تجزیۂ مجلّہ: ” ماہنامہ ایقاظ، خصوصی شمارہ برائے مارچ تا اپریل 2015 “

(غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کی تردید میں ماہنامہ ایقاظ، خصوصی شمارہ برائے مارچ تا اپریل 2015 ،میں بیان کردہ اعتراضات کے جوابات )

غامدی صاحب کے جوابی بیانیہ کے کچھ پہلوؤں کی تردید میں ایقاظ کا خصوصی شمارہ شائع ہو چکا ہے جو ان کی ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایقاظ ویسے تو ایک سہ ماہی رسالہ ہے جو دینِ اسلام کو متعدد جہات سے موضوعِ بحث بناتا ہے ۔ تاہم، یہ خصوصی شمارہ اس کے مدیر حامد کمال الدین صاحب کی طرف سے خاص طور پر مولانا وحید الدین صاحب اور غامدی صاحب (اگرچہ غامدی صاحب کا نام استعمال کرنے کی بجائے ان کے ادارے المورد کا نام ہی مصنفین نے استعمال کیا ہے)کے نظریات کے رد پر ہی شائع کیا گیا ہے۔ مدیر کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

ہماری یہ گفتگو ”اسلام میں فرد پرست نظریات کے پھیلاؤ” پر عمومی جہت سے ہے۔ وحیدالدین &المورد چونکہ اس تحریک کے روح رواں ہیں لہٰذا کہیں کہیں اس کا خصوصی ذکر آگیا ہے۔ ورنہ یہ گفتگو ”فرد پرست نظریات کے فروغ” پر ایک عمو می سیاق ہی میں کی گئی ہے۔

رسالہ چار حصوں میں منقسم ہے۔ اس میں سے پہلے تین حصے اصلاً مولانا وحید الدین صاحب کے نظریات پر مرتکز ہیں۔ مگر کہیں کہیں غامدی صاحب کے نظریات کو بھی ہدف بنا لیا گیا ہے۔ جبکہ، چوتھا حصہ غامدی صاحب کے جوابی بیانیے ہی کو مرکز پارہ بناتا ہے اور تقریباً ہر مضمون اس بیانیے کے کسی اقتباس کو آغاز میں ہی نقل کر کے اسی پر بحث کو مرکوز رکھتا ہے۔

میرے اس نشر پارے میں چونکہ صرف غامدی صاحب کے جوابی بیانیے پر اٹھائے گئے اعتراضات پر ہی بحث مقصود ہے، اس لیے رسالے کا چوتھا حصہ ہی مقامِ ارتکاز ہے۔ ہر چند، پہلے تین حصوں میں سے بھی وہ اعتراضات جو غامدی صاحب کے بیانیے کے کسی رخ کو چاہ و ناچاہ ہدف بناتے ہیں، انہیں بھی شاملِ گفتگو رکھا گیا ہے۔

میرا انداز یہ ہے کہ ناقد کے اعتراضات اس کے اپنے الفاظ میں نقل کر کے ان کا تجزیہ کیا جائے، اِس لیے اِس مضمون میں بھی میں نے تمام اعتراضات علیحدہ علیحدہ نقل کر کے ان پر تبصرہ کر دیا ہے۔ مگر چونکہ یہ ایک پورا رسالہ ہے جو تردید میں لکھا گیا ہے، صرف مضمون نہیں، اس لیے میں نے مناسب جانا ہے کہ اس پوری کاوش کا ایک اجمالی تجزیہ پہلے علیحدہ بیان کر دوں ،جس میں اصولی جہت سے اس پر ایک جامع تبصرہ ہو جائے ۔ میری رائے میں اس سے مجھے قارئین کے واسطے اُس "فاصلِ آب” (watershed)کی نشاندہی میں آسانی رہے گی جسے انفرادی جوابات کے موقع پر نمایاں کرنا شائید دیر کر دینے کے مترادف ہو گا۔

اصولی تجزیہ

اس رسالے کے مضامین میں مضمون نگاروں نے جس ہدف کو نشانہ بنا کے تمام دلائل رمی کیے ہیں، وہ اصل میں ایک ہدف نہیں بلکہ دو مختلف اہداف ہیں۔ اور ان اہداف کے درمیان تفریق نہ کرنا ہی وہ اصولی مغالطہ ہے جو مصنفین کے برآمد کردہ تمام نہیں تو اکثر نتائج میں حلول کیے ہوئے ہے۔ بلکہ میرا احساس تو یہ ہے کہ روایتی بیانیے کے حاملین کی اکثریت بھی اسی عارضے میں مبتلا ہے۔ وہ مغالطہ ذیل میں منکشف ہوتا ہے۔

مضمون نگاروں کے دلائل کی ایک جِہت تو یہ ہے کہ دینِ اسلام کے نصوص امّتِ مسلمہ کو متحرک کرتے ہیں کہ وہ ایک برادری بن کر رہیں۔ وہ جہاں بھی ہوں ایک دوسرے سے متصل و منسلک رہیں۔ ایک دوسرے کی خبر گیری کریں، دکھ درد میں شریک ہوں، ضرورت پڑنے پر کام آئیں۔ اگر کسی ظالم کا ہاتھ ان کی طرف اٹھے تو وہ یکجا ہو کر اس کے خلاف ڈٹ جائیں۔ یہاں تک کہ اگر ان کی استطاعت ہو تو اپنے ان بھائیوں کے دفاع کے لیے ظالموں سے جنگ بھی کرنے سے گریز نہ کريں۔ تو جہاں تک اس بات کا تعلق ہے تو یہ تو نہ صرف دین کے مجموعی فہم سے عیاں ہے بلکہ قرآن و حدیث کے نصوص سے بھی ثابت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے یہی نصیحت گونا گوں طریقوں سے مسلمانوں کو کی ہے۔ چنانچہ اس ہدف کو ثابت کرنے کے لیے جو دلائل دیے گئے ہیں، اور مسلمانوں کو ایسا کوئی ایکا بنانے کے لیے متحرک کیا گیا ہے، تو اس کی میں پوری تائید کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ غامدی صاحب بھی کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ مولانا وحید الدین صاحب نے اس پر کوئی اعتراض کیا ہے تو کس جِہت سے کیا ہے، اور نہ ہی سرِ دست اس سے مجھے کوئی سروکار ہے۔ مگر یہ واضح کرنا ضرور میری ذمہ داری ہے کہ غامدی صاحب نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد کی خواہش کو غلط، یا غیر ضروری ہی، قرار دیا ہو۔ اگر اس بارے میں صاحبانِ رسالہ کو کوئی مغالطہ لگا ہو تو ضرور اس کی تصحیح کر لی جائے۔

