دینی اصطلاح کسے کہتے ہیں؟

غامدی صاحب نے جب سے اپنے "جوابی بیانیے” میں یہ فرمایا ہے کہ:

نہ خلافت کوئی دینی اصطلاح ہے اور نہ عالمی سطح پر اس کا قیام اسلام کا کوئی حکم

تب سے ناقدین نے خلافت کے عنوان کو بہت بحث و تمحیص کا موضوع بنایا ہے۔ یہ ایک اچھا رجحان تو ہے کہ آراء پر علمی مباحثے جاری ہوں تا کہ اُن کے ردّ و قبول میں عوام کو شرحِ صدر نصیب ہو سکے۔ تاہم، ہماری بد نصیبی کہ یہ بحث ابھی تک کوئی نفع بخش رخ اس لیے اختیار نہیں کر پائی کہ غامدی صاحب کے دعوے میں جو چیز اصل اہمیت رکھتی تھی اسے چھوڑ کر ایک ضمنی نوعیت کی چیز کو محورِ تنقید بنا ڈالا گیا ہے۔

دورِ حاضر کے مسائل سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اِس زمانے میں جن لوگوں نے بہیمانہ خونریزی برپا کر رکھی ہے اور قتل و غارت گری کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں وہ وہ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ دینِ اسلام نے عالمی سطح پر ایک حکومتِ الٰہی کا قیام امت پر فرض کیا ہے۔ پھر اس فرض کی تکمیل کے لیے وہ غیر مسلموں کے بارے میں بے پرواہی سے "لَيْسَ عَلَيْنَا فِي غیر المسلمین سَبِيلٌ” کا مظاہرہ تو کر ہی رہے تھے، مگر ساتھ ہی اُن کی اِس "مقدس” سعی میں ہمنوائی اختیار نہ کرنے والے مسلمانوں کے قلع قمع کو بھی وہ عین مقصدِ دین سمجھ بیٹھے ہیں۔ چنانچہ غامدی صاحب کے فرمان کا اصل ہدف تو ظاہر ہے یہی تھا کہ اِن لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ ایسی کسی عالمگیر اسلامی سلطنت کا قیام دین میں سرے سے مقصود ہی نہیں۔ اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے استدلال کی تکمیل کی غرض سے یہ بات بھی ضمناً بیان کر دی گئی کہ خلافت کا لفظ تو کوئی دینی اصطلاح بھی نہیں ہے۔

اِس سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ صحتمندانہ مباحثہ شروع ہوتا کہ آیا عالمگیر خلافت کا قیام دینی فریضہ ہے کہ نہیں۔ مگر کیا کیجیے کہ یہ خواب تو ابھی تک شرمندۂ تعبیر ہے۔ ناقدین نے بد قسمتی سے اپنا پورا زور اس طرف لگا دیا کہ خلافت ایک دینی اصطلاح ہے کہ نہیں۔ اور یہ نہیں کہ صرف دانشوروں اور عوام نے اِس ذوقِ انتخاب کا مظاہرہ کیا ہو۔ جلیل القدر علما نے بھی اپنی تمام تنقید اسی ایک نکتے پر مرکوز کر دی۔ اور موضوعِ بحث یہ ہو گیا کہ دینی اصطلاح کیا ہوتی ہے۔ اسے بنانے کا حق کسے ہوتا ہے۔ اور کس کس سلف نے خلافت کو دینی اصطلاح کہا ہے۔

پس مجھے اس چیز کا احساس ہو چکا ہے کہ چاہ و ناچاہ پہلے ناقدین کے اس اشکال کو رفع کرنا ہو گا ورنہ وہ محولہ بالا عبارت کے اگلے اور اصل حصے پر غور و فکر کے لیے آمادہ ہی نہیں ہوں گے۔ چنانچہ اس مضمون میں یہی خدمت سر انجام دینا میرے پیشِ نظر ہے۔

اِس موضوع پر ابتک بہت سے تنقیدی مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ اور اِن سب کا استقصا کیا جائے تو جو تخمی مسئلہ ناقدین کو درپیش معلوم پڑتا ہے وہ یہی ہے کہ نہ جانے غامدی صاحب کا دینی اصطلاح کا معیار کیا ہے جس پر تول کر وہ خلافت کے دینی اصطلاح ہونے کی نفی کر رہے ہیں۔ تو چلیے اس ضمن میں چند گزارشات ذیل میں گوش گزار ہیں۔ امید ہے یہ گزارشات مخلص طالبینِ وضاحت کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔

دینی اصطلاح کسے کہتے ہیں

دین کا لفظ مسلمانوں کے ہاں صدیوں سے مذہب کے عمومی معنی میں مستعمل ہے۔ اِسے چاہے عوام استعمال کریں یا علما، یہ اپنے اس عمومی مفہوم میں وسیع تر انداز میں تمام مذہبی تصورات و مباحث کے احاطے کے لیے آتا ہے۔ چنانچہ فقہ، حدیث، تفسیر وغیرہ سب اسی کے فنون اور اسی کی شاخیں شمار ہوتی ہیں۔ پس ان شاخوں میں اگر کوئی اصطلاحات فقہا، محدثین، مفسرین وغیرہ کی طرف سے کھینچی جاتی ہیں جنہیں وہ فہمِ دین ہی سے اخذ کرتے ہیں، تو انہیں بھی مذہبی اور دینی اصطلاح کہہ دیا جاتا ہے۔ لفظ کا یہ استعمال زبان کے اصولوں کے مطابق ہے اور اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ، یہ واضح رہے کہ یہ اصل میں دین اور دینی اصطلاح کے الفاظ کا ایک عامیانہ استعمال ہے۔

تاہم، دین کا لفظ ایک خاص تکنیکی حیثیت بھی بہر حال رکھتا ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ اپنی اس حیثیت میں یہ لفظ خاص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف نسبت رکھتا ہے، اور دوسرے کسی انسان کا اپنے مفہوم میں تصرف برداشت نہیں کرتا۔ پس اس مفہوم میں جب کوئی شخص کسی چیز کے دین ہونے کی نفی کرتا ہے تو اُس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ فقہ یا حدیث وغیرہ میں وہ چیز کوئی جگہ نہیں رکھتی۔ بلکہ سیدھے سادے الفاظ میں یہ کہا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ چیز ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے نہیں بتائی۔ اس مفہوم میں جب کسی اصطلاح کو دینی کہا جائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ اصطلاح اللہ یا رسول نے دین کے کسی تصور کو بیان کرنے کے لیے اختیار کی ہے۔

چنانچہ، یہ دوسرا مفہوم ہے کہ جس میں غامدی صاحب خلافت کا دینی فریضہ اور دینی اصطلاح ہونے کی نفی کر رہے ہیں۔ اس نفی سے ان کی مراد یہ نہیں کہ فقہا نے کبھی اسے فرض قرار نہیں دیا، یا انہوں نے اسے کبھی اپنی اصطلاح نہیں بنایا۔ بلکہ فقط یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ فقہا اور علماءِ امت چاہے کچھ بھی کہتے رہے ہوں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کبھی خلافت کو دینی فریضہ نہیں بتایا اور نہ ہی اسے کبھی دینی اصطلاح کی حیثیت دی۔

معزز ناقدین کو اگر اس مفہوم میں یہ لفظ پسند نہیں تو ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہماری تعلیم اور سہولت کے لیے کوئی اور ایسا لفظ تفویض فرما دیجیے جو "اللہ اور اس کے رسول ﷺ” تک دائرے کو محدود رکھ کر کوئی دعوٰی کرنے کے لیے استعمال ہو سکے، اور آپ کی گراں باریِ طبع کا باعث بھی نہ بنے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ غامدی صاحب کو اس نئے لفظ کے استعمال پر آمادہ کر لوں گا۔

اسی طرح اصطلاح کسے کہتے ہیں، یہ بھی سمجھ لیتے ہیں۔ جب عام بول چال کا کوئی لفظ اٹھا کر اس میں کسی خاص فن کے اضافی معنی کو ایسے شامل کر دیا جائے کہ وہ لفظ اب جب بھی اُس سیاق میں استعمال ہو تو اضافی معنی بھی آپ سے آپ مراد ہو جائیں، تو اسے اصطلاح کہتے ہیں۔ نتیجتاً، اس اضافی معنی کا بار بار علیحدہ طور پر اظہار کوئی ضروری نہیں رہ جاتا، اور لفظ اپنے اضافی مدعا کو اکیلے ہی ادا کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔ ایسا لفظ اپنے لغوی معنٰی تو برقرار رکھتا ہی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ جب وہ اصطلاح بن جاتا ہے تو خاص موقع و سیاق میں اصطلاحی مفہوم میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ اصطلاحیں دنیا کے ہر علم میں بنتی ہیں اور کسی بھی میدان کے ماہر ِفن انہیں اپنی سہولت کے لیے بناتے رہتے ہیں۔ جیسے مثلاً علمِ سیاست میں جمہوریت یا اشتراکیت وغیرہ، علمِ طب میں سرطان یا فالج وغیرہ، علمِ ریاضی میں جمع یا تقسیم وغیرہ، علمِ حدیث میں صحیح یا ضعیف وغیرہ، علمِ فقہ میں حدثِ اصغر و اکبر وغیرہ وغیرہ۔ دینی اصطلاحیں بھی اسی طرح بنتی ہیں۔ مگر جس طرح دین اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ اور کوئی نہیں بنا سکتا، اسی طرح دینی اصطلاح بھی اپنے اس تکنیکی مفہوم میں بس یہی ہستیاں بنا سکتی ہیں۔

اب آئیے چند مثالوں سے یہ دیکھتے ہیں کہ ماہِر فنون جو اصطلاحیں بناتے یا اختیار کرتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہی بنائی ہوئی ہوں۔ اور اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ جو الفاظ دین کے ماخذوں میں استعمال ہو گئے ہوں وہ سب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اصطلاحیں بن گئی ہوں۔

رسول، قیامت، صلوۃ، حج وغیرہ دینی اصطلاحیں ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے اس سے صرفِ نظر کر لیں کہ یہ بنی کب اور کیسے تھیں، تاہم یہ طے ہے کہ ان کا اصطلاح کی حیثیت سے استعمال اللہ اور بنی کریم ﷺ کی طرف سے جا بجا ہوا ہے۔ رسول، عربی میں پیامبر اور سفیر کو کہتے ہیں۔ یہ آج بھی ریاستوں کے سفیروں کے لیے مستعمل ہے۔ مگر قرآن و حدیث میں یہ لفظ اللہ کی طرف سے لوگوں تک پیام و ہدایت پہنچانے پر مامور اشخاص کے لیے تسلسل سے استعمال ہوا ہے۔ پس دینی اصطلاح کی حیثیت سے یہ لفظ صرف رسول نہیں بلکہ رسول اللہ کے اضافی معنی میں خود اللہ نے استعمال کیا۔ قیامت، صلوۃ، حج وغیرہ بھی اسی طرح اپنے لغوی مفاہیم بھی رکھتے ہیں اور خود قرآن و حدیث میں بھی اِن مفاہیم میں استعمال ہوتے رہتے ہیں ۔مگر ساتھ ہی قرآن و حدیث نے انہیں دینی اصطلاح بنا کر مرنے کے بعد جی اٹھنے والے دن، ایک خاص روزمرہ عبادت کے طریقے، اور بیت اللہ کے مناسک کی ادائیگی کے لیے خاص بھی کر دیا ہے۔ چنانچہ، یہ سب الفاظ اپنے خاص سیاق میں اکیلے ہی استعمال ہو کر اپنے پورے اصطلاحی مفہوم پر دلالت کر دیتے ہیں۔ چونکہ اِن سب اصطلاحات کا استعمال خود اللہ تعالٰی اور رسول کریم ﷺ نے دینی تعبیرات کی حیثیت سے کر دیا، اس لیے اب یہ سب دینی اصطلاحات ہیں۔

اس کے بر عکس یہ دیکھیے کہ صحیح، حسن، ضعیف وغیرہ سب محدثین کی بنائی ہوئی اصطلاحیں ہیں۔ ایسا نہیں کہ یہ الفاظ قرآن و حدیث میں کہیں استعمال نہیں ہوئے۔ عین ممکن ہے کہ ہوئے ہوں۔ مگر یہ سب جانتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں محدثین نے اِن کو جو مخصوص مفہوم پہنا کر اپنے فن کی اصطلاح بنا لیا، اس مفہوم میں اللہ و رسول ﷺ نے انہیں کبھی استعمال نہیں کیا۔ خود "حدیث” کے لفظ کو ہی لے لیں۔ اسے عوام و علما سب ہی رسول اللہ ﷺ کے فرمودات کے مفہوم میں اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی طے ہے کہ اللہ اور نبی کریم ﷺ نے اسے کبھی بطورِ اصطلاح استعمال نہیں کیا۔ سو روزمرہ کی بول چال میں یہ سب بھی مذہبی و دینی اصطلاحیں ہیں۔ مگر جب خاص تکنیکی مفہوم میں، کہ جس میں دینی اصطلاحیں صرف وہ ہیں جو اللہ تعالٰی و رسول ﷺ نے اختیار کیں ہیں، پوچھا جائے گا، تو یہ دینی اصطلاحیں نہیں کہلائیں گی۔۔۔۔کیونکہ شریعت کے ماخذوں میں یہ بطورِ اصطلاح استعمال نہیں ہوئیں۔

رہی یہ بات کہ ہر وہ لفظ جو قرآن و حدیث میں آ گیا ہے، چاہے لغوی مفہوم میں یا چاہے زمانۂ نزولِ قرآن کے کسی معروف عربی اصطلاح کی حیثیت سے، وہ بھی کیا دینی اصطلاح بن جاتا ہے۔۔۔۔ تو ظاہر ہے کہ نہیں! پر چونکہ نہ اِس پر کوئی اشکال وارد کیا گیا ہے اور نہ ہی خلافت کے موضوع سے اِس کا کوئی تعلق ہے، اس لیے اس ضمن میں مثالوں سے میں اجتناب ہی کرتا ہوں۔

ممکن ہے بعض قارئین یہ سوال کریں کہ آخر دینی اصطلاح کی اِس بحث کی ضرورت کیوں پڑی۔ یقین جانیے میں بھی یہی سوچتا ہوں۔ کیونکہ فرض کیجے اگر غامدی صاحب نے کسی حدیث کے مدعا پر بحث کرنا ہوتی اور یہ رائے دینی ہوتی کہ حدیث کا مفہوم وہ نہیں جو سمجھا گیا ہے، تو انہیں اپنی بات کا آغاز یہ کہہ کر کرنا کیا ضروری تھا کہ حدیث تو کوئی دینی اصطلاح ہی نہیں؟ کیونکہ قطعِ نظر اس سے کہ یہ دعوٰی بالکل درست ہوتا یہ نہ صرف غیر ضروری ہوتا بلکہ اس سے بحث کا رخ ایک بالکل غیر اہم گفتگو کی طرف مڑنا تقریباً لازمی ہوتا۔۔۔۔اور جیسا کہ یہاں خلافت کے باب میں ہو گیا ہے۔

مگر غور کرنے پر مجھے سمجھ میں آ گیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے۔ اور قارئین بھی اگر غور کریں گے تو وہ بھی سمجھ جائیں گے۔ دیکھیں یہ دعوٰی کرنا اس لیے ضروری تھا کہ غامدی صاحب جانتے تھے کہ جب وہ یہ کہیں گے کہ کسی حکومتِ الٰہیہ کے قیام سے متعلق کوئی احکامات قرآن و سنت میں نہیں تو معترضین ضرور وہ آیتیں اور احادیث سامنے لے آئیں گے جن میں خلافت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نتیجتاً غامدی صاحب کو یہ مکالمہ کرنا ہی پڑے گا کہ یہ لفظ کسی اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ لغوی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اِس لیے اِس نکتے کو وہ اٹھا کر آغاز میں ہی لے آئے تا کہ مسئلے کو اپنی تمام جہتوں سے ایک ہی مرتبہ زیرِ بحث لے آیا جائے۔

تاہم، آخر میں میری تمام ناقدین سے دردمندانہ اپیل ہے کہ بہت ہو چکی بحث اس غیر ضروری نکتے پہ۔ اب براہِ مہربانی اس بات کو مرکزِ گفتگو بنائیے کہ کیا مسلمانوں کو بحیثیتِ امت ایک عالمگیر حکومتِ اسلامی قائم کرنے کا کوئی حکم دین میں ہے کہ نہیں۔ یقین جانیے میرا وجدان ہے کہ امت کے اس مسئلے کے مقابل میں دینی اصطلاح کی بحث پر صفحات تسوید کرنے والے علما سے اللہ تعالٰی ضرور پوچھیں گے کہ کیا یہ کوئی "انا” (ego) کا مسئلہ تو نہیں بنا لیا گیا تھا کہ جس کے عوض امت کے ایک مہیب و مہلک مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہو؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s