تجزیۂِ مضمون–اسلام اور ریاست: جوابی بیانیے پر ایک نظر، از محمد دین جوہر، سہ ماہی جی

(غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کی تردید میں سہ ماہی جی، شمارہ برائے جولائی تا اکتوبر 2015 ،میں جنابمحمد دین جوہر صاحب کے بیان کردہ اعتراضات کا تجزیہ )

مجھے بعض حضرات نے کچھ وقت قبل مطلع کیا تھا کہ غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کے نقد پر مبنی ایک رسالہ ‘جی’ کے نام سے شائع ہو چکا ہے جو تفصیل سے اس بیانیے کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ و استرداد کرتا ہے۔ بد قسمتی سے نہ تو یہ رسالہ مجھے کہیں دستیاب ہو سکا اور نہ ہی اب تلک مجھے اتنا وقت میسر ہو سکا تھا کہ میں اس کے مندرجات کا مطالعہ کر سکوں۔ تاہم، اس رسالے کے دو مضامین آن لائن موجود تھے جن میں سے ایک کا تجزیہ میں ذیل میں کرنے جا رہا ہوں۔

محولہ مضمون جناب محمد دین جوہر صاحب کی تصنیف ہے اور اس کا عنوان ہے "اسلام اور ریاست: جوابی بیانیے پر ایک نظر”۔ جوہر صاحب اسی رسالے کے مدیر بھی ہیں۔

میرے قارئین، جو میرے انداز سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ میں ناقد کے اعتراضات ان کے اپنے الفاظ میں نکتہ بہ نکتہ نقل کر کے ان کا تجزیہ کیا کرتا ہوں؛ تاہم، اس تجزیاتی نشر پارے میں میں نے ایسا نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ معمول سے میرا یہ انحراف وضاحت کا متقاضی ہے۔

یہ اس لیے ہوا ہے کہ صاحبِ مضمون نے غامدی صاحب کے دس نکاتِ جوابی بیانیہ میں سے کسی ایک کو بھی موضوع نہیں بنایا۔ انہوں نے کم وبیش 21 صفحات پر محیط اس مضمون میں اصلاً ان تمام نکات کے پیش لفظ میں کندہ اصطلاحات، جیسے "فکر” اور "صحیح اسلامی فکر” اور "بیانیہ” ، وغیرہ کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ اگر مخیّرانہ آدابِ تجزیہ کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ بھی تسلیم کرنے میں کو‏ئی عار نہیں کہ کہِیں کہِیں انہوں نے پہلے نکتے یعنی ریاست کے مذہب سے تعلق پر کچھ مماسی (tangential) خامہ فرسائی بھی کی ہے۔ تاہم، باقی کسی نکتے پر کوئی اعتراض ضبطِ تحریر میں وہ نہیں لائے۔ یہ کوئی میری رائے نہیں بلکہ انہوں نے آغاز ہی میں صاف فرما دیا ہے:

"یہ بات کہ اسلام کا ریاست سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، اس کا جواب تو علما پر واجب ہے اور وہی اس کا جواب دیں گے، اور بچارے ہاتھ پاؤں مار بھی رہے ہیں۔ ہماری معروضات اس بیانیے کے علمی اور فکری پہلوؤں تک محدود رہیں گی۔۔۔”

مزید برآں، میرے قارئین اس بات کو ذہن میں ایک دفعہ پھر تازہ کر لیں کہ میں صرف علمی نکات کو زیرِ بحث لایا کرتا ہوں۔ تبصرے، جو مصنفین عمومی جہت سے کسی کاوش اور اس کے محرکات پر کیا کرتے ہیں، جس کا بہر حال انہیں پورا حق ہے، ان کو موضوعِ بحث بنانا ایک مشقِ لاحاصل ہوا کرتی ہے اس لیے میں اس سے اجتناب ہی کیا کرتا ہوں۔ اور جس کسی نے بھی جوہر صاحب کا یہ مضمون پڑھا ہے وہ یہ جانتا ہی ہو گا کہ اس کا معتد بہ حصہ اسی قسم کے خیالات پر مشتمل ہے۔

تاہم، اپنے قارئین کے لیے میں نے ایک اجمالی تجزیہ ذیل میں کر دیا ہے جس میں زیرِ نظر مضمون کے بارے میں اپنا مجموعی احساس اور کوئی ضروری اصولی مسائل بیان کر دیے ہیں۔ صاحبِ مضمون کا احترام اور ان کی کاوش کی قدردانی مطلوب ہے، ورنہ جیسا کہ واضح ہوا چاہتا ہے مضمون کی نوعیت ایسی ہے کہ اس سے جزوی تو کیا کلی اتفاق یا اختلاف کے نتیجے میں بھی جوابی بیانیے کے کسی ایک نکتے کے حاصل پر یَک سرِ موُ بھی فرق نہیں پڑتا۔