مگر ایک دوسرا ہدف بھی انہی دلائل سے حاصل کرنے کا دعویٰ کر لیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کی پوری دنیا میں ایک ہی حکومت و ریاست ہونی چاہیے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان پر فرض کیا ہے۔ چنانچہ موجودہ دور میں مسلمانوں کا متفرق ریاستوں میں تقسیم ہونا خلافِ شریعت ہے۔ تاہم، رسالے کے مصنفین جنگجو جماعتوں سے اختلاف کرتے ہوئے، گو شائید اپنے نفوس پر جبر کرتے ہوئے، اس کی اجازت مرحمت فرماتے ہیں۔ مگر صاف الفاظ میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ اجازت احکاماتِ اضطرار کے تحت ہے۔ یعنی چونکہ وہ مجبور ہیں کہ یکدم اس دنیا کو ان تمام ناجائز ریاستوں کے وجود سے پاک کرنا ان کے بس میں نہیں اس لیے وہ اس خلافِ شریعت وجود میں زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ ہاں مگر اصل یہی ہے کہ یہ ایک حرام کام ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہر مسلمان کو (پر امن طریقوں سے) اپنی استطاعت کے مطابق سر گرداں رہنا چاہیے۔

چنانچہ یہ وہ دوسرا ہدف ہے جو پہلے ہدف کے ساتھ ساتھ نہ صرف برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے بلکہ دینی فرض بھی قرار دے دیا گیا ہے۔ پس، اس ہدف و نتیجے کی پوری شدّ ومدّ سے نفی غامدی صاحب نے بھی فرمائی ہے، اور اس مضمون میں دلائل کے جوابات سے میں بھی کروں گا۔ قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کوئی احکامات موجود نہیں اور نہ ہی یہ خیال درست ہے کہ ہمارا دین، جو ابد الآباد تک زمین پر اللہ کی حجت ہے، سیاسی یا تمدّنی ارتقا کو منجمد کر دینے کے لیے آیا تھا۔

اس سے پہلے کہ میں اعتراضات کے جوابوں کی طرف جاؤں ایک بات واضح کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔ اس رسالے میں مضمون نگاروں کی طرف سے جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا ہے وہ کافی کچھ ہتک آمیز بھی ہے اور جا بجا بہتان تراشیوں سے لبریز بھی۔ استددلالات کو بھی غم و غصے کا تڑکا لگا ہوا ہے۔ مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ غصہ ایک اچھی جگہ سے برآمد ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ ہے دین کے لیے حمیت و غیرت کا جذبہ۔ ناقدین چونکہ اپنے تئیں دین کے نظری حدود کا دفاع کر رہے ہیں اس لیے کہیں کہیں جذبات کی رَو میں بہہ کر بے قابو ہو گئے ہیں۔ بد قسمتی سے دینی مباحث میں یہ معاملہ ہمیشہ سے عام ہے کہ چونکہ حاملینِ رائے کو اپنی رائے سے جذباتی لگاؤ بہت ہوتا ہے اس لیے آدابِ گفتگو پر ان کی گرفت کچھ ڈھیلی ہو جایا کرتی ہے۔ اس روش سے بچنا ممکن و مطلوب تو ہے مگر شاذ و نادر ہی اس کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ چنانچہ، نہ صرف یہ کہ ایسی تمام ہرزہ سرائیوں سے میں نے درگزر کیا ہے بلکہ میں ان حضرات کے دینی حمیت کے جذبات کی قدر بھی کرتا ہوں۔ تاہم، میری اُن سے صرف اتنی التجا ہے کہ اپنے جذبات کی آنچ کو ذرا ہلکا کر دیں تو انشآء اللہ میری گزارشات سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو اُن کے جذبات ہی، نہ کہ علم و عقل، اُن کے فیصلوں پر حکمران رہیں گے۔

اعتراضات و جوابات

ماہنامہ ایقاظ(خصوصی شمارہ،مارچ تا اپریل 2015):

i۔(جواب پر جائیے) اہل مورد کی جانب سے بار بار نکتہ بیان کیا جاتا ہے: قرآن نے کہا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ”مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں "۔ یہ تو نہیں کہا: المؤمنون قومٌ واحد!گویا لفظِ ”قوم” اُس زمانے میں ”نیشن” کے معنیٰ میں استعمال ہوتا بھی تھا! "نیشن” کے معنیٰ میں تو لفظ ”قوم” آج بھی عربی میں مستعمل نہیں! اور نہ اس سے پہلے کبھی رہا ہے! اور قرآنِ مجید ظاہر ہے عرب اور عربی میں نازل ہوا ہے! ایک مربوط شناخت کی حامل انسانی وحدت کےلیے شرعی نصوص میں ”الجماعۃ” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ کہیں مختصر طور پر ”الجماعۃ” اور کہیں پورا لفظ ”جماعۃ المسلمین”۔ نصوص کا تتبع کریں تو کہیں یہ ”قوم” کے قریب قریب معنیٰ میں آتا ہے (جو ایک نظریہ پر کھڑی ہو)، کہیں ”ریاست” کے قریب قریب معنیٰ میں، تو کہیں ایک مستحکم مجتمع سیاسی وسماجی قوت کے معنیٰ میں۔

ii۔(جواب پر جائیے) سنت اور سلف سے قرآنی آیت  وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُواکی جو تفسیر ملتی ہے و ہ بھی ”الجماعۃ” ہے… جو ہمارے آزاد خیال مفسرین کو شاید مشکل سے قبول ہو۔ ایک حدیث میں "و ان تعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا” اور دوسری میں "و لزوم جماعۃ المسلمین” سے ثابت ہو گیا کہ اس آیت سے مراد لزوم جماعۃ المسلمین ہے نہ کہ اپنے اپنے طور پر قرآن مجید سے تعلق قائم کرنا۔(جس پر آل وحید الدین کا پورا تصور دین کھڑا ہے) پھر مفسر طبری، ابن عبد البر، امام نووی بھی حبل اللہ کی اسی تاویل کی تائید کرتے ہیں۔

iii۔(جواب پر جائیے) ایک نکتہ جس پر بہت سارا کلام کیا گیا ہے اور ہر دوسرے صفحے پر لفظاً یا معنًا دہرایا گیا ہے وہ یہ کہ جدید ریاست اپنے وجود اور حدود اربعہ کی بنیاد اور جواز کے لیے کوئی اصول اور دلیل نہیں رکھتی۔ اور یہ کہ جو دلائل اس کے علمی و عقلی وجود کے لیے عام طور پر دیے جاتے ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں۔ اور ان کے بے بنیاد ہونے کے فلاں فلاں دلائل ہیں۔ بلکہ بارہا اسے ایک چیلنج کی صورت میں بھی پیش کیا گیا کہ آخر "کوئی تو ایک معقول بنیاد بتائیں”۔ جبکہ ماضی کی مسلم ریاستیں اور خلافتیں اپنے لیے فلاں اور فلاں علمی و عقلی دلائل رکھتی ہیں۔

iv۔(جواب پر جائیے) پھر جدید ریاستوں سے دین کے فلاں اور فلاں نقصان ہو رہے ہیں۔

v۔(جواب پر جائیے) ان کا فتویٰ ہے: ریاست ہونی ہی زبان اور رہن سہن وغیرہ کی بنیاد پر چاہئے۔ یعنی ہمیں لخت لخت کرنے کا ایک کھلا لائسنس؛ اسِ ‘زبان’ اور ‘رہن سہن’ کے فرق کو بنیاد بنا کر جتنے چاہو ہمارے ٹکڑے کر دو!

vi۔(جواب پر جائیے) البتہ ہمارا گلہ فی الحال یہاں ان مفتیانِ شرع سے ہے جو اس سمت میں قدم اٹھانا تو دور کی بات اس جانب دیکھنا ہی ہم پر حرام ٹھہراتے ہیں۔ ان کے قول کی رو سے یہ سمت ہی باطل ہے۔ ”ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ایک ملک” کی بات کرنا جی ہاں محض بات کرنا ہی شریعت کی خلاف ورزی ہے! ‘قدم’ تو بعد میں اٹھائے جائیں گے؛ اس بابت تو سوچنا ہی دین سے تجاوز ہے!

vii۔(جواب پر جائیے) اس عالمی سیناریو میں عزت دار رہنے کے لیے کیا آپ کے پاس "جماعۃ المسلمین” کے احیاء کے سوا کوئی مفر ہے اور جبکہ وہ آپ کی ‘ضرورت’ ہونے سے پہلے آپ پر ایک "فرضِ دینی” ہے؟ (جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے) عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الاِثْنَيْنِ أَبْعَدُ مَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ۔

viii۔(جواب پر جائیے) یہاں ایک طبقہ اب ایسا سامنے آیا ہے جو اس بات کو ہی اصولاً خلافِ شرع ٹھہراتا ہے کہ اس خطۂ زمین کے ریاستی معاملات میں شرعِ محمدیﷺ کو دستور ٹھہرا دیا جائے۔ اس کے خیال میں یہ یہاں رہنے والے غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے آپ ایک ”غصب” کا سوال اٹھائیں آپ کو وہ ”حق” ثابت کر لینا چاہیے جسے کسی ہندو یا عیسائی یا سکھ کو نہ دے کر آپ کے خیال میں ہم ظلم کر بیٹھے۔ ”ریاستی عمل” میں محمد ﷺ پر ایمان نہ رکھنے والے ایک شخص کو برابر کا حصہ دار نہ رکھنا اُس کے جس ‘حق’ کا غصب ہے اور وہ ‘حق’ جہاں سے واجب ہوا، اس کا تعین پہلے ضرور ی ہے۔ کافر یا مسلمان کا زمین پر ”فرد” کے طور پر جو حق ہے وہ تو ہمیں معلوم ہے۔ شریعت سے ثابت ہے۔ اس معنىٰ میں وہ زمین کے اتنے مرلے یا اتنے بیگھے یا اتنے مربعے کا ‘مالک’ ہے۔ اُس کا یہ حق اگر کسی نے چھینا ہے تو صاف ظلم کیا ہے۔ کافر بھی ہو تو وہ قطعۂ زمین اور اس میں جو کچھ ہے اس کی شرعی ملکیت ہے… اور بطورِ ”فرد” وہ اس میں تصرف کا پورا حق رکھتا ہے۔ البتہ یہ بات بطورِ جماعت(as a collective entity)وہ زمین کے ”وسائل اور اختیارات” کا بھی مالک ہے، ا سکی کوئی دلیل ہے آ پکے پاس؟ زمین کے وسائل اور اختیارات پر ‘حق’ کسی کا نہیں ہے برادرم۔ نہ مسلمان کا نہ کافر کا۔ نہ اقلیت کا نہ اکثریت کا۔ نہ جمہور کا نہ غیر جمہور کا۔ کوئی اگر کہتا ہے یہ فلاں کا حق ہے و وہ اس بات کی دلیل دے۔ خدا کی زمین پر اِس اجتماعی جبر اور تصرف کا حق خدا کی جانب سے اتاری ہوئی سند سے ہی ملے گا؛ آپ وہ دکھائیں تو بات ہے۔

ix۔(جواب پر جائیے) حضرات یہ راستہ (یعنی ریاست کو مذہب سے علیحدہ کرنا اور قراردادِ مقاصد کا آئینی بند توڑنا) آگے کہا ں تک جاتا ہے، شاید بہت کم لوگوں کو اس کا اندازہ ہے۔ یہ معاملہ صرف آئینی اور قانونی امور پر رکنے کا نہیں۔ اس بند کو توڑ کر یہاں جس ہیومن اسٹ سٹیٹ(humanist state) کا راستہ صاف ہو رہا ہے اور جس کے اندر—ریاستی عمل میں کسی اکثریتی ٹو لے کے مذہب کو کسی اقلیتی ٹولے کے مذہب یا نظریات پر حاوی ہونے کا حق (بظاہر) نہیں ہوتا— وہاں صورتحال یہ ہوتی ہے، کہ سکولوں کے نصاب میں اگر آپ کو صرف اتنی سی بات ڈالنی ہو کہ ”یہ کائنات کسی علیم اور خبیر ہستی کی تخلیق ہے(Intelligent design theory) تو اعتراضات کا تانتا بندھ جاتا ہے: جناب اس ملک میں ملحد بھی بستے ہیں؛ تعلیمی نصابوں کو ‘مذہب’ کے حق میں جانبدار نہیں ہونا چاہیے؛ ملک سب کا ہے! کلاس میں ٹیچر اگر خدا کے وجود کو ثابت کہنے کا ‘جرم’ کر بیٹھا ہے تو شکایات کے دفتر کھل جاتے ہیں ”ہم کسی مذہب وذہب کو نہیں مانتے ، تمہیں ہمارے بچوں کی ذہن سازی کا حق کس نے دیا ہے؛ ہم یہاں ٹیکس دیتے ہیں اور سب کے ٹیکس سے یہ سکول چل رہے ہیں؛ یہاں کوئی اپنے مذہب کے ساتھ ہم پر اثر اندازی influenceکیسے کر سکتا ہے”؟۔۔۔۔۔ہمیں رٹوایا جانے والا یہ جملہ کہ ‘ریاست کسی مذہب پر نہیں ہونی چاہئے’، عنقریب جو صورت دھار لینے والا ہے وہ آپکے ابلاغ اور تعلیم تک کا گلا گھونٹ کر رہے گی۔ اس کا طبعی اختتام لامحالہ یہ ہے: یعنی اجتماعی شعبوں میں ”غیبیات ” کے موضوع پر ہی ایک مکمل غیر جانبداری۔ ‘مذہب’ آپ کا ذاتی مسئلہ ہو گا؛ ‘سرکاری زمین’ صرف ”مشترکات” کے لیے مختص ہو گی۔ یعنی ریاستی عمل میں خود بخود آپ اُس دین پر آ گئے جس میں نہ یہ کہنے کی گنجائش کہ رسالت ہے اور نہ یہ کہنے کی گنجائش کہ رسالت نہیں ہے۔ انجامِ کار؛ صرف قوانین نہیں، آپ کے ایک ایک قومی شعبے سے "خالق”، "تخلیق”، "رسالت”، "آخرت” جیسی سب اشیاء باہر کر دی جائیں گی۔

