملے میں سرے سے کوئی خبر مروی نہیں۔ بنا بریں عقدِ نکاح جیسے دوطرفہ معاملے میں یکطرفہ غیر معمولی خبر بااعتبارِ ثبوت بلا خوفِ تردید ناکافی ہے، خصوصاً جبکہ کسی اور فریقؐ کو اس خبر کے سارے نتائج برداشت کرنے پڑ رہے ہوں۔

عام عوام کی جانب سے اس نتیجے پر دو اعتراضات ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ اور صدّیقہؓ کے رشتہ داروں کے سکوت کو اقرار کیوں نہ سمجھا جائے؟ اور دوسرے یہ کہ صدّیقہ کی گواہی پر صحیح اور غلط کی تصریح کے بغیر کوئی نتیجہ حاصل کرنا کیسے ممکن ہے؟ تو پہلے کا جواب یہ ہے کہ تاریخ میں کسی معاملے پر کسی کی رائے موجود نہ ہونے کو ہمارے سامنے کسی سوال  کے جواب میں سکوت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بالکل واضح ہے۔ ہاں اگر اُن کے سامنے یہ تذکرہ کسی نے کیا ہوتا اور اس پر انمیں سے کسی کا سکوت مروی ہوتا تو بات اور ہوتی مگر ایسا کچھ بھی روایات میں موجود نہیں۔ اور دوسرے کے جواب میں عرض ہے کہ مقدارِ ثبوت کے اعتبار سے ناکافی ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کسی کی گواہی پر لازماً صحیح یا غلط کا فتویٰ لگایا جائے۔ ناکافی ہونے کا مطلب فقط اتنا ہوتا ہے کہ چاہے پیش کردہ ثبوت غلط نہ بھی ہو معاملے کے کسی خاص رخ میں فیصلے کے لیے مزید ثبوت درکار متصوّر ہو۔جیسے مثلاً مقدارِ ثبوت دو گواہ ہوں اور ایک ہی میسّر ہو۔

حضورؐ کا ذوقِ طبع

کسی بھی شخص کے بارے میں ملنے والی خبر کو پرکھنے کے کئی زاویے ہو سکتے ہیں جن سے اس خبر کی تحقیق ممکن ہو سکتی ہے۔ انہی زاویوں میں سے ایک اہم زاویہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ اس شخص کی عمومی شخصیت کس قسم کے رجحانات کو متوقع بناتی ہے۔ہاں اس زاویے سے کوئی صحیح نتیجہ حاصل کرنے کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ اس شخص کے بارے میں ہم تک پہنچنے والی معلومات کس قدر محیط اور قابلِ اعتماد ہیں۔

چنانچہ حضورؐ کی شخصیت ایک جانی پہچانی شخصیت ہے۔ تاریخ میں سب سے زیادہ مستند اور کثیر روایات اگر کسی شخص کے بارے میں ملتی ہیں تو وہ آپؐ ہی ہیں۔ بلکہ باقی لوگوں کے لیے تو کسی نہ کسی درجے میں یہ مبالغہ ہی ہوتا ہے مگر آپؐ ہی وہ ہستی ہیں کہ جن کے بارے میں "آپؐ کی زندگی کھلی کتاب تھی” کے الفاظ بلا شائبۂِ مبالغہ درست ہیں۔  پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک چھ سالہ بچی سے شادی کرنا آپؐ کی مذاقِ عادت کےتجزیے سے متوقع نظر آتا ہے؟پھر سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا جو شادی – اور اغلب یہی ہے – کی ہی اس لیے جا رہی ہے کہ اُس رفاقت کا نعم البدل چاہیے جو جاتی رہی ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ ملی بھی انہی زوجہ سے ہے، اس کے لیے آپؐ ایک چھ سالہ بچی کو منتخب یا گوارا کر لیں گے  ، کیا ایسا عمل مناسبِ طبیعت لگتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ آپؐ کی بالغ النظر شخصیت کو جن حالات میں جو ہمنوائی مطلوب تھی اور جو صدّیقہؓ کی صورت میں ہی ملی بھی، جن سے ازدواجی تاریخ کے ہر ورق پر شوخی، رنگینی اور دانش بکھری نظر آتی ہے، ایسے شخص کے لیے ایسی کم سنہ سے شادی سر تا سر خلافِ طبیعت لگتی ہے۔