اجمالی تجزیہ

زیرِ نظر مضمون میں جوہر صاحب نے غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کی تمہید میں بیان کردہ اس دعوے کو مرکز پارہ بنایا ہے کہ اسلام کا صحیح فکر ہے جو ان دس نکات پر منتج ہوا ہے جو اس مضمون میں بیان ہوئے ہیں۔ گویا جوہر صاحب نے اپنے موضوعِ بحث کو کچھ اساسی علمی و فکری نکات تک محدود رکھا ہے، جو غامدی صاحب نے اس مضمون میں صراحتاً بیان تو نہیں فرمائے، مگر اُن کے تمہیدی دعوے سے صاحبِ مضمون کے نزدیک آپ سے آپ محتاجِ بیان اور لائقِ بحث و تمحیص ٹھہرجاتے ہیں۔

اگر مضمون کا باعتبارِ منفرد موضوعات تجزیہ کیا جائے تو کچھ بنیادی اعتراضات کے ریشوں کو علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ریشے مضمون کے متن میں باہم دگر ملے ہوئے ہیں (intertwined)، تاہم تجزیے کی غرض سے ان کو علیحدہ کرنا قارئین کے لیے سمجھنے میں آسانی کا باعث ہو گا۔ چنانچہ آئیے ان کو ریشہ ریشہ کر کے بحث میں لاتے ہیں۔

ایک اہم ریشہ "فکر” اور "صحیح اسلامی فکر” ہے۔ صاحبِ مضمون نے جا بجا یہ اعتراض دہرایا ہے۔ جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ غامدی صاحب کا اپنے خیالات کو فکر کا نام دینا علمی اعتبار سے قطعاً درست نہیں۔ اور اسے صحیح اسلامی فکر کہنا تو بالکل بے بنیاد ہے۔ مثال کے طور پر مصنف کے اِن سوالوں سے ان کے مدعا کی نمائندگی باحسن وخوبی ہو جاتی ہے۔ وہ پوچھتے ہیں:


اگر اسلام اور ریاست کا تعلق زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے تو اسلام اور فکر کے تعلق کو کیوں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا؟ فکر سے کیا مراد ہے؟ اور کیا صاحبِ بیانیہ کا "صحیح اسلامی فکر” سرے سے کوئی فکر ہونا qualify بھی کرتا ہے؟ اسلام سے الگ اس فکر کا مبسوط بیان کیا ہے؟ انہوں نے بزعمِ خویش اسلام کے صحیح فکر کی تطبیقات بیان کی ہیں، فکر کی تفصیل محذوف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا بیان کیا ہے؟ اگر یہ کوئی فکر ہے، تو انہوں نے اس کے صحیح اور اپنے مقابل کے فکر پر غلط ہونے کا فیصلہ کن بنیادوں پر دیا ہے؟ اپنے فکر کے اسلامی ہونے کا فیصلہ انہوں نے کن بنیادوں پر کیا ہے، اس سے پیشتر کہ اس کا فکر ہونا ثابت ہو؟

میرے نزدیک ان میں سے بعض اٹھائے گئے سوالات جائز اور مستحقِ جواب ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا یہ مطالبہ کہ اس فکر کی تفصیل کیا ہے بالکل جائز علمی مطالبہ ہے۔اس کا جواب اگرچہ غامدی صاحب کے اصلی مضمون میں ہی دے دیا گیا تھا مگر غالباً جگہ کی کمیابی کے باعث اسے مدیرِ اخبار نے حذف کر دیا۔ مکمل مضمون یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ "اِس کے مقابل میں اسلام کا صحیح فکر کیا ہے؟ اِس کو ہم نے اپنی کتاب ”میزان” میں دلائل کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔” چنانچہ صاحبِ مضمون کو اس فکر کی تفصیل میزان میں مبسوط انداز میں مل جائیگی۔

پھر صاحبِ مضمون کے اٹھائے گئے اس سوال کا جواب کہ اپنے فکر کے صحیح ہونے کا فیصلہ انہوں نے کس بنیاد پر کیا ہےبھی دینے میں کوئی قباحت نہیں سوائے اس کے کہ اُن جیسے صاحبِ نظر کو یہ جواب خود اس مضمون میں مل جانا چاہیے تھا۔ بہر حال اس کا جواب یہ ہے کہ غامدی صاحب نے اپنے ہر نکتے میں بیان کردہ دعوے کا استدلال بھی ساتھ ہی اسی نکتے میں بیان کر دیا ہے۔ظاہر ہے کسی بھی دعوے کے درست یا غلط ہونے کا معیار اس کا استدلال ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی نکتے کے دعوے سے جوہر صاحب کو اختلاف ہے تو اسی نکتے کے ذیل میں بیان کردہ استدلال کو وہ بلا تامل بحث میں لا سکتے ہیں۔ بلکہ اور مصنفین کی طرح ان سے بھی ہمیں یہی امید تھی کہ وہ ان استدلالات کو موضوعِ بحث بنا کر ہم جیسے طالبعلموں کو سیکھنے اور اپنی رائے کی پیمانہ بندی کا موقع دیں گے۔ خیر اب بھی ان کو یہ دعوت ہے کہ جس نکتے سے بھی انہیں اختلاف ہے اس کے بیان کردہ استدلال کو ہدف بنائیں۔

رہی بات اس فکر کے اسلامی ہونے کی تو اس کا فیصلہ بھی ظاہر ہے اسی بنیاد پر کيا گیا ہے کہ دین کے مصادر سے استدلال کو پیش کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے، اسلام کے مصادر سے کسی دلیل کا پیش کر دینا، یا ان مصادر میں سرے سے کسی مضمون کے ذکر نہ ہونے کا دعویٰ کرنا، کسی بھی دعوے کے اسلامی ہونے کی دلیل ہے۔ اگر صاحبِ مضمون کے نزدیک کسی فکر یا دعوے کے اسلامی ہونے کی شرائط کچھ مختلف ہیں تو ضرور ضبطِ تحریر میں لائیں تا کہ ہمیں ان کا تجزیہ کرنے کا موقع ملے۔

اور جہاں تک بات ہے اس کے فکر qualify کرنے یا نہ کرنے کی، تو اس پر صاحبِ مضمون سے عرض ہے کہ آپ اسے فکر نہ کہیے، کہ بھلا نام پر بھی کوئی بحث کرنی۔ آپ اسے دین کے مصادر پر غور کر کے دین کے مطالبات اخذ کرنا کہہ لیجیے۔ مجھے تو اسی مضمون کے ذریعے سے یہ دعویٰ پہنچا ہے کہ غامدی صاحب کی بیان کردہ فکر سرے سے فکر ہی نہیں۔ بہت سے ناقدین نے اب تک غامدی صاحب کی فکر کے صحیح یا غلط ہونے پر تو بہت سے بحثیں کیں ہیں مگر میرے علم میں آنے والی یہ پہلی تنقید ہے جو اس کے فکر یا بیانیہ ہونے پر ہی سوال اٹھا رہی ہے۔ بہر حال ہم جیسے نابکاروں کے لیے اس اعتراض کا جواب دینا ممکن نہیں۔ کیونکہ ہم جسے آج تک فکر سمجھے بیٹھے تھے، جس کے متعلق علامہ اقبال نے بھی "اسلام کے مذہبی فکر کی تعمیرِ نو” کے عنوان سے خامہ فرسائی کی، ہم پر تو اب منکشف ہوا کہ اس میں تو فکر کے لوازمات ہی "مفقود” ہیں۔ خیرہم جوہر صاحب سے یہی اپیل کر سکتے ہیں کہ چاہے آپ اسے فکر مانیں یا نہ مانیں، بیانیہ گردانیں یا نہ گردانیں، یہ تو آپ کو ماننا ہی پڑے گا کہ جو دس نکات غامدی صاحب نے بیان کیے ہیں وہ بالذات ایسے دینی دعاوی ہیں کہ ان کے درست یا غلط ہونے کی صورت میں دین کے مسلمانوں سے مطالبات میں بُعد المشرقَین آ جاتا ہے۔ موجودہ دور میں امّت کو درپیش مسائل کے حل میں زمین آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے۔ تو ہمیں تو بس ان دس نکات کے نتائج سے غرض ہے۔ اور اگر پھر بھی فکر کی بحث ہی کرنی مطلوب ہو تو پھر ہمیں فکر کا ایک نمونہ (sample) مرحمت فرمائیں تا کہ ہم غامدی صاحب کی بات کو اس سانچے میں ڈھال کر آپ کو ہدیہ کر سکیں۔

دوسرا قابلِ ذکر ریشہ ریاست کے مذہب سے تعلق کا ہے۔ اگرچہ اس ریشے کا حلول تو قارئین مضمون کے اکثر حصے میں دیکھیں گے مگر کسی بھی جگہ اس کا جواب نہ پائیں گے۔ کیونکہ یہ تو صاحبِ مضمون نے شروع میں ہی طے کر دیا ہے کہ اس سوال کا جواب تو علما کے ہی ذمے ہے۔ ان کی دلچسپی ریاست کی ماہیت، سیاسی طاقت اور قانون سے اس کا تعلق، اس کے انتظامی اور وجودی پہلو، وغیرہ کو واضح کرنا ہے۔ صاحبِ مضمون کی اس کاوش کا مقصد اگر قارئین کی سمجھ میں نہ آ پایا ہو تو وہ یہ ہے کہ وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ریاست کی ماہیت کی غامدی صاحب کو کچھ سمجھ ہی نہیں۔

صاحبِ مضمون کی اس روش سے دلیل پکڑتے ہوئے میں بھی یہ واضح کرتا چلوں کہ ہمیں تو غرض فقط ریاست کے مذہب یعنی اسلام کے تعلق سے ہے۔ مگر  چلیے اس ریشے سے بھی تعرض کر لیتے ہیں۔

جوہر صاحب کے اس نکتے پر لب کشائی سے پہلے ان کو ایک اطلاع دینی مقصود ہے۔ وہ یہ کہ غامدی صاحب نے جوابی بیانیے پر اٹھنے والے بہت سے اعتراضات کے جواب میں اپنے نقظۂِ نظر کی تبیین کے لیے متعدد مضامین بھی لکھ دیے تھےجو سہ ماہی جی کے زیرِ نظر رسالے کی اشاعت سے کہیں پہلے ہی چھپ بھی چکے تھے۔ ان وضاحتی مضامین میں ان بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا گیا تھا جو ناقدین کو لگی تھیں۔ ان میں سے ایک ریاست اور حکومت کے عنوان سے تھا۔ زیرِ نظر مضمون سے یہ مبرہن ہے کہ صاحبِ مضمون کی نظر سے وہ نہ گزر پایا ہے۔ چنانچہ میری یہ گزارش ہے کہ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اگر آپ کے اس ضمن میں اٹھائے گئے بہت سے سوالات کے جوابات آپ کو نہ بھی ملے تو کم از کم اپنے اعتراضات کو بر محل کردینے میں ضرور مدد ملے گی۔

اب آئیے نفسِ اعتراض کی طرف۔ قطعِ نظر اس سے کہ ریاست کی ماہیت پر کی گئی تمام بحث کس قدر مدلل یا مبہم ہے، یا کس قدر ضروری یا غیر ضروری ہے، اصل اہمیت اس چیز کی ہے کہ جوابی بیانیے سے متعلق اس بحث سے کون سے نتائج برآمد کیے جا سکتے ہیں؟ تو منطقی طور پر یہ دو ہی نتائج ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ چونکہ جدید ریاست ایک حاویِ حیات وجود ہے، اس لیے مذہبی شناخت کے بغیر اس کا تصور ہی نہیں ہو سکتا؛ جس کا معکوس یہ ہے کہ مذہب اگر ریاست سے متعلق نہیں تو پھر وہ کسی چیز سے بھی متعلق نہیں (جی ہاں! یہ حیران کن دعویٰ صاحبِ مضمون نے صراحتاً بھی کیا ہے)۔ یا دوسرا یہ کہ فلاں اور فلاں آیات یا احادیث سے یہ مترشح ہے کہ مسلمانوں کی ریاست کا مذہب اسلام ہونا ضروری ہے۔

دوسرا نتیجہ تو صاحبِ مضمون نے اخذ نہ کرنے کا دعویٰ آغاز ہی میں کر دیا اس لیے لازماً پہلا ہی ہدف مطلوب ہو سکتا ہے۔ یعنی وہ اپنی ساری کارگزاری سے یہی باور کرانا چاہتے ہوں گے، یا یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کا ہدف منطقی طور پر یہی ہو سکتا ہے، کہ جدید ریاست کا وجود یا تو مذہبی شناخت کے بغیر ممکن نہیں یا کم از کم غیر افادی و غیر عملی ہے۔

میری نظر میں یہ نتیجہ بوجوہ درست نہیں۔ ایک تو اس لیے کہ دنیا کی بہت سی ریاستیں جنہوں نے کوئی مذہبی شناخت اختیار نہیں کی، بلکہ واضح الفاظ میں لادینیت کی قائل ہیں، وہ اسی دنیا میں اپنا وجود بھی رکھتی ہیں اور کامیابی سے اپنا سفر ترقی کی راہ پر جاری بھی رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں مختلف مذاہب نہ صرف یہ کہ اپنا وجود رکھتے ہیں، سیاست میں روح کی حیثیت رکھتے ہیں، بلکہ بہت جگہوں اور مواقع پر قانون کی تخلیق و ترویج میں – ہر چند محدود – اپنا اثرو رسوخ بھی۔ دوسرے اس لیے کہ صاحبِ مضمون نے جا بجا یہ غلطی کی ہے کہ وہ ریاست، حکومت، سیاسی طاقت، قانون وغیرہ کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً غامدی صاحب کی وہ سب تصریحات جو انہوں نے حکومت اور قانون کے مذہب سے تعلق پر کیں ہوتیں ہیں، اور جو اسی مضمون میں بھی کیں ہیں، ان کو وہ گنتی میں ہی نہیں لاتے۔

میری رائے میں جوہر صاحب، اور ان کی طرح کے اور بہت سے دینی حمیت کے حاملین، ریاست کے مذہب سے لا تعلقی کا مطلب با اوّل واہلہ یہ لے لیتے ہیں، اور پھر اسے تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، کہ شائید بعض مغربی ممالک جیسے فرانس وغیرہ کی طرح لوگوں کی اجتماعی زندگی سے مذہب کو کان پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک عامی مسلمان سے اس قسم کی فہمی روش متوقع ہے، پر جوہر صاحب کوئی عامی مسلمان تو نہیں۔ ان کی لکھائی سے تو وہ ایک بہت ذہین اور چیزوں کا دقّتِ نظر سے مطالعہ کرنے والے انسان لگتے ہیں۔ انہیں تو یہ باور کرنا کوئی مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ نہ غامدی صاحب الحادی یا استعماری نظام کی وکالت کر رہے ہیں اور نہ ہی حکومت و قوانین سے مذہب کو بے دخل کر رہے ہیں۔ بلکہ جوہر صاحب تو یہ بھی جانتے ہی ہوں گے کہ علی اعلان لادینی ریاستیں بھی سب ایک جیسی نہیں ہیں۔ ان میں بھی تفاوت اور امتیازات اس قدر ہیں کہ مذہب اب بھی ہر جگہ اپنا اثرو رسوخ رکھتا ہے۔ فوراً یہ فرض کر لینا کہ بس جی مذہب کا پتا ہی صاف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بہترین الفاظ میں بھی کمال سادگی کا مظہر ہے۔

ریاست کے مذہب سے تعلق پر فقط اتنی بات غامدی صاحب نے کی ہے کہ موجودہ دور کی قومی ریاستوں کو مذہبی شناخت نہیں دی جا سکتی۔ ایسا اِن ریاستوں کی نوعیت کے باعث ہوا ہے۔ یعنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ان کے ساتھ مذہب کا تعلق جوڑنا درست نہیں رہا۔ اور چونکہ ہمارے مذہب نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم بھی نہیں دیا اس لیے ان ریاستوں کو مذہبی شناخت دینے کی نہ تو شرعی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کرنا انصاف کے مطابق ہی رہا ہے۔ رہی بات حکومت، قانون وغیرہ کی، تو چاہے وہ انفرادی نوعیت کے مسائل ہوں یا اجتماعی نوعیت کے، نہ صرف یہ کہ اکثریتی مذہب والے اپنے عقائد پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں بلکہ ان میں سے حکمرانوں کی تو یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے مطابق قانون سازی کریں؛ بس اس استثنا کے ساتھ کے ان کا دائرہ کار اس مذہب کے ماننے والوں تک ہی محدود رہے گا۔ اسی لیے نویں اور دسویں نکتے میں غامدی صاحب نے یہ بالکل معین انداز میں درج بھی کر دیے ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے غامدی صاحب کا محولہ بالا مضمون دیکھیں یا میرے اور تجزیات۔ جیسے مثلاً یہ تجزیہ ملاحظہ ہو۔

رہی بات جوہر صاحب کے اس کنایہ استنتاج کی کہ غامدی صاحب کو ریاست کی کچھ سمجھ ہی نہیں، تو باوجود اس کے کہ یہ دعویٰ بے بنیاد ہے، اس کا فیصلہ ہم قارئین پہ چھوڑتے ہیں۔ کیا ریاست کے بارے میں اس شخص کا فہم قابلِ اعتماد ہے جو موجودہ دور کی قومی ریاستوں کی نوعیت سے غض بصر کیے ہوئے ہے اور حاضرو موجود لادینی ریاستوں میں بھی مذہب کے وجود کو گنتی میں ہی نہ لایا ہے۔۔۔یا اس شخص کا جو یہ کہتا ہے کہ موجودہ دور کی ریاستوں کو دینی تشخص نہیں دیا جا سکتا باوجود اس کے کہ ان میں رہنے والے عوام اور حکمران اپنے انفرادی اور اجتماعی مذہبی عقائد کے تحت نہ صرف زندگی گزارنے کا پورا حق رکھتے ہیں بلکہ سیاست اور قوانین میں ان کے پابند بھی ہیں۔

تیسرا ریشہ وہی الزامات کا ریشہ ہے جس سے اب تلک لکھے گئے تمام تنقیدی مضامین کا آغاز ہوتا ہے۔یہی کہ غامدی صاحب استعماری اور استشراقی ایجنڈے کے نمائندے ہیں اور مذہب ہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

تو میرے قارئین جانتے ہیں کہ اس قسم کے الزامات کا میں جواب نہیں دیا کرتا۔ کیونکہ ان کا جواب لامحالہ کڑوا ہی ہوتا ہے اور ایسی کڑواہٹ طرفین کو دوُر لے جاتی ہے۔ ہم صاحبِ مضمون کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں غامدی صاحب کی بات کو کھلے دل سے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اختتامیہ: آخر میں ایک بار پھر میری تمام صاحبانِ مضمامین سے برادرانہ التماس ہے کہ اگر کہیں کوئی لب و لہجہ ادب کے منافی ہو تو اسے نادانستہ سمجھیں اور اس پر میری معذرت قبول فرمائیں۔ مگر جو جوابات معقول لگیں ان کو تسلیم کریں اور جو غلط پائیں اس پر ضرور مطلع فرمائیں۔

Advertisements

6 Comments Add yours

  1. کاشف نے کہا:

    السلام علیکم آ پ کی تنقید کا شکریہ- میرا تعلق جی کی مجلس ادارت سے ہے- آپ نے اس مضمون میں غامدی صاحب پر جی کا خصوصی شمارہ نہ ملنے کا ذکر کیا ہے- اگر آپ مجھے اپنا ایڈریس ای میل کر دیں تو میں آپ کو شمارے کی ایک کاپی ارسال کر دوں گا- شکریہ

    1. کاشف نے کہا:

      السلام علیکم ایڈریس کا شکریہ- براے مہربانی یہ بهی بتا دیجئے کہ ہم کس کے نام پر رسالہ بهیجیں؟

  2. Abdullah Tawfiq نے کہا:

    السلام علیکم
    علامہ جاوید احمد غامدی صاحب کا دفاع کرنا ہم پر لازم ہے، اور آپ نے گزشتہ مضامین میں یہ فرض بہت عمدگی سے ادا کیا ہے۔ لیکن اس مضمون میں بہت مسائل ہیں۔ لگتا ہے کہ محمد دین صاحب کے مضمون میں کہی گئی بات آپ پر واضح نہیں ہو سکی۔ اپنا دفاع تو صاحب مضمون خود کریں گے، لیکن اب اس کی ضرورت ہے کہ المورد کا کوئی سکالر "سہ ماہی جی” میں ہونے والی بہت علمی اور وقیع لیکن ہمارے لیے بہت ہی خطرناک تنقید کا جواب دینے کی سعی کریں۔ ورنہ کہین یہ تنقید دراصل ترقی پسند اسلام کی بنیاد ہی کو منہدم نہ کر دے۔ امید ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ اس کے لیے ہمت کرے گا۔ جس میدان میں "سہ ماہی جی” کے لوگوں نے قدم رکھا ہے، پراگریسو اسلام اگر اس میں ان لوگوں کا مقابلہ نہ کر سکا تو بہت نقصان ہو گا۔ مخلص عبداللہ توفیق

    1. Bold and Bearded نے کہا:

      و علیکم السلام!
      جوابی بیانیے پر محمد دین جوہر صاحب کی تنقید کا کوئی علمی استدلال اگر تجزیہ سے رہ گیا ہے، یا آپ کی نظر میں تجزیے کے کسی نکتے کا استدلال ہی کمزور ہے تو براہ مہربانی مطلع کیجیے۔ ہم یہاں سیکھنے کے لیے ہی تو بیٹھے ہیں۔
      اور رہی بات بنیاد ہی منہدم ہو جانے کی تو اس پر عرض ہے کہ اگر بنیاد منہدم ہو جائے تو یہ تو ہم پر بہت احسان ہو گا۔ کیونکہ بنیاد اسی چیز کی منہدم ہوا کرتی ہے جو باطل ہوتی ہے۔ تو اگر ہم پر کسی استدلال سے یہ واضح ہو جائے کہ جوابی بیانیہ درست نہیں تو آپ کے خیال سے ہمیں اس ‘نقصان’ سےبچنا چاہیے؟ کم از کم ہماری تو یہ تعلیم نہیں۔
      والسلام پیارے بھائی

  3. Abdullah Tawfiq نے کہا:

    محترم بھائی صاحب، میری بات واضح نہیں تھی۔ سہ ماہی جی کی بے جا تنقید سے لبرل اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس نقصان کی یہ وجہ نہیں ہے کہ سہ ماہی جی کی تنقید ٹھیک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک ان کی تنگ نظری کی پکی اور ٹھوک بجا کر تردید نہیں ہوئی۔ سہ ماہی جی کی تنقید مجھے ٹھیک نہیں لکتی۔ میں اسے پوری طرح سمجھ تو نہیں سکا، اور نہ مجھے جواب لکھنا آتا ہے۔ البتہ اس کے برے اثرات پھیل رہے ہیں اور لوگ علامہ جاوید احمد غامدی صاحب سے بلاوجہ بدظن ہو رہے ہیں۔ لیکن آپ کا جواب اس تنقید کا رد نہیں کر پایا۔ ڈاکتڑ محمد دین صاحب کی تنقید یہ ہے کہ ماڈرن اسلام پورا کا پورا ہی ایک دور میں پیدا ہوا۔ قرآن مجید کے جو معنی لبرل اسلام نے بیان کیے ہیں، وہ مغربی اثرات کے بعد ہی پہلی مرتبہ سامنے آئے۔ ایسا کیوں ہوا ہے؟ اس کی وجہ ہمیں بتانی ہے تاکہ علامہ غامدی ساحب پر سے یہ ناجائز اور غلط الزام ہٹایا جا سکے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ علامہ جاوید احمد غامدی صاحب جتنے بھی ماڈرن ہوں ، لیکن وہ اسلام کی بہت بہترین شکل پیش کر رہے ہیں جو تعلیم یافتہ لوگوں کو پسند آ رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ علامہ غامدی صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مذہبی موقف ایک”فکر” پر مبنی ہے، اور ڈاکٹر محمد دین چاہتے ہیں کہ اس”فکر” پر بحث ہو۔ یعنی جدیدیت، استعمار، وغیرہ پر۔ آپ ماڈرن سوشل سائنس کے میدان کے آدمی نہیں ہیں، اور ان چیزون میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جب کہ ڈاکٹر صاحب بہت چالاک معلوم ہوتے ہیں۔ آپ کے مضمون میں اس الزام تراشی کا شافی جواب نہیں ہے۔ میں نے اس لیے مشورہ دیا تھا کہ آپ علامہ جاوید احمد غامدی صاحب سے رابطہ کریں۔ وہ ضرورآپ کی رہنمائی کریں گے۔ یہ ہے میری اصل بات۔
    اس میں کیا شک ہے کہ سہ ماہی جی کی تنقید ایک خاص فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت منصوبہ بندی سے کی گئی ہے۔ بعض باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ بریلوی ہیں۔ روشن خیالی کے خلاف ایک کٹر تعصب رکھتے ہیں۔ اس رسالے کی تحریروں میں کمزوری ہے۔ جن لوگوں پر خود بدعتوں کا الزام ہے، وہ علامہ جاوید احمد غامدی کے بارے میں بے جا باتیں لکھ رہے ہیں۔ کسی ویب سائٹ پر آیا ہے کہ ان لوگوں کا ایک خاص ایجنڈا ہے۔
    آپ نے سہ ماہی جی کا پورا شمارہ نہیں پڑھا۔ اگر آپ پورا رسالہ پڑھ لیں تو ڈاکٹر دین محمد صاحب کی بات کی غلطی واضح ہو گی۔
    درخواست ہے کہ آپ یہ مضمون سائٹ سے ہٹا کر دوبارہ لکھیں، اور زیادہ تفصیل سے لکھیں۔ ہمیں جاوہد احمد غامدی صاحب کی اصل بات کو سمجھنا چاہیے، اور اسلام کی دقیانوسی شکل کو نہیں ماننا چاہیے۔ مولوی لوگ ہمیں پھر سے ماضی میں لے جانا چاہتے ہیں۔ علامہ جاوید احمد غامدی صاحب اسلام اور جدیدیت میں ہم آہنگی ثابت کر رہے ہیں ان کی بات ہی ٹھیک ہے اور تیزی سے پھیل رہی ہے۔
    میں آپ پر تنقید نہیں کر رہا۔ مخالفوں کی تنقید کی اہمیت بتانا چاہتا تھا۔ اس کا جواب دینا بہت ضروری ہے۔ آپ نے پچھلے آرٹیکلز میں علامہ جاوید غامدی صاحب کا اچھا دفاع کیا ہے۔ مولویوں کو خاموش کرایا ہے۔ میں اور میرے جیسے بہت لوگ آپ کی اس کامیابی کو مانتے ہیں۔ شکریہ۔

    1. Bold and Bearded نے کہا:

      محترم جناب عبداللہ صاحب،
      محمد دین جوہر صاحب نے غامدی صاحب کی ‘فکر’ پر تنقید کرتے ہوئے اس مضمون میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ غامدی صاحب کی فکر کا مبسوط بیان درکار ہے۔ میں نے اپنے تجزیے میں ان کو اس مبسوط بیان کے محل سے آگاہ کر دیا ہے۔ جب وہ اس بیان پر – یعنی میزان میں بیان کی گئی فکر کی تفصیل پر -قلم اٹھائیں گے تو انشآءاللہ ان کے نقد کا بغور تجزیہ کرنے میں مجھے یا اور لوگوں کو کوئی قباحت نہیں ہو گی۔ جوابی بیانیہ تو کچھ نتائج تک محدود تھا۔ اور ان نتائج سے تعرض کو کم از کم اس مضمون میں جوہر صاحب نے لائقِ التفات جانا ہی نہیں۔
      مزید برآں آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ غامدی صاحب کی عمومی فکر اور اس فکر کے بہت سے پہلوؤں پر نقد وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔ اس کے لیے ‘الشریعہ’ یا ‘اشراق’ وغیرہ کے کسی شمارے پر ایک نظر ہی تصدیق کے لیے کافی ہو گی۔ اور یہ نقد کوئی آجکل نہیں بلکہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے چل رہا ہے۔ یہ جو آپ نے ‘لبرل اسلام’ اور ‘مغربی اثرات’ کے زاویے کے اعتراض کی جوہر صاحب کی نسبت سے نشاندہی کی ہے تو مجھے حیرت ہے کہ آپ کے خیال میں یہ کوئی منفرد یا انوکھا اعتراض ہے جو ابھی تک جواب طلب ہے۔ اعتراضات کا تو یہ وہ ریشہ ہے جو اب تک لکھے گئے اکثر نہیں تو بہت سے مضامین کا یا تو مرکزہ ہے یا پھر معتد بہ حصہ اس پر مشتمل رہا ہے۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ یہ تو غامدی صاحب پر ہونے والی تنقید کا ‘پامال’ زاویہ ہے تو قطعاً بے جا نہ ہو گا۔اس زاویے میں اب کسی انفرادیت یا انوکھے پن کا دعویدار ہونا شائید ان مباحث سے ناآشنائی کے سوا کسی بھی چیز کو لازم نہیں۔ بہر حال، ماضی کے محولہ بالہ رسائل کا مطالعہ کیجیے، آپ کو یقیناً حیرانی ہو گی کہ مباحث کا یہ ریشہ اب اتنی کروٹیں لے چکا ہے کہ اب ان اعتراضات کا جواب نئے سرے سے دینا بحث کو پہیہ ایجاد کرنے کے زمانے سے دوبارہ گزارنے کے مترادف ہو گا۔
      تاہم یہ زاویہ غیر اہم ہے اور قرآن و حدیث سے استنباط کے میدان میں بالکل بے وقعت۔ بلکہ یہ تو وہ زاویہ ہے جس کے تحت ہماری امت کے بڑے بڑے اکابرین بھی ملزم ٹھہرے رہے۔ چاہے وہ ابنِ تیمیہ ہوں یا تقی عثمانی، اس طرح کے الزامات سے کوئی بھی اپنا دامن نہ بچا سکا۔ باایں ہمہ، دین کے طالبعلموں کی توجہ ہمیشہ ‘نئی اور پرانی’ یا ‘مشرقی و مغربی’ کے بجائے ‘صحیح اور غلط’ پر مرکوز رہنی چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ واحد میدان ہے جس میں علم بسیرا کرتاہے۔
      رہی بات آپ کے اس تجزیہ کو غیر تسلی بخش قرار دینے کی، تو آپ کو اس رائے کا پورا حق، اور مجھے اس کا پورا احترام ہے۔ مجھے آپ کی اس رائے سے اختلاف ہے اور ظاہر ہے کہ مجھے بھی اس کا پورا حق ہے۔ میرا تجزیہ اور آپ کا تبصرہ قارئین کی نظر میں آ گیا ہے۔ تسلی بخش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ تو جیسے آپ نے خود کیا قارئین نے بھی خود ہی کرنا ہے۔
      والسلام

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s