x۔(جواب پر جائیے) اس سے مقصود (یعنی ریاست کے مذہب سے لا تعلقی اور قراردادِ مقاصد کی عدم ضرورت سے) اگر ایک ایسے اجتماعی عمل کی نفی ہے جہاں راعی اور رعایا ہر دو ایک دوسرے کو شرعِ خداوندی کے کٹہرے میں کھینچ لانے کے مجاز اور پابند ہوتے ہیں، تو یہ ایک انتہائی خطرناک سٹیٹمنٹ ہے۔ سورۃ النساء آیت 59 کے تحت تو معاشرہ (جماعت) بطورِ مجموعی شرعِ خداوندی کے پاس ا پنے فیصلے لے جانے کا پابند ہے۔ پس، اس آیت کی رو سے، جہاں سب لوگ ایک دوسرے کو ایک بات کا پابند کر سکتے ہوں… وہاں اُس ”ایک بات” کا یہ سٹیٹس نہ ہو گا کہ ”فرد” کے حق میں وہ صرف اور صرف ‘اخروی جوابدہی’ ہو جبکہ دنیوی حوالے سے وہ خالی ”صوابدید” کا درجہ رکھے۔ سبحان اللہ! یہ بھی کیا فہمِ قرآن ہے جو اس بات کو دنیوی حوالے سے ‘فرد کی صوابدید’ بنا دے! یہاں تو وہ ”آئینی” طور پر کتاب اور سنت کا پابند ہو گا۔

xi۔(جواب پر جائیے) معاملے کی اصل ترتیب بلاشبہ یہ ہے کہ قرآن وہ چیز ہو جو آپ کے ہاں پائی جانے والی کسی بھی دستاویز کو اعتبارvalidityبخشے نہ کہ وہ دستاویز قرآن کو۔ قرآن — قومی زندگی میں — آپکا منتہیٰ ہو۔ یعنی ہر چیز اپنی بائنڈنگ حیثیت رکھنے میں قرآن سے سند پاتی ہو البتہ قرآن کسی چیز سے سند نہ پاتا ہو؛ جس طرح ایک جدید ریاست میں ہر چیز آئین سے سند پاتی ہے البتہ آئین کسی چیز سے سند نہیں پاتا۔ ”جماعۃ المسلمین” اور ‘جدید ریاست’ میں ایک بہت بڑا فرق یہی ہے۔

xii۔(جواب پر جائیے) سقوطِ ڈھاکہ پر "المورد” کی ذمہ دار شخصیت کا یہ پورا بیان آپ سماع ٹی وی کے اس لنک پر دیکھ سکتے( http://goo.gl/Moq12k )یا ایقاظ (جنوری 2014 (http://goo.gl/1TcnfUمیں پڑھ سکتےہیں۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ:”ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ دو خطوں کو ملانے کی جو وجہ بیان کی گئی وہ مذہب تھا۔ حالانکہ لوگوں کو جوڑنے والی اصل چیز جبلی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ زبان اور رہن سہن ہو سکتا ہے۔ البتہ ایمان گهٹنے بڑهنے والی چیز ہے (لہٰذا ،قوموں کو جوڑنے کی بنیاد نہیں ہو سکتا)۔ ”

xiii۔(جواب پر جائیے) المورد کے اصحاب خلافت کے موضوع پر فقہاء کو اپنا ہم خیال سمجھ بیٹھے۔ کیا واقعتاً فقہاء میں سے ”کسی نے” اسے اسلامی شریعت کے ”کسی حکم” کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا؟ معلوم ہوتا ہے ”مسلم وحدت” کے مسئلہ پر فقہاء کی آراء مضمون نگار کی نظر سے نہیں گزریں ورنہ زیادہ سے زیادہ وہ اپنی اِس بات کو فقہاء کے ہاں پائی جانے والی ایک ”شاذ رائے” کہتے۔

xiv۔(جواب پر جائیے) فقہا "خلافت” اور "امامت” کو یقیناً فرض سمجھتے ہیں۔ مگر اضطرار کے احکامات کے تحت اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مثالیت کے تعاقت میں "حسبِ استطاعت” والا رستہ ترک نہیں کرواتے۔

xv۔(جواب پر جائیے) المورد کے مطابق ”امت” اور ”وحدت” اور ”جماعت” کے طور پر مسلمانوں کو دیکھنا ایک علمی مغالطہ ہے جو نجانے کہا ں سے اذہان میں پرورش پا گیا ہے۔

 

میرا تبصرہ:

i۔(سوال پر جائیے) مجھے نہیں معلوم کہ فاضل مضمون نگار نے قوم یا Nation
کے لفظ سے کیا مراد لینا چاہی ہے، مگر جو مراد اس سے عربی و انگریزی لغات لیتی ہیں، اور جس مفہوم میں یہ قرآن و حدیث میں بکثرت استعمال ہوا ہے، غامدی صاحب وہی مراد لے رہے ہیں۔ یعنی کسی مشترک وصف کی بنیاد پر لوگوں کی ایک وحدت۔ یہ مشترک وصف نسل، زبان، جغرافیہ، مذہب وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ قوم کا لفظ آج بھی نیشن کے معنیٰ میں مستعمل نہیں (
قطعِ نظر اِس سے کہ یہ اس معنیٰ میں بالکل مستعمل ہے اور اس کے لیے کسی عربی سے انگریزی یا بالعکس لغت کی مراجعت کی جا سکتی ہے) ، تو آج کے استعمالات ماضی کے معنیٰ کی دریافت میں کوئی مدد نہیں دے سکتے۔ بہر حال، اگر اس بات پر غور کر لیا جاتا کہ غامدی صاحب اسلامی قومیت پر کلام کیوں فرما رہے ہیں تو شائید یہ بحث عبث ہو جاتی۔ ہمارے ہاں بہت سی تحریکیں یہ سمجھ بیٹھی ہیں، یا لوگوں کو باور کرانے پر تلی ہیں، کہ اسلام میں قومیت و وطنیت کی بنیاد صرف مذہب ہی بن سکتا ہے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور بنیاد جیسا کہ نسل، زبان، معاہدات، جغرافیہ وغیرہ قومیت کے لیے اختیار کی جائے، تو یہ خلافِ شریعت ہے۔ اسی لیے ایسی تحریکیں دورِ حاضر کی قومی ریاستوں کے وجود کو حرام سمجھتی ہیں اور ان میں مقیم مسلمانوں کو گناہگار۔ پس، اگر شریعت کے ماخذوں میں کہیں یہ کہہ دیا گیا ہوتا کہ مسلمان ایک قوم ہیں یا اسلام میں قومیت کی بنیاد بس دین ہی ہے تو ان کے ادعا میں کچھ وزن آ جاتا۔ چنانچہ، غامدی صاحب نے یہی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے دین نے ایسا کوئی دعوٰی نہیں کیا۔ دعوٰی ہے تو بھائی بھائی ہونے کا، جس پر جس طرح مختلف نسلوں، زبانوں، قبیلوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اسی طرح دورِ حاضر کی مختلف قومیتوں اور اوطان سے بھی نہیں پڑتا۔ رہی بات "الجماعۃ”کے لفظ کی، تو اس سے چونکہ مختلف قومیتوں کی نفی مراد نہیں لی جا سکتی اس لیے اس پر بحث کی کوئی حاجت وقوع پذیر نہیں ہوتی ۔

ii۔(سوال پر جائیے) یہ اعتراض غالباً غامدی صاحب پر نہیں۔ تاہم میں یہ واضح کرتا چلوں کہ اس سے جو نتیجہ صاحبِ مضمون اخذ فرما رہے ہیں وہ درست ہے۔ اگرچہ جس طریقۂ استدلال کو انہوں نے اختیار کیا ہے میرے نزدیک وہ بہت غیر معیاری ہے، اور اس کٹھن صحرا نوردی کی کوئی حاجت بھی نہ تھی۔ مسلمانوں کا اجتماعی حیثیت میں حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑنا خود عبارت سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر جمیعاً کی قید لگائی ہے اور لا تفرّقُوا کی نہی میں لپیٹ بھی دیا ہے۔ الغرض، یہ آیت مسلمانوں پر لازم کرتی ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات و تنازعات میں اسی کتاب اللہ کو مرجع بنائیں اور اسی ایک بنیاد پر اکٹھے ہو جائیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو باہم متعصب فرقوں میں بٹ جائیں گے۔ اور اس کی صداقت تو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی رہے ہیں کہ امت مسلمہ کیسے متعدد باہم دست و گریباں فرقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ تاہم، یہ آیت دین میں ایسے فرقے بنانے کی ممانعت پر تو ضرور وارد ہے جو تعصب و نفرت کی بنیاد پر بنائے جائیں، پر اگر صاحبِ مضمون اس سے سیاسی و انتظامی تقسیم کی ممانعت کا استشہاد فرمانا چاہ رہے ہوں، تو نہ تو آیت کے الفاظ اور نہ ہی اس کا سیاق و سباق اس کی اجازت دیتے ہیں۔

iii۔(سوال پر جائیے) اس طرح کے دلائل ہیں جو مجھے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ معزز ناقدین نے کیا کچھ وقت بھی غامدی صاحب کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے وقف کرنا مناسب نہ جانا۔ غامدی صاحب کا موضوعِ بحث یہ ہے ہی نہیں کہ جدید ریاستیں اپنے لیے کوئی علمی و عقلی بنیادیں رکھتی ہیں کہ نہیں۔ اُن کا موضوعِ بحث ان ریاستوں کا شرعی پہلو ہے۔ نہ اُن کے کہنے پر یہ ریاستیں وجود پذیر ہوئی ہیں اور نہ ہی وہ ایسی ریاستیں معرضِ وجود میں لانے کے لیے لوگوں کو متحرک کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص اس لیے ان ریاستوں کی بساط لپیٹ دینے کے حق میں ہے کہ ان کی کوئی علمی و عقلی بنیاد نہیں تو وہ شوق سے اس کی سعی کر سکتا ہے، اور اس مقصد کے لیے دلائل کی بنیاد پر رائے عامہ ہموار کرنے کی جدو جہد بھی۔ اس میں کوئی چیز خلافِ شریعت نہیں۔ ہاں، اگر وہ اس سعی میں قرآن و سنت کا استعمال کرنا چاہتا ہے، خواہ فقط اپنی سعی میں وزن پیدا کرنے ہی کے لیے، تو ہر صاحبِ علم مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ شریعت کا نقطہ نظر واضح کرے ۔ بس یہی کام غامدی صاحب سر انجام دے رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح رہے کہ مجھے اس نتیجے سے بصد احترام اختلاف ہے کہ موجودہ دور کی ریاستیں بنیاد نہیں رکھتیں جبکہ ماضی کی مسلم ریاستیں رکھتیں تھیں، مگر یہ اِس بحث کی جا نہیں۔ اگر کبھی مستقبل میں ان دلائل کے ابطال کی ضرورت محسوس ہوئی تو ضرور ان پر کلام کروں گا ۔

iv۔(سوال پر جائیے) یہ نکتہ بھی چونکہ حلال و حرام یا شریعت کے مطلوب و ممنوع کو ثابت نہیں کرتا، بلکہ صاحبِ مضمون کی رائے میں بہتر اور بدتر کو موضوع بناتا ہے اس لیے اس پر بھی تبصرے کی کوئی شرعی ضرورت نہیں۔ صاحبِ مضمون کے خیال میں اگر متفرق ریاستوں کے مقابلے میں ایک عالمگیر متحدہ ریاست دین کے مطالبات پورے کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہے تو انہیں پورا حق ہے کہ اس کے قیام کی جدو جہد کریں۔ شریعت نے ایسا سوچنے اور کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ مگر چونکہ بات رائے کی ہو رہی ہے تو میں اپنی بھی دیتا چلوں۔ میری رائے میں متفرق ریاستوں سے دین کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ دین کے وہ سارے مقاصد جو صاحبِ مضمون کی رائے میں ایک عالمگیر ریاست سے پورے ہو سکتے ہیں متفرق ریاستوں سے بھی باحسن وخوبی پورے ہو سکتے ہیں۔ رہی بات سیاسی فوائد کی تو بیشک مسلمانوں کے اکثریتی ممالک کا کوئی ایک مقتدر فورم بنا لینے سے، یا پہلے سے موجود فورموں میں سے کسی کو صحیح معنوں میں فعال کر لینے سے ان کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔ بلکہ میں یہاں تک کہوں گا کہ یہ تو اس دور کی سیاسی ضروریات میں سے ہے۔ تاہم، عالمگیر مسلم اتحاد کے لیے قومی ریاستوں کے انہدام کی کوئی حاجت نہیں ۔

v۔(سوال پر جائیے) اگر اس فتوے کی نسبت غامدی صاحب کی طرف کی جا رہی ہے تو انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ اُن کا یہ موضوع کب ہے کہ نئی ریاستیں یوں بننی چاہئیں اور یوں نہیں۔ اُن کا جرم تو فقط یہ ہے کہ رنگ، نسل، زبان، قومیت وغیرہ کی بنیاد پر قائم کی گئی ریاستوں کو خلافِ شریعت نہیں کہتے۔ اگر اس سے صاحبِ مضمون کو اختلاف ہے تو اُن سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ لائیے کوئی نص قرآن و حدیث سے! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس رائے سے رجوع کر لیں گے۔ ہم میں سے کوئی نبی نہیں کہ اپنی رائے پر متحجر ہونا ہمیں زیب دیتا ہو۔ مگر اگر آپ ایسا نہ کر سکیں ، اور کوئی نص ایسی نہ لا پائیں تو پھر آپ کو بھی یہی زیب دیتا ہے کہ حق کا اقرار کریں۔ بہر حال، اگر کسی عالم و محقق نے یہ رائے دی ہے کہ نسل یا زبان وغیرہ کی بنیاد پر بنائی گئی ریاستیں زیادہ پائیدار ہوں گی، تو یہ یقیناً اُن کی اِس دور کے انسان کی نفسیات کی شناسائی اور تمدن کی تبدیلی کے گہرے فہم کا نتیجہ ہو گا۔

vi۔(سوال پر جائیے) ایسی کوئی بات غامدی صاحب نے تو نہیں کی۔ چنانچہ صاحبِ مضمون شوق سے اس سمت دیکھیں اور بے دریغ اس جانب قدم بڑھائیں۔ شریعت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ زمانے کو الٹا چلانے پر زیادہ سے زیادہ کم عقلی کا فتویٰ لگایا جا سکتا ہے، خلافِ شریعت ہونے کا تو نہیں!

vii۔(سوال پر جائیے) اِس حدیث کا مکمل متن یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ بصد احترام، صاحبِ مضمون ایک عالمگیر اسلامی ریاست کو اس دور کی ضرورت سمجھتے ہیں تو اس رائے کا انہیں پورا حق ہے۔ اور مجھے اس پر تبصرے کی کوئی حاجت بھی نہیں۔ مگر چونکہ انہوں نے اِسے دینی فرض بھی قرار دیا ہے، تو یہاں تو مجھے دین کا نقطہ نظر واضح کرنا ہو گا۔ جو حدیث انہوں نے اس فرض کے ثبوت میں پیش فرمائی ہے، مجھے دین کے فرائض اخذ کرنے کے لیے اس طرزِ استدلال پر حیرت ہوتی ہے۔ قطعِ نظر اس سے کہ اس حدیث کا صحیح اور واضح مدعا کیا ہے، فاضل مضمون نگار سے میرا سوال ہے کہ کیا یہ حدیث مسلمانوں کی عالمگیر سیاسی وحدت کے باب میں صریح ہے؟ اس میں کسی اور نوعیت کی وحدت مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں؟ اور میں چاہوں گا کہ تمام قارئین ہمیشہ اس طرح کے شواہد پر یہ سوال ضرور وارد کیا کریں۔ اور بالفرض اگر ہے بھی، تو کیا ہمارے دین میں فرائض ایسے ہی مبہم طریقوں سے ثابت ہوا کرتے ہیں؟ کیا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، حدود وغیرہ ایسے ہی ثابت ہوئے ہیں؟ اب آئیے اس کے مفہوم کی طرف۔ اس حدیث میں حضرت عمرؓ نبی کریم ﷺ کی جانب سے شیطان کے حملوں سے محفوظ رہنے کا نسخہ تعلیم فرما رہے ہیں۔ عالمی سیاسی یا انتظامی یا حکومتی وحدت پر کلام کرنا، یا دشمن ریاستوں کے مقابلے کا طریقہ بتانا، سرے سے ان کے پیشِ نظر ہی نہیں۔ اور اس کے لیے میری بات پر یقین کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ یہ الفاظ بذاتِ خود روایت میں موجود ہیں۔ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ شیطان کے حملے کے پسندیدہ اور کارگر مواقع کون سے ہوتے ہیں۔ تو ایک تو اجنبی مرد و عورت کے وقتِ خلوت کو وہ گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے غنیمت جانتا ہے۔ اور دوسرے جب لوگ اکیلے اکیلے یا فرقوں میں بٹ کر دین کے احکامات پر پابندی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تب بھی وہ انہیں متزلزل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ بس یہی ہے کہ مسلمان جہاں بھی اور جتنے بھی ہوں آپس میں مربوط طریقے سے رہیں ۔ دینی فرائض کی ادائیگی کے لیے ایک مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔ اور جہاں کہیں ان فرائض کو با جماعت ادا کرنا ممکن ہو، انہیں ایسے ہی ادا کریں۔ جس قدر وہ مربوط ہوں گے اسی قدر شیطان کے حملے کمزور پڑتے جائیں گے۔ ایک کے مقابلے میں دو زیادہ مدافعت دیں گے، دو کے مقابلے میں تین و علیٰ ھٰذا لقیاس۔ اس طرح کی نصیحت نبی ﷺ نے اور مواقع پر بھی فرمائی۔ جیسا کہ مثال کے طور پر اس حدیث میں۔ یہ حدیث کا سادہ فہم ہے اور اس کا پورا متن اسی کی تائید کر رہا ہے۔ رہا عالمگیر ریاست پر کلام، تو نہ ایسا کوئی ارادہ حضرت عمر ؓ نے تمہید میں ظاہر فرمایا اور نہ ہی متن سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔

viii۔(سوال پر جائیے) اگرچہ اس نکتے میں کچھ اضطراب قارئین نے ضرور محسوس کیا ہو گا مگر صاحبِ مضمون کا مرکزی استدلال چونکہ میری سمجھ میں آ گیا ہے، اس لیے میں اس سے صرفِ نظر کرتا ہوں۔ جو تفریق ناقدِ فاضل نے کافر کے شخصی حقوقِ ملکیت اور ریاستی وسائل میں مشترکہ حقوقِ ملکیت میں کھینچی ہے، اُس کے لیے اُن سے التماس ہے کہ اِس کی دلیل ارشاد فرما دیجیے۔ اور جو انہوں نے فرمایا ہے کہ پہلے کی سند تو شریعت سے معلوم ہے اور دوسرے کی نہیں، تو وہ سند بھی پیش فرما دیجیے تا کہ اس پورے نکتے کی صداقت اور معقولیت پرکھی جا سکے۔ مجھے امید ہے وہ اس درخواست پر برا نہیں منائیں گے۔ بہر حال، اُن کے جوابات موصول ہونے تک میں اُن کو انتظار نہیں کراؤں گا۔ پس میرا جواب یہ ہے: حقوقِ ملکیت کی اصولی حیثیت میں مسلم اور کافر کی کوئی تفریق نہ علم و عقل نے کی ہے اور نہ ہی شریعت نے۔ رہی بات شخصی اور اجتماعی ملکیت کی سند کی، تو یہ دونوں ہی اجتماعی انسانی عرف سے وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ یہی اُن کی سند ہے۔ نہ پہلے کے جاری کرنے کے لیے کوئی پروانہ آسمان سے نازل ہوا ہے، اور نہ ہی دوسرے کے لیے۔ عرف نے جس طرح پہلے کو جاری کیا اور علم و عقل نے تسلیم کیا، اُسی طرح ریاست کے وسائل کی مشترکہ ملکیت کو بھی جاری و تسلیم کیا۔ اس پر اگر شریعت نے کوئی نقطہ نظر دینا ہوتا تو اِن میں سے کسی کی نفی کر کے دے دیتی۔ مگر قرآن و حدیث سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ ایسا کوئی حکم اُس نے نہیں دیا۔ اور اگر دیا ہے، تو ہم ہمہ تن گوش ہیں!

ix۔(سوال پر جائیے) جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہ اِس بات کے غماز ہیں کہ غامدی صاحب کے تصوّرِ دین ِ ریاست کو لادینیت (secularism) کے مترادف سمجھ لیا گیا ہے۔ اور لادینی ریاستوں میں پیش آنے والے واقعات پر قیاس کر کے ان خدشات کو شدنی قرار دے دیا گیا ہے۔ خود غامدی صاحب اور میں بھی متعدد توضیحی مضامین میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کر چکے ہیں کہ جس تصور میں اجتماعی مذہبی ہدایات نہ صرف حکمرانوں کو تاکید کی جائیں بلکہ ان کی ذمہ داری قرار دیا جائے، اسے لا دینیت کے مترادف گرداننا کسی طرح روا نہیں۔ میری تمام ناقدین سے دردمندانہ گزارش ہے کہ ایک مرتبہ تسلی سے غامدی صاحب کے 10 کے 10 نکات کو تدبر سے سمجھیں اور اپنے ذہن میں سرایت کرنے دیں، اس کے بعد جیسی چاہیں صنف بندی کریں۔ مگر یقین جانیے کہ اگر تدبر سے اس کا مطالعہ کیا گیا تو پختہ اذہان لا محالہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ ایک مختلف صنف ہے جو خالص مذہبی ریاست اور لا دینی ریاست کے بین بین ہے۔ اور خالص مذہبی ریاست کے مقابل میں غامدی صاحب اِسے اس لیے پیش نہیں کر رہے کہ اُس کا ظہور وہ دنیا میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ بلکہ صرف اس لیے کر رہے ہیں کہ اِس موجودہ ریاست کی مشترک ملکیت کی نوعیت، اور شریعت کا سکھلایا ہوا عدل و قسط، انہیں اِس اقرار پر مجبور کر رہا ہے کہ ایسا کرنا ناانصافی ہے۔ تاہم میری ناقدین سے گزارش ہے کہ وہ یہ فرما دیں کہ یہ ناانصافی نہیں ہے تو پھر اٹھ کھڑے ہوں خالص مذہبی ریاست بنانے کی خاطر، غامدی صاحب بھی اس کی بھرپور تائید کریں گے۔ رہی بات اُن نتائج کی جو محترم صاحبِ مضمون نے دکھلائے ہیں، تو وہ واقع ہی نہیں ہوں گے۔ اسلام نے جتنے احکامات مسلمانوں کو کسی شعبۂ زندگی سے متعلق بھی دیے ہیں وہ ضرور لاگو ہو سکیں گے۔ بس اس فرق کے ساتھ کہ غیر مسلموں کو اُن کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی نظام میں بھی مسلمانوں کا پورا حق ہو گا کہ جو مذہبی علوم بھی وہ بچوں کو پڑھانا چاہیں گے ضرور پڑھا سکیں گے۔ میں چونکہ اس موضوع پر ایک مستقل مضمون لکھ رہا ہوں اس لیے یہاں اسی اجمال پر اکتفا ہے۔ تفصیل انشآءاللہ اس دوسرے مضمون میں بیان کروں گا۔ کیونکہ مجھے اس چیز کا پورا احساس ہے کہ لوگوں کا کسی بھی نظریے کو پہلے سے معلوم اصناف میں سے کسی ایک پر محمول کرنے کا ذوق، اور غامدی صاحب سے ایک عمومی سوءِ ظن، اس مختلف صنف کے ادراک میں حائل ہو رہے ہیں۔

x۔(سوال پر جائیے) صاحبِ مضمون نے لکھا ہے کہ ” سورۃ النساء آیت 59 کے تحت تو معاشرہ (جماعت) بطورِ مجموعی شرعِ خداوندی کے پاس ا پنے فیصلے لے جانے کا پابند ہے "۔ سمجھانے کے لیے سوال ہے کہ اگر معاشرہ ایسا نہ کرے تو کیا کیِا جا سکتا ہے؟ یہی نہ کہ اُن کو اُخروی جوابدہی یاد دلائی جائیگی۔ اللہ کی پرسش سے ڈرایا جائیگا۔ چنانچہ یہی کام حکمرانوں کے ساتھ بھی کیا جائیگا۔ آپ کہیں گے کہ حکمرانوں کو تو آئین میں درج کرا کے اس کا پابند کیا جا سکتا ہے۔ اور عدلیہ اس پابندی کو یقینی بنائے گی۔ تو ہم پوچھیں گے کہ عدلیہ کو کون اس بات کا پابند کرے گا؟ تو آپ کا جواب ہو گا کہ کوئی نہیں۔ پس یہی سمجھانا تھا۔ کہ اصول میں کسی چیز کو ماننے اور بالفعل اُس کے ظہور میں فرق ہوتا ہے۔ انتطامی اعتبار سے آخری مرحلے پر یہ ہمیشہ کسی انسانی ادارے کی صوابدید پر ہی ہو گا کہ چاہے تو شریعت کے مطابق فیصلہ کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ غامدی صاحب صرف یہ فرما رہے ہیں کہ قرآن کی رُو سے یہ آخری مقتدر ادارہ پارلیمان ہونا چاہیے، نہ کہ عدلیہ۔ سو جو خوش گمانی آپ عدلیہ سے کرنے جا رہے ہیں وہ پارلیمان سے بھی کر کے دیکھیں تو سہی۔ دوسری بات یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ آئین بھی انسانوں نے ہی بنانا ہوتا ہے۔ یہ افراد کی ہی صوابدید ہوتی ہے۔ اگر وہ آئین میں یہ سب باتیں نہ ڈالیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تیسری بات یہ کہ یہ سب باتیں تو پہلے سے ہمارے آئین میں شامل ہیں۔ کیا اِن کے شامل ہونے سے کوئی ایسا بند بالفعل بندھ گیا ہے کہ کوئی خلافِ شریعت قانون نہیں بن سکا؟ بالکل بنے ہیں! کیونکہ ادھر بھی اختیار اور ارادہ کے مالک انسانوں نے ہی اِس پابندی کو رُو بہ عمل کرنا ہوتا ہے۔ سو یہاں بھی، آپ مانیں یا نہ مانیں، بالفعل افراد کی ہی صوابدید کارفرما ہوتی ہے۔ اور چوتھی اور سب سے اہم بات: اِن پابندیوں کو اِس سب کے باوجود آپ آئین میں درج ہی کرانا چاہتے ہیں تو ضرور کرائیے۔ اِسے غامدی صاحب نے غیر شرعی نہیں بلکہ صرف غیر ضروری کہا ہے۔ بس اِس چیز کا خیال رکھیں کہ اکثریت کے زور سے کسی غیر مسلم کو اِن کا پابند نہ کیا جائے۔ چنانچہ، یہ مسئلہ آپ کے الفاظ میں بیان کردہ فہمِ قرآن کا ہے ہی نہیں۔ بلکہ جدید ریاستوں میں آئین اور قانون کے روُ بہ عمل ہونے کے ضوابط کے ادراک کا ہے۔

xi۔(سوال پر جائیے) یہاں بھی صاحبِ مضمون کو وہی اشکال ہے ، پس میں پھر اِس کے رفع کی کوشش کرتا ہوں۔ دیکھیے یہ جملہ کہنے میں بہت حسین لگتا ہے کہ قرآن ہر دستاویز کو اعتبار بخشے نہ کہ کوئی دستاویز قرآن کو، اور میں بھی۔۔۔ اور یقین سے کہتا ہوں کہ غامدی صاحب بھی۔۔۔ اس حسن پر فریفتہ ہیں۔ مگر اِس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو صاحبِ اقتدار و ارادہ مخلوق بنایا ہے تو اب انسان ہی ہے جو اس عالمِ دنیا میں کسی بھی دستاویز کو۔۔۔ چاہے وہ خدا ہی کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرے۔۔۔ اپنے اختیار اور ارادے سے validity بخشتا ہے۔ چنانچہ دیکھیے، ہمارے موجودہ آئین کے متعلق میرا آپ سے سوال ہے کہ آئین نے قرآن کو validity بخشی ہے یا قرآن نے آئین کو؟ ظاہری بات ہے کہ آئین نے۔ پھر آئین نے انسانوں کے اختیار کو validityبخشی ہے یا انسانی اختیار نے آئین کو؟ ظاہری بات ہے انسانی اختیار نے آئین کو۔ اسی لیے ہم انسان جب چاہیں آئین میں سے قرآن کی validityکو نکال باہر کریں، بلکہ چاہیں تو آئین کو ہی معطل کر دیں۔ اب آپ چاہیں اسے جماعۃ المسلمین کہیں اور چاہیں تو جدید ریاست، اس حقیقت و ترتیب سے انکار ممکن نہیں۔ چونکہ عام مسلمان عموماً اِس حقیقت کو قبول نہیں کر تے، بلکہ کئی تو سمجھ ہی نہیں پاتے، اسی لیے صرف بلند و باگ دعووں سے خود کو بھی فریب دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی الجھاؤ کا شکار کرتے ہیں۔

xii۔(سوال پر جائیے) یہ جو قوسین میں صاحبِ مضمون نے تحریر فرمایا ہے کہ (لہٰذا ،قوموں کو جوڑنے کی بنیاد نہیں ہو سکتا)۔۔۔یہی اُن کے سوءِ فہم کا عکاس ہے۔ اِس کی جگہ غامدی صاحب کی گفتگو کے سیاق سے مترشح جملہ بڑے واضح طور پر یہی ہونا چاہیے تھا کہ لہٰذا، قوموں کو جوڑنے کی کمزور بنیاد بن سکتا ہے، مضبوط نہیں! اس طرح کے اعتراضات دیکھ کر مجھے غامدی صاحب کی ناقدین سے یہ درخواست یاد آتی ہے کہ جس بات پر تنقید کرنے کا ارادہ ہو کم سے کم کچھ وقت پہلے اسے سمجھنے کے لیے تو وقف کرنا چاہیے۔ خیر، غامدی صاحب یہ فرما رہے تھے کہ جب بھی کوئی تعمیر کرنی ہو تو وہ غیر متحرک اور مستحکم (stable) بنیاد پر ہی کرنی چاہیے۔ اگر یہ بنیاد کسی ایسی چیز پر رکھ دی جائیگی جو گھٹتی بڑھتی ہو، بلکہ کبھی اُس کی موجوں میں تلاطم ہو اور کبھی وہ پانی سے ہی خالی، تو کون سا فاضل انجینیر ایسی تعمیر کو مضبوط کہے گا؟ ایمان بالکل ایسی ہی چیز ہے۔ یہ اُس دور میں تو یقیناً ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتا تھا جب لوگوں کا ایمان مستحکم و غیر متزلزل ہوا کرتا تھا۔ آج کے دور کے انسان کے بارے میں ایسی خوش فہمی کسی ناقص العقل شخص کو ہی ہو سکتی ہے۔ اِس کے بر عکس، جبلّی تقاضے اتنے مضبوط و مسلسل ہوتے ہیں کہ ان سے تو گریز کرنا ہی ممکن نہیں ہوتا اس لیے بڑی پختہ بنیاد فراہم کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں سوائے مذہب کے کوئی قدر بھی مشترک نہ تھی۔ چنانچہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ نہ بنگلہ دیش نے مذہب تبدیل کیا اور نہ ہی پاکستان نے، لیکن یہ مشترک بنیاد کچھ بھی کام نہ آ سکی۔ الغرض، غامدی صاحب اِس دور کے انسان کی نفسیات کے اعتبار سے بات کر رہے تھے۔ کوئی مذہب کی بنیاد پر وطن بنانا چاہتا ہے تو ضرور بنائے۔ مگر وہ یاد رکھے کہ پھر اس بنیاد کے استحکام کو برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں!

xiii۔(سوال پر جائیے) یہاں بھی غلط فہمی کار فرما ہے۔ غامدی صاحب نے کہیں بھی مذاہبِ اربعہ کے اپنے ہم خيال ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اِس دعوے کو نقل کرنے سے پہلے صاحبِ مضمون نے غامدی صاحب کی اپنی عبارت لفظ بہ لفظ نقل کر دی ہے، بلکہ اُس کا متعلق حصہ خطِ کشیدہ میں تحریر فرمایا ہے۔ میری محترم مصنف سے گزارش ہے کہ اسے ایک مرتبہ پھر پڑھ لیں۔ اس میں غامدی صاحب اُن جلیل القدر فقہا کا ذکر کر رہے ہیں جو اُس وقت موجود تھے جب مسلمان دو ریاستوں میں بٹ گئے۔ یہ واضح ہے کہ اُن کا اشارہ ائمۂ اربعہ کی طرف ہے۔ یعنی وہ یہ فرما رہے ہیں کہ یہ دو ریاستوں میں بٹنے کا معاملہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ نے ملاحظہ فرمایا، مگر اسے خلافِ شریعت نہ قرار دیا۔ اس کا جواب ظاہر ہے یہی ہو سکتا تھا کہ دیکھیں اِن حضرات نے فلاں عبارت میں اسے خلافِ شریعت کہا تھا۔ اِس لیے صاحبِ مضمون نے جو طویل بپتا نقل فرمائی ہے نہ اِس کی حاجت تھی اور نہ ہی اِس سے غامدی صاحب کے مؤقف کی تردید ممکن ہے۔ بس اتنا درکار ہے کہ اِن چار جلیل القدر ہستیوں کا اِن ریاستوں کی تقسیم کو خلافِ شریعت قرار دینے کے اقوال نقل کر دیے جائیں۔

xiv۔(سوال پر جائیے) احتراماً عرض ہے کہ فقہا پر وحی تو نہیں آتی تھی۔ اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس کا دعوٰی کیا تھا۔ نہ ہی وہ خود سے کسی شے کو فرض قرار دے سکنے کے مجاز تھے۔ وہ تو ہمیشہ قرآن و حدیث سے استنباط ہی کے دعویدار رہے۔ چنانچہ اگر "خلافت” فرض تھی تو اس کا ثبوت شریعت کے ماخذوں میں ہونا چاہیے کہ نہیں؟ اِس لیے بجائے اس کے کہ فقہا کیا کیسے سمجھتے تھے صاحبِ مضمون کو یہ زیبا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اقوال نقل فرمائیں۔ اور جہاں سے فقہا نے یہ استنباط کیا ہے وہ نصوص دکھائیں۔ بار بار اِس ثانوی گفتگو سے وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ مان لیں، تو یہ تو ممکن نہیں!

xv۔(سوال پر جائیے) اس طرح کے سب اعتراضات بالکل بے بنیاد ہیں اور غامدی صاحب نے کبھی ”امت” اور ”وحدت” اور ”جماعت” کے طور پر مسلمانوں کو دیکھنا علمی مغالطہ نہیں قرار دیا ۔ اگر صاحبِ مضمون اپنے فہم کی قطر سنجی فرما لیں تو یہ اُن کے اپنے حق میں بہت فائدہ مند ہو گا اور انہیں اس طرح کی غیر ضروری اور طویل مشقتِ قلمی سے بچا لے گا۔

اختتامیہ: آخر میں ایک بار پھر میری تمام صاحبانِ مضمامین سے برادرانہ التماس ہے کہ اگر کہیں کوئی لب و لہجہ ادب کے منافی ہو تو اسے نادانستہ سمجھیں اور اس پر میری معذرت قبول فرمائیں۔ مگر جو جوابات معقول لگیں ان کو تسلیم کریں اور جو غلط پائیں اس پر ضرور مطلع فرمائیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s