رہتی دنیا کے لیے بے داغ اسوۂِ حسنہ

رسول اللہﷺ کے تمام افعال و عادات کو دنیا کے لیے اسوۂِ حسنہ تو بننا ہی تھا۔ تاہم اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ اس اسوہ میں آنے والے تمام ادوار کے اعتبار سے بھی کوئی قابلِ تنقید عمل ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے اِس دین کی حقانیت پر کوئی اثر پڑے۔اس میں اگر کوئی استثنا نظر آتا ہے تو وہ دو احتمالات میں سے کسی ایک سے خالی نہیں ہوتا۔ ایک یہ کہ کوئی ایسی معاشرتی یا دینی ضرورت اس میں پنہاں ہوئی ہو جس کے لیے اس دور کے متداول رسوم و رواج کے تحت کوئی طریقہ اختیار کرنا ناگزیر ہو؛ جیسے مثال کے طور پر تعدّدِ ازواج ، باندیوں سے ہمبستری وغیرہ۔ اور دوسرے یہ کہ کسی ایسے رواج کی بنا ڈالنی مقصود ہو جسے لوگوں نے بلاوجہ اپنے لیے ممنوع تصور کر لیا ہو؛ جیسے مثلاً  اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی ۔ تاہم ان معاملات میں بھی اخلاقیات کے اعلی ترین معیارات پر کاربند رہنا اور ان کی طرف کوئی ذاتی رجحان و خواہش نہ رکھنا ہمیشہ حضورؐ کی عادت دکھائی دیتا ہے۔

اُس دَور میں تعدّدِ ازواج تقریباً معمول اور قاعدہ تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی ذاتی زندگی میں آپؐ نے ایک ہی بیوی پر اکتفا کیا باوجود اس کے کہ بیٹوں کی طلب باقی رہی۔  بعدِ بعثت جب دین کی خدمت کے لیےیہ گوارا ہوئیں تو ہر شخص دیکھ اور جان سکتا ہے کہ وہ شادیاں معاشی بہبود اور فرائضِ منصبی کی ادائیگی ہی کے لیے کی گئیں۔ اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے باب میں تو خود قرآن دلیل ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ رشتہ ایک دینی ضرورت کی تکمیل کے لیے ناگزیر تھا آپؐ نے اس سے بچنے ہی کی پوری کوشش کی۔ باندیوں سے مجامعت کے معاصر قاعدے اور مسلّمہ اجازت کے باوجود ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آپؐ نے اپنے لیے اسے اختیار نہیں کیا اور وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ میں سے بھی سب کو ہی آزاد کر کے ان کی رضا لے کر نکاح فرمایا۔اگرچہ انمیں سے کوئی بھی فعل انسانی  تاریخ میں ممنوع نہیں رہا بلکہ معمول رہے، مگر چونکہ اللہ کا علم ماضی و مستقبل کو یکساں محیط ہے اس لیے حضورؐ کے رجحانات بھی سرمدی معیارات کے حامل رہے ۔چنانچہ دیکھا جا سکتا ہے کہ حضورؐ کے سب اعمال و رجحانات کی تکوینی تنقیح فطرت کے اصول پر تو ہوئی ہی مستقبلِ بعید کو عاملہ بنا کر بھی ہوئی۔

اس کے بر عکس زیرِ بحث معاملہ ہر اعتبار سے منفرد ہے۔ چھ برس کی بچیوں سے شادی نہ پہلے عام تھی اور نہ اب۔ اس پر دورِ حاضر میں داغے گئے اعتراضات کی نوعیت بھی مذکورہ بالا افعال پر اعتراضات سے مختلف اور سنگین تر ہے۔ پھر اس امر کی کوئی دینی ضرورت نہ تو متحقق ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے پوری۔ اگر اس ذیل میں کوئی خامہ فرسائی فریقِ اوّل نے کی بھی ہو جو چھ برس کی ہی عمر میں شادی کو ضروری قرار دینے  کے جواز پر مشتمل ہو تو ان سب کے بارے میں یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ وہ سب ضرورتیں بارہ تیرہ برس کی عمر اور بڑی عمروں میں باحسنِ وجوہ پورے ہونے میں کوئی شے مانع نہیں۔ تو ایک غیر ضروری، خلافِ رواج و عقل شادی میں ایسی کونسی معقولیت پوشیدہ تھی جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ؐ اور انؐ کے کردار پر ایک قبیح دشنام ترازی کے امکان کو پیشگی زائل کرنا مناسب نہ جانا ۔ایک رسولؐ جو دین پر بدخواہوں کے اتہام سے اتنے پُر اندیش تھے کہ خدائی عندیے کے باوجود شادی میں متردّد رہے، جن کا خدا اتنا باریک بینی سے اُن کے اسوے کی تحسین پر نگران تھا کہ قدم قدم پر دنیا جہان کو چیلنج دیتا جا رہا تھا کہ ‘إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ’ اور مستقبل میں آپؐ کے کسی عمل کو ناسمجھی میں امّت یا معاندین ہی کے لیے پُر فتن سمجھ کر اس کی فوری پیمانہ بندی کر دی جا رہی تھی، ان کے متعلق یہ گمان کرنا کہ ایک غیر ضروری اقدام سے نادانستگی میں دین پر عیب جوئی کی کمک فراہم کر دیں گےناقابلِ ادراک ہے۔

کیا حضرت عائشہؓ کو اپنی عمر ٹھیک معلوم تھی؟

اطمینان رکھیے! یہ سرخی بادی النظر میں جتنی مضحکہ خیز لگ رہی ہے حقیقت میں اتنی ہی دلچسپ ہے ۔

دَورِ حاضر میں عمروں کا شمار جس اہتمام و محتاط انداز میں ممکن ہو گیا ہے اور لوگ رکھتے ہیں، ماضی بعید ہی نہیں قریب میں بھی صورتحال اس سے بہت مختلف تھی۔ چند صدیوں بلکہ دہايوں  پہلے تک بھی ہر ملک میں ایسے بہت سے مقامات تھے جہاں لوگ نہ کیلنڈر سے واقف تھے  اور نہ عمروں کے صحیح شمار کے لیے ریجسٹریشن ضروری تھی کہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ میرے والدین کی پیدائش کشمیر میں ہوئی۔ میرے اپنے والد کو اپنی عمر شناختی کارڈ بنوانے کے وقت اندازے سے درج کرانی پڑی۔ آج بھی کسی دُور پار گاؤں میں چلے جائیے آپ کو ایسے بہت سے تعیّنات سننے کو ملیں گے کہ ‘یہ جاڑے کی پیدائش تھا/تھی’۔ یعنی زیادہ سے زیادہ جو معلومات وہ کسی کی عمر کے بارے میں اپنی یادداشت سے مہیّا کر پاتے ہیں وہ یا تو موسم کی تعیین ہے یا کسی اور کی عمر سے موازنے یا کسی اہم واقعے کے وقوع سے حساب کر کے جانچتے ہیں۔ مزید یہ کہ سالگرہ وغیرہ کا بھی کوئی رواج نہیں ہوتا۔ عمر کے بالکل صحیح شمار کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسے ماحول میں جا کر ہی انسان سمجھ سکتا ہے کہ بعض وہ مقدّمات جو ہم آجکل کی شہری زندگی میں قائم کر لیتے ہیں وہ کس کس غیر متوقع زاویے سے لائقِ تنقیح ہو جاتے ہیں۔

چودہ سو برس پہلے کے عرب ماحول کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے یہاں بھی کوئی نظامِ تقویم رائج نہیں تھا۔ وہ اُمی لوگ تھے۔ وہاں مہینوں کا حساب قمری جنتری پر کیا جاتا تھا اور سالوں کے حساب کے لیے کوئی باقاعدہ تقویم حضرت عمرؓ کے دَور تک اختیار نہ کی گئی تھی۔ بہت سے واقعات بھی اس خیال کو تقویت بخشتے ہیں کہ وہاں بھی بڑے اور اہم واقعات کے قُرب و بُعد سےعمر کا تخمینہ لگا یا جاتا تھا۔ سالگرہ وغیرہ منانے کا بھی کوئی رواج نہ تھا۔ عمر کی تعیین میں انسان کا اپنا معاملہ بھی یہ نہیں ہوتا کہ وہ پیدائش سے ہی اپنی عمر کا شمار خود شروع کر دے۔ اس معاملے میں بھی اور بہت سے معاملات کی طرح  ایک خاص عمر تک وہ دوسروں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسے ماحول میں کسی شخص کی اپنی عمر کی تعیین میں بھی کم سے کم دو تین سال اور عموماً بضع سنین کی کمی بیشی پوری طرح معقول بلکہ قرین از قیاس ہے۔

حضرت عائشہؓ کی ولادت کسی اہم سال میں ہونے کا کوئی حوالہ ہمیں نہیں ملتا۔ پھر اپنی عمر کاجو  بیان انؓ سے منسوب ہے وہ بھی چھ یا نو برس میں اُنؓ سے نہیں لیا گیا، بلکہ سالوں اور شائید دہائیوں بعد اُنہوں نے اپنے بھانجوں، بھتیجوں، پوتوں وغیرہ سے ذکر کیا۔ مزید اگر اُن کی عمری تعیین سے متعلق تمام روایات کا استقصا کیا جائے تو یہ خیال بھی زور پکڑتا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے پیشِ نظر اپنی کم عمری بتانا بھی تھا، یعنی انہیںؓ کس قدر نوخیزی میں حضورؐ کی صحبت میسر ہوئی۔

ان سب عوامل کی روشنی میں اگر ان روایات کو قابلِ اعتنا بھی سمجھنا ہو تو بھی یہ بات قرین ازقیاس لگتی ہے کہ عائشہؓ نے اپنی عمر حضورؐ کی وفات کے کچھ یا طویل عرصے بعد ایک اندازے سے ہی بتائی ہو گی، جس میں دو تین سال یا کچھ زیادہ بھی اوپر نیچے ہو جانے کا امکان پوری طرح موجود ہو گا۔ سننے والے بھی چونکہ اب ہجری اور باقاعدہ تقویم کے عادی ہو چکے ہونگے، اور پھر اسلام کی جدوجہد کے نتیجے میں واقعات،  تاریخوں اور عمروں کے شمار کی عادت بھی بعد میں آنے والوں میں راسخ  ہو چکی ہو گی چنانچہ انہوں نے تعیین  کو بالکل محتاط  اور قطعی گردانتے ہوئے کسی انتباہ کے بغیر اسی طرح آگے نقل کر دیا ہو گا۔تاہم مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں ہمیں اسے محض ایک اندازہ تسلیم کرتے ہوئے اس بات کا پورا امکان باور کرنا چاہیے کہ رخصتی کے وقت آپؓ کی عمر نو کے بجائے بارہ تیرہ برس یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے جو کسی اعتبار سے قابلِ اعتراض بھی نہیں رہتی، اُس دَور کے تمدنی حالات میں معقول بھی لگتی ہے اور خود حضرت عائشہ کی بوقتِ رخصتی نوخیز ی بھی قائم رہتی ہے۔

حضرت عائشہؓ کا قد؟

اس مضمون کا مقصد چونکہ معاملے کے سب پہلوؤں کا احاطہ ہے اس لیے اس طرح کے ضمنی نوعیت کے مشاہدات کا ذکر بھی برمحل معلوم پڑتا ہے۔ امّاں عائشہؓ سے ایسی باتیں تو منسوب ہیں جن میں آپؓ اپنی کم عمری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ان کی والدہ انھیں رخصتی سے پہلے اس ارادے سے عمدہ اور جسم کو بھر دینے والی خوراک کھلایا کرتی تھیں کہ انھیں رخصت کر کے رسول اللہ کے گھر بھیجا جا سکے[xiii]۔اور ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں آپؓ کا وزن میں بہت ہلکا ہونا بھی مذکور ہے۔ تاہم جسمانی ترقی کا ایک اہم مظہر قد بھی ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس سے متعلق کوئی ذکر ہمیں روایات میں نہیں ملتا؟ بلکہ  شادی میں کم سنی کے اخفا کے لیے تندرستی اور وزن کے مقابل میں قد اہم تر ہوتاہے۔ یعنی کسی لڑکی کو کم سنی کےباوجود ہمبستری کے قابل اور بچپنے کے مراحل سے باہر سمجھنے کے لیے انسان نفسیاتی طور پر یہ تو گوارا کر سکتا ہے کہ اس کا جسم بھرا ہوا نہ ہو یا وہ بہت ہلکی ہو مگر شائید ایک خاص حد سے چھوٹا قد کشف اور فطری طور پر کراہت کا باعث بن سکتا ہے۔

لڑکیوں میں قد میں نمایاں تبدیلیاں گیارہ بارہ سال کے ارد گردہوتی ہیں جو چودہ پندرہ برس کی عمر تک چلتی رہتی ہیں[xiv]۔ عام مشاہدے میں بھی آٹھ نو برس کی عمر میں باعتبارِ قد لڑکیاں ابھی بچپنے ہی کے ارتعاشات بکھیر رہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر حضرت عائشہؓ اس وقت واقعی سات آٹھ برس کی تھیں تو کیا سب سے بڑی پریشانی یہ لاحق نہیں ہونی چاہیے تھی کہ جلد سے جلد انکا قد بڑا ہو جائے؟  مگر قد سے متعلق کوئی پریشانی ہمیں روایات میں نہیں ملتی۔

اس سوال کو حضرت عائشہؓ کے مذکورہ بالا انکشافات کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو یہ گمان قرین از قیاس لگتا ہے کہ آپؓ ایسی عمر میں تھیں جس میں قد میں تمام قابلِ لحاظ تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ اور چونکہ ان تبدیلیوں کے وقت جسم نحیف ہوجاتا ہے اس مقصد سے اصل توجہ تندرستی پر مرکوز کر دی گئی ہو گی۔

فریقِ اوّل کے پیش کردہ قرآئنِ موافق

فریقِ اوّل نے بھی کچھ ایسے قرآئن پیش کیے ہیں جو بظاہر روایتی مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ یعنی ایسی روایات کی طرف توجہ دلائی گئی جن میں رخصتی کے زمانے اور بعد میں بھی حضرت عائشہؓ کا جھولا جھولنا، گڑیوں سے شغف، سہیلیوں کے ساتھ کھیلنا اور میلوں میں کرتبوں سے محظوظ ہونا شامل ہیں۔ بلکہ اکا دکا روایات تو ایسی بھی ہیں جن کی رُو سے اس نوعیت کے شغف مبیّنہ طور پر حضورؐ کی وفات سے چند سال پہلے تک بھی ثابت ہیں ۔ حق یہ ہے کہ بادی النظر میں یہ قرآئن اپنے مؤقف کی تائید میں معقول ہیں۔ اس لیے ان کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔

جہاں تک ان روایات کی بات ہے جو اِن دلچسپیوں کا وقوع کسی بھی وقتی تعیین کے ساتھ بتاتی ہیں شائید ایک دو ہی ہیں اور زیادہ قابلِ اعتبار بھی نہیں ہیں۔ مثال کے طور  پہ ایک روایت[xv] میں حضرت عائشہؓ کےپاس گڑیوں کی موجودگی ایک اندازے کے مطابق ۵ ہجری کے بعد تک ہونا منقول ہے۔ مگر چونکہ راوی کو اس بات میں شک ہے کہ آیا یہ واقعہ خیبر کا ہے یا تبوک کا اس کو کسی زمانی تخصیص کے لیے بنِائے استدلال بنانا کوئی معتبر طریقہ نہیں۔ پھر اس پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خیبر اور تبوک میں کوئی خاص مماثلت نہیں، چنانچہ کوئی وجہ نہیں کہ راوی نے اس واقعے کو کسی اور غزوے سے ملتبس نہ کر دیا ہو۔مزید اس روایت میں حضرت سلیمانؑ کے ‘پَروں والے گھوڑے’ کے متعلق حضرت عائشہؓ کا جو بیان منقول ہے اس سے بھی اس واقعے کا رخصتی کے زمانے کے ارد گرد ہونا اغلب لگتا ہے۔ پھر اگر اسے ۵ ہجری کا ہی واقعہ مان بھی لیا جائے تو تب بھی اس روایت سے گڑیوں سے کھیلنا نہیں بلکہ ‘سامان کے کمرے’ میں فقط انکی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ جس طرح اپنے بچپن کے کھلونوں کو بڑے ہونے تک بھی لوگ سنبھال کر رکھ لیتے ہیں، عائشہؓ کا بھی اسی مقصد سے اُن کو بچا کے رکھنا ہی قرین از قیاس ہے۔

اور جہاں تک بات ہے اصولاً ان میں سے کچھ بچکانہ عادتوں کے وقوع کی تو ان سے بس اتنا استدلال درست ہے کہ رخصتی کے وقت عائشہؓ ایسی عمر میں تھیں جس میں ابھی تک انؓ کی یہ عادتیں نہ چُھوٹی ہوں گی۔ جھولا جھولنا اور میلوں وغیرہ سے محظوظ ہونے کی عادات سے تو لڑکیوں  کی عمر  کے خصوص کی   کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، کیونکہ ان جذبات سے تو وہ نوجوانی میں بھی خالی نہیں ہوتیں ۔ ہاں گڑیوں یا سہیلیوں سے کھیلنا عمر کی بابت حد بندی کا کام دے سکتی ہیں۔ تاہم یہ حدبندی بضع سنین کے اوپر نیچے ہونے کے معاملے میں مددگار نہیں بن سکتی۔ پھر اُس دَور کے اور ہمارے تمدّن میں قابلِ لحاظ فرق بھی درست حتمی تخمینے میں کسی قدر مانع ہے۔

بایں ہمہ اس طرح کی جتنی بھی روایات ہیں ان کے انضمام کے بعد ان کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ یہ زمانۂِ رخصتی ہی کے فوری قرب و جوار کے واقعات پر مشتمل ہوں گی ہر اعتبار سے منطقی اور صائب لگتا ہے۔ چنانچہ رخصتی کے وقت عائشہؓ کی عمر چودہ پندرہ برس بھی ہو تو یہ کوئی غیر متوقع لھو و لعب نہیں کہ زمانی اطراف میں ان کا صدور عمر کی تحقیق کے معاملے میں کوئی سرخ جھنڈی (red flag) کھڑی کر دے۔

قرآنی آیات سے استشہاد

دونوں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کی تائید کے لیے قرآنی آیات سے بھی بالواسطہ استشہاد کیا ہے۔ یعنی انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نابالغوں کی شادی دین کی رُو سے روا ہے بھی کہ نہیں؛ کیونکہ اگر قبل البلوغ شادی جائز نہیں تو حضورؐ کی نسبت ایسا کوئی دعویٰ اعتقاداً غلط ہو گا۔ چنانچہ ایک آیت فریقِ اوّل اپنی تائید میں پیش کرکے کہتا ہےکہ نابالغوں سے شادی درست ہے  اور ایک دوسری آیت سے فریقِ ثانی استنباط کر کے کہتا ہے کہ ایسی شادیاں درست نہیں، اور پھر دونوں گروہ فریقِ مخالف کی پیش کردہ آیت کی تاویل بھی کر دیتے ہیں۔ فریقِ اوّل سورۃ الطّلاق[xvi] کی آیت 4 اور فریقِ ثانی سورۃ النساء[xvii] کی آیت 6 سے استشہاد کرتے ہیں۔

مضمونِ ہذا ان آیات کی تشریح پر بحث کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے کہ یہ قدرے تفصیل کی متقاضی ہے۔ تاہم یہاں میں وہ دلائل بیان کر دیتا ہوں جن کی بنیاد پر ان آیات سے اس معاملے میں تائید وتنکیر درست نہیں:

1۔ یہ آیات معاملے سے براہِ راست متعلق نہیں کیونکہ یہ حضرت عائشہؓ کی شادی پر کوئی تبصرہ نہیں کررہیں۔ دونوں آیات کا یہ پہلو لا نزاع و لا جدال فیہ (undisputed) ہے۔

2۔ یہ آیات حضرت عائشہؓ سے شادی کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اس لیے ایک ماضی کے واقعے کو اِن پر پرکھنا ظاہر ہے کہ درست نہیں۔

3۔ یہ آیات شادی کی عمر سے متعلق کسی صریح حکم پر مشتمل نہیں۔ یہ تو براہِ راست شادی کے مسئلے سے بھی متعلق نہیں بلکہ ان سے اس ضمن میں استنباط بھی بالواسطہ ہی ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت وراثت کی تقسیم سے متعلق اور سورۂ طلاق کی آیت عدّتِ طلاق سے متعلق ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں حّلت و حرمت جس وضوح سے بیان کی جاتی ہے وہ ان آیات سے استخراج میں نہیں پائی جا تی۔

4۔ بادی النظر میں اِن آیات میں عمرِ نکاح کے عُرف پر کوئی تنقید نہیں کی جارہی بلکہ بظاہر اسے ہی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ پھر اگر اس قسم کی کوئی تنقید فرض کر بھی لی جائے تو اوّل تو یہ مبہم ہی رہے گی اور تاویلی اختلافات سےخالی نہ ہو گی،اور دوم اس تنقید سے عمرِ نکاح کے زاویے سے استثنائی معاملات کی نفی  کی حد تک تاکید تو کبھی برآمد نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ یہ نکتہ تفصیل سے تو ایک علیحدہ مضمون میں ہی زیرِ بحث آ سکتا ہے، تاہم یہاں ان آیات سے استنباط کی سطحیت اور کمزوری باور کرانا مقصود ہے۔

5۔ اور آخری مگر شائید اہم ترین نکات میں سے یہ بھی ہے کہ ان آیات کی کسی بھی توجیہہ سے عمرِ عائشہؓ کے لیے استشہاد ایک  صورت  میں استنتاجِ دائری (circular reasoning) کے عارضے سے خالی نہ ہو گا، جو ظاہر ہے کہ منطقی مغالطے (logical fallacy) کی ہی قسم ہے، اور آخری صورت میں معاملے کی تحقیق سے متعلق کوئی اثباتی شہادت نہ دے سکے گا۔ یعنی حرام ہونے کی صورت میں اس میں چونکہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ حضورؐ نے کسی نابالغہ سے شادی نہ کی ہو گی (یعنی گناہ نہ کیا ہوگا) یہ فرض کرنا پڑے گا کہ وہؐ ایسا نہیں کر سکتے تھے (یعنی گناہ نہ کر سکتے تھے) ، اس سبب منطقی اعتبار سے یہ کوئی وزن نہیں رکھے گا؛ اور یا پھر اگر نابالغہ سے شادی کا جواز ان آیات سے ثابت کر بھی دیا جائے تو نبیؐ کے حضرت عائشہؓ کے ساتھ کم عمری میں نکاح کا کوئی مثبت دعویٰ تو پھر بھی موجود نہ ہو گا ۔ مسلمانوں کی قلبی تسکین تو اس سے شائید حاصل کرنا ممکن ہو پر غیر مسلموں کے لیے اس استدلال کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔

یہ چند دلائل ہیں جن کے باعث زیرِبحث مسئلے کی تحقیق میں اِن آیات سے استشہاد کسی خاص اہمیت کا حامل دکھائی نہیں دیتا۔

نتائجِ تحقیق

تحقیقِ ہذا کے نتیجے میں مندرجہ ذیل اکتشافات سامنے آتے ہیں:

1۔ مختلف طرق سے ملنے والی روایات میں حضرت عائشہؓ کا مذکور دعویٰ کہ وہؓ نکاح کے وقت چھ سات برس کی اور رخصتی کے وقت نو برس کی تھیں باعتبارِ سند صحتمند ہے۔ اس لیےیہ مقبولُ الشّہادہ ہے۔

2۔ معاملے کی نوعیت چونکہ دو طرفہ عقد کی ہے اور ایک فریق کا دعویٰ (خصوصاً عمرِ نکاح) غیر معمولی پس استجوابِ حضوری (cross-examination) کا متقاضی ہے لہٰذا تیقّن کے لیے شوہرؐ یا والدین وغیرہ کی شہادتوں کی ضرورت ہے جو کہ مفقود ہیں۔ پس بارِ ثبوت کے اعتبار سے میسّر شہادت ناکافی ہے۔

3۔ قرآئن مبیّنہ عمر کو غیر متوقع بنا دیتے ہیں۔ اگرچہ بعض قرآئن بچپنے کی بعض عادات رخصتی کے ارد گرد ثابت کرتے ہیں تاہم انہیں دوسرے قرآئن کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے  جیسے وجہِ رشتہ،حضورؐ کا ذوقِ طبع، عرب کا رواج اور محتلم معاملات میں عائشہؓ کی شمولیت اور انؓ کی عمومی ذہنی و جسمانی کیفیت وغیرہ تو صحیح عمر شباب یا اوائلِ شباب کی مسافات میں محسوس ہوتی ہے۔

4۔ دنیا اور خصوصاً عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُس دَور میں لوگ اپنی عمروں کا شمار محتاط انداز میں نہیں کیا کرتے تھے، سالوں کے شمار کے لیے کوئی نظامِ تقویم رائج نہیں تھا ،حضرت عائشہؓ سےجو بیان منسوب ہے وہ شادی کے کئی سال بعد لیا گیا تھا اور اس میں بھی اپنی کم عمری بتانا انؓ کے پیشِ نظر تھا۔ یہ سب شواہد سیّدہؓ کے اپنی عمر کے متعلق بیان کو بھی ایک اندازے پر ہی محمول کردیتے ہیں۔

5۔ قرآن اور رسول اللہ ﷺ اس معاملے میں خاموش ہیں۔ اس معاملے کے خلافِ معمول اور نامعقول ہونے کی حیثیت ان دونوں مصادر کی خاموشی کو معنی خیز اور معاملے کو ناممکن الوقوع بنا دیتی ہے۔تاہم یہ استحالہ دو امکانات کو جنم دیتا ہے۔ ایک یہ کہ شادی اس درجے کم سنی میں نہیں ہوئی ہو گی۔ اور دوسرے یہ کہ روایتی مؤقف میں مذکور عمریں اُس دَور کی معاشرت اور تمدن کے اعتبار سے غیر معمولی نہیں تھیں۔ تحقیق کی روشنی میں پہلا امکان اغلب ہے۔

6۔ چونکہ یہ کوئی دینی نہیں بلکہ ایک تاریخی معاملہ ہے اس لیے اس معاملے میں مؤرّخانہ نقطہ نظر اپنانا زیادہ مناسب ہے۔ پس اس اعتبار سے چونکہ اس غیر معمولی خبر کی تصدیق کسی موثوقہ ذریعے سے آج نہیں ہو سکتی  اس لیے اس کو ردّ کر دینا علم و عقل کے عین مطابق ہے۔

اختتامیہ

حضرت عائشہؓ کی شادی کے بارے میں روایتی مؤقف کو مکمل طور پر ناممکن نہیں کہا جا سکتا کیونکہ تاریخی تحقیق سے اس طرح کے نتائج کی برآمدگی اکثر ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اثبات یا نفی میں فیصلے اکثر و بیشتر قرین و بعید از قیاس ہونے کی بِنا پر ہی کیے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے اس معاملے میں یہ کہنا عین قرین از قیاس ہے کہ شادی کی وہ عمریں جس پر روایتی مؤقف کے حاملین مصر ہیں غالباً درست نہیں۔ بلکہ بارہ تیرہ سال کی عمر سے لے کر سولہ سترہ سال کی عمر یں راجح دکھتی ہیں۔

فریقِ اوّل سے التماس ہے کہ ان دلائل کا جائزہ لے کر امّت کو کسی ایک نہج پر متفق کرنے کی جد و جہد کریں۔ ایک ایسی نہج پر جس میں علم و عقل کے تقاضوں سے گزیز بھی نہ ہو اور غیر مسلموں اور ان کے اوطان میں مقیم مسلمانوں کے لیے دینِ اسلام کی طرف آنے، بلانے اور قائم رہنے کی سعی  عمرِ صدّیقہؓ بوقتِ نکاح و رخصتی کی گھاٹی عبور کر نے کے قابل بھی ہو جائے جو فی الحال عقبۂِ کؤود (insurmountable obstacle) بنی ہوئی ہے۔



[i]                میں اسے محقّقانہ کہنا چاہتا تھا، تاہم اس خیال سے کہ اس کے لغوی مطلب کو بنیاد بنا کر کوئی ایک فریق یہ کہہ سکتا ہے کہ کیا ہمارا رویّہ حقیقت تک پہنچنے کا نہیں۔۔۔میں نے ایسا نہیں کیا۔

[ii]                مثال کے طور پر دیکھیے http://www.javedahmadghamidi.com/ishraq/view/ilm-e-hadis-main-darayati-naqd-ka-tasawur

[iii]               صحیح مسلم، کتاب انکاح ( 16)، حدیث 83 اور 84؛ سنن ابنِ ماجہ، جلد 3، کتاب انکاح ( 9)، حدیث 1877؛ مسند احمد بن حنبل، رقم 24653۔

[iv]               الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۸/ ۵۷؛ احمد، رقم ۲۵۲۴۱؛

[v]                http://www.alsharia.org/mujalla/2012/jul/sayyidah-aisha-javed-ghamidi http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/Hazrat-Ayesha-Ki-Umer

[vi]               Ruth Lamdan: A Separate People: Jewish Women in Palestine, Syria, and Egypt in the sixteenth Century, p. 47. Leiden, 2000.

[vii]              "PURITY CONGRESS MEETS; A Great Gathering for Moral Work in the City of Baltimore. AIMS AND OBJECTS OF THE MOVEMENT Determined to Prevent State Regulation of Vice and to Rescue Fallen Men and Fallen Women.”. The New York Times. BALTIMORE, Oct. 14. October 15, 1895.

[viii]              "Encyclopedia of Children and Childhood in History and Society”. Faqs.org. Retrieved 2015-11-20.

[ix]               M.A. Friedman (1980), Jewish Marriage in Palestine, Vol 1, The Jewish Theological Seminary of America

[x]                Noonan, John (1967). "MARRIAGE CANONS from THE DECRETUM OF GRATIAN – BOOK FOUR – TITLE I – Betrothals and Marriages – C3”. CUA.edu. Archived from the original on 17 January 2016.

[xi]               Bullough, Vern. "Encyclopedia of Children and Childhood in History and Society”. faqs.org. Internet FAQ Archives. Archived from the original on 28 September 2008. Retrieved 25 August 2015.

[xii]              دیکھیے فیلیپ آرییس کی کتاب ‘Centuries of Childhood’ اور کنگھیم کی کتاب ‘Invention of Childhood (2006)’۔

[xiii]              ابن ماجہ، رقم ۳۳۲۴

[xiv]              https://en.wikipedia.org/wiki/Human_height#Determinants_of_growth_and_height

[xv]              سنن ابو داود، حدیث نمبر  ٤٩٣٢، راوی کو شک ہے کہ یہ واقعہ غزوہ خیبر سے متعلق ہے یا تبوک سے۔ فتح الباری میں غزوہ خیبر سے متعلق ہونے کو راجح قرار دیا گیا ہے۔

[xvi]              ترجمۂ تدبّرِ قرآن: اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کے باب میں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان کی بھی جن کو حیض نہ آیا ہو اور حمل والیوں کی مدت وضع حمل ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کرے گا۔

[xvii]             ترجمۂ تدبّرِ قرآن: اور ان یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے اسراف اور جلد بازی کر کے اُن کا مال ہڑپ نہ کرو۔۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s