تجزیۂ مقالہ: ”متبادل بیانیہ اصل بیانیے کی روشنی میں (حصّہ اوّل)“ از محمد زاہد صدیق مغل صاحب، الشّریعہ

(غامدی صاحب کے "جوابی بیانیہ” کی تردید میں جناب محمد زاہد صدیق مغل صاحب کے ماہنامہ الشّریعہ شمارہ اپریل 2015 میں بیان کردہ اعتراضات کا جواب )

محمد زاہد صدیق مغل صاحب دین اسلام پر تدبر کی نگاہ رکھنے والے ایک بالغ النظر دانشور ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور مدرِّس ہیں اور ان دنوں NUST اسلام آباد کے شعبۂ اکنامکس میں معاون پروفیسر ہیں۔ انہوں نے غامدی صاحب کے جوابی بیانیہ کے پہلے دو نکات پر اپنے مفصل اعتراضات و سوالات شائع کر
دیے ہیں، جس کی پہلی قسط چھپ چکی ہے۔ میرے نزدیک ان جیسے ذہین لوگوں کی اس بیانیے کی بحث میں شرکت خوش آئند اور عقدہ کشائی کو سود مند ہو گی۔

ان کے نقد سے میرا عمومی احساس یہ ہے کہ زیادہ تر سوال جو انہوں نے اٹھائے ہیں وہ سوءِ فہم کے عکاس ہیں۔ یعنی وہ غامدی صاحب کے مؤقف کو ٹھیک نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ ہیں۔ نیز، کچھ ایسے نکات کو بھی انہوں نے موضوعِ بحث بنایا ہے جو غامدی صاحب نے نہیں بلکہ اور لوگوں نے اٹھائے ہیں۔ چنانچہ اس مضمون میں زاہد صاحب کے وہ اعتراضات موضوعِ بحث ہیں جو دینی و علمی ہیں اور غامدی صاحب کے کسی استدلال کو ہدف بناتے ہیں۔ آئیے ان کی طرف چلتے ہیں۔

محمد زاہد صدیق مغل صاحب(متبادل بیانیہ اصل بیانیے کی روشنی میں ،جلد ۲۶ – شمارہ ۴ – اپریل ۲۰۱۵ء):

i۔(جواب پر جائیے) شق نمبر 1 کے مطابق (جہاں تک میں سمجھا ہوں) غامدی صاحب مسلمانوں کو یونانی طرز کی "براہ راست” جمہوریت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یعنی لوگوں کی جو بھی اجتماعی رائے ہو، وہ اسے اختیار کرنے میں آزاد ہوں۔ فلسفۂ سیاست کی زبان میں دراصل وہ یہ بات کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاشرے کے اندر کوئی بھی "جنرل ول”(General Will)نہیں ہونی چاہیے کہ جس کی پابندی بطور قانون لازمی سمجھی جائے۔ نیز ول آف آل (Will of All)بھی جس کی پابند ہو، بلکہ معاشرے میں جو بھی ہو وہ "ول آف آل” کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر اس بارے میں غامدی صاحب کا مؤقف صحیح سمجھا گیا ہے تو اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

ii۔(جواب پر جائیے) غامدی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا کوئی بھی مؤقف (سیکولر، سوشلسٹ، ہندومت، اسلام وغیرھم) نہیں ہونا چاہیے، اسے "نیوٹرل” (معلوم نہیں یہ کس بلا کا نام ہے)ہونا چاہیے۔

iii۔(جواب پر جائیے) غامدی صاحب آئین میں چند اسلامی شقیں شامل کر دینے میں اگر یہ مسئلہ دیکھتے ہیں کہ "چاہے پاکستان کے لوگوں کا اجتماعی ارادہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، اس طرح تو گویا ریاست ابدالآباد تک کے لیے مسلمان ہو جائے گی” (اور انہیں دراصل یہی علمی خدشہ لاحق ہے)، تو ان کا یہ استدلال خود انکی اپنی منطق پر پورا نہیں اترتا۔ اگر کل کو پاکستان کی غالب اکثریت غیر مسلم ہو جائے تو وہ آئین میں تبدیلی کر کے ان شقوں کو نکال باہر کرے (اور ہمارے لبرل طبقے کیا اس کوشش میں مصروف نہیں؟)۔ اس سب میں ان کے اپنے اصول کے مطابق مسئلہ کیا اور کہاں ہے؟

iv۔(جواب پر جائیے) اگر کہا جائے کہ "امرھم شوریٰ بینھم” کا اصول از روئے قرآن مسلمانوں پر لازم ہے، تو یہ کہنا خود ریاست کو ایک مذہبی بنیاد پر ہی استوار کرنا ہوا۔ آخر ایک "اصولاًنیوٹرل” سٹیٹ سٹرکچر کو ایک مذہبی استدلال کا پابند کیونکر بنانا درست ہے؟ اس نیوٹرل سٹیٹ سے قرآن کی آیت کی بنیاد پر یہ مطالبہ چہ معنی دارد؟

v۔(جواب پر جائیے) کیا کلمہ پڑھنے کا عمل "بذاتِ خود” ایک فرد کے لیے یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ "اصولاً” یہ اقرار کرنے کا پابند ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اس پر لازم ہے؟ اگر کلمہ پڑھنے کے بعد وہ یہ "اصولی” رائے رکھے کہ خدا کی بات ماننا مجھ پر تب لازم ہے جب میرا دل کرے گا ورنہ نہیں، تو کیا وہ "واقعی” مسلمان ہے؟ تو اگر ایک کلمہ گو فرد کے لیے اس اصولی اقرار کا اظہار لازم ہے تو آخر ان کروڑوں کلمہ گو مسلمانوں کی "مجموعی رائے” کے لیے یہ اقرار کیوں لازم نہیں؟ تو اِن کلمہ گو انسانوں نے جس خطے میں اپنی اجتماعی رائے کا اظہار کرنا ہو اگر وہاں وہ اپنے لیے اس لازمی اصولی اقرار کا اقرار کریں تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا اس معاملے میں وہ کوئی دوسری چوائس بھی محفوظ رکھتے ہیں؟

vi۔(جواب پر جائیے) یہ تو بالکل بدیہی بات ہے کہ "قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے” کا قانون دراصل "امرھم شوریٰ بینھم” کے استدلال سے مقدم ہے۔ "بنیاد” کے لکھے جانے پر تو اعتراض (کہ اس سے تو ریاست مسلمان ہو گئی) مگر اس بنیاد سے نکلنے والے جزئیے پر خود ہی اصرار! آخر یہ اصرار کس بنیاد پر؟

vii۔(جواب پر جائیے) پھر دیکھنا یہ بھی ہے کہ خود اللہ کے رسول ﷺ نیز انکے جانشینوں نے بھی کیا یونانی طرز کی براہ راست جمہوریت قائم کی تھی؟ وہ جو اس رسول ﷺ کے جانشین بنے کیا ان کا پہلا خطبہ اسی قسم کی جمہوریت کا پالیسی ڈاکومنٹ ہے؟ سنیے وہ کیا کہتے ہیں: "لوگو میری اطاعت کرو، جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کروں۔” یہ کیا یونانی جمہوریت کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا؟ کیا انہوں نے یہ کہا کہ "لوگو میں تو بس ازروئے قرآن کرنے کا پابند ہوں جو تم سب کی اجتماعی خواہش ہو گی، چاہے وہ جو بھی ہو”؟

viii۔(جواب پر جائیے) یہاں اقلیتوں کے ساتھ دھوکے کا استدلال سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیا ہم نے بارہا اپنے جلسوں اور نعروں میں یہ بات بالکل واضح نہ کر دی تھی کہ "پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الّا اللہ”؟ کیا اقلیتوں کو اس سے معلوم نہ ہوا تھا کہ پاکستان میں کیا ہو گا؟ تو ان سے دھوکا کس بات کا؟

ix۔(جواب پر جائیے) عالمی معاہدوں کی دلیل پر قراردادِ مقاصد کو معاہدہ شکنی پر محمول کر کے اسے خلاف اسلام قرار دینا (کہ اسلام معاہدہ شکنی کی ممانعت کرتا ہے) بھی ایک کمزور استدلال ہے۔ ان حضرات سے سوال ہے کہ اس عالمی معاہدے کی وہ کونسی "قطعی الدّلالت” شق ہے جس کی صریح دلالت کے مطابق پاکستانیوں کو قراردادِ مقاصد پاس کرانے کا حق نہیں تھا؟

x۔(جواب پر جائیے) ان حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کی آئینی شقوں سے مذہبی اقلیتوں پر ظلم کا معاشرتی دروازہ کھلتا ہے۔ مگر یہ سمجھنا درست نہیں کہ ہمارے ملک میں اگر مذہبی اقلیت کے ساتھ کہیں کوئی ناروا سلوک روا رکھ لیا جاتا ہے تو اس کی وجہ آئین میں انہیں اقلیت ڈکلیئر قرار دیا جانا ہے۔ اس آئین کی رو سے زیادہ سے زیادہ ان مذہبی اقلیتوں کو صدر یا وزیر اعظم بن سکنے کا حق نہیں، مگر پاکستان کی آبادی میں ان مذہبی اقلیتوں کا تناسب سامنے رکھتے ہوئے یہ بات با آسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ انہیں یہ حق نہ دیا جانا کوئی ایسا حق نہیں ہے جو عملاً ممکن تو ہو، مگر صرف آئین میں اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی غیر مسلم صدر یا وزیر اعظم نہیں بن پا رہا۔

xi۔(جواب پر جائیے) متبادل بیانیے کو سپورٹ کرنے والے بعض اہل علم کا یہ استدلال بھی ہے کہ میثاقِ مدینہ میں شامل مسلمانوں سمیت تمام گروہوں کو "ایک امت یا ایک قوم” قرار دے کر مساوی حقوق عطا کیے گئے تھے؛ جبکہ آئین پاکستان میں اسلامی شقوں کی رو سے غیر مسلمین منطقی طور پر اقلیت قرار پاتے ہیں جو کہ میثاقِ مدینہ کی حکمت کے خلاف ہے۔ یہ استدلال بوجوہ (متعدّدہ) غلط ہے۔

میرا تبصرہ:

i۔(سوال پر جائیے) بصد احترام ، مؤقف کو صحیح نہیں سمجھا گیا۔ نہ غامدی صاحب نے کہیں یونانی طرز کی جمہوریت کے رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے اور نہ ہی جنرل ول "General Will” کی کہیں نفی کی ہے ۔ جمہوریت کی کسی خاص شکل کی بحث یا اس کی تائید و تنکیر کرنا تو سرے سے ان کے پیشِ نظر ہی نہیں۔ وہ تو بس جو صورت اس وقت پاکستان اور دیگر قومی ریاستوں میں حاضر و موجود ہے، اور تسلیم شدہ ہے، اسی پر کلام کر رہے ہیں۔ ان کے کلام کا مدعا یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کی جو بھی موجودہ نوعیت ہے اس کے حساب سے کون سی وہ اصولی آئینی شقیں ہیں جو عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی یا شرعی اعتبار سے بھی غیر ضروری ہیں۔ یہ بات تو واضح ہے کہ غامدی صاحب نے ان مبینہ باتوں کا دعوٰی بالصراحت کہیں نہیں کیا۔ پس یقیناً یہ مغالطہ صاحبِ مضمون کو کسی عبارت کی ناقص تفہیم سے لگا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق شائید جہاں غامدی صاحب موجودہ دور کی قومی ریاستوں کو مذہبی تشخص دینے کے لیے منظور کی گئیں آئینی دستاویزات پر تنقید کر رہے ہیں، وہاں جناب زاہد صاحب نے یہ سمجھا ہے کہ "General Will"کی ہی نفی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ فقط یہ کہہ رہے ہیں کہ "کچھ” اقدامات اصولاً غلط ہیں چاہے انہیں اکثریت کی تائید ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ کوئی ریاست "General Will"سے چلے یا "Will of All"سے، غامدی صاحب کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ نتیجتاً، اس کے بعد کچھ سوال جو صاحبِ مضمون نے اس مفروضے کو درست مان کر اٹھائے ہیں، وہ تو ظاہر ہے بے بنیاد ہو جاتے ہیں۔ تاہم، وہ سوال جو اس مفروضے کے بغیر بھی قائم رہ سکتے ہیں، انہیں میں نے شاملِ گفتگو ہی رکھا ہے۔

ii۔(سوال پر جائیے) اگرچہ صاحبِ مضمون کا یہ دعوٰی کہ ” معلوم نہیں یہ کس بلا کا نام ہے ” ایک "preposterous” دعوٰی ہے، کیونکہ جانبداری ایک محتاجِ بیان شے ہوتی ہے نہ کہ غیر جانبداری جو بالکا بدیہی ہوتی ہے، مگر یہ امکان بھی بہر حال موجود ہے کہ انہیں واقعتاً یہ تصوّر سمجھ میں نہ آسکا ہو، یا تمام تر غور و خوض کے باوجود اس کی معقولیت ان پر آشکار نہ ہو سکی ہو۔ اس لیے میں یہاں ایک سعی اس مقصد کی خاطر کیے دیتا ہوں، بس اس تخصیص کے ساتھ کے ریاست کے آئینی اور قانونی تشخص کی بات مقصود ہے نہ کہ عرف عام میں تسمیہ کی (یہ بات کرنے کی ضرورت تو نہیں تھی مگر ناقدین میں سے بعض نے بنائے استدلال تسمیۂ عرفی کو بنا ڈالا، اس لیے ذکر کر رہا ہوں)۔  (یہاں میں نے ایک تیسرا زاویہ بھی بیان کیا تھا مگر زاہد صاحب کی تصحیح کے بعد اسے محو کر دیا ہے۔ اس زاویے کو نیچے تبصروں میں دیکھا جا سکتا ہے)ریاست کے مذہب سے تعلق کا ایک زاویہ یہ ہے کہ کیا قرآن نے ریاست کو بھی مشرف بہ اسلام کرنے کا کوئی حکم صادر کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن افراد کو مخاطب کرتا ہے اور انہیں ہی ان کی مختلف حیثیتوں میں دین کا پابند بناتا ہے۔ وہ نہ تو یہ تجویز کرتا ہے اور نہ ہی اس کا حکم دیتا ہے کہ اپنے تمام جوارح، اداروں اور مکانات و مقامات کو بھی اس طرح کے تعینات دیے جائیں کہ وہ مسلم ہیں کہ نہیں۔ یہ وہ زاویہ ہے جس سے شرعی اعتبار سے یہ تعین غیر ضروری ہو جا تا ہے۔ دوسرا زاویہ اہم تر ہے۔ وہ یہ کہ چونکہ موجودہ دور کی ریاستوں میں کوئی حاکم و محکوم نہیں بلکہ سب برابر کے شہری ہیں، اس لیے ریاست کے تشخص کے بارے میں کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کو یکطرفہ فیصلے کا کوئی حق نہیں۔ وہ چاہے غالب اکثریت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، ریاست کے تشخص جیسے جزوِ لا ینفک اور سب کی مشترک میراث کے بارے میں سب مذاہب کے ماننے والوں کے اتفاقِ کلی کے محتاج ہیں۔ بصورتِ دیگر، وہ حق تلفی کے مرتکب ہوں گے۔ پھر اس تعین کے نتیجے میں انہیں دوسرے درجے کا شہری بھی آپ سے آپ بنا ڈالا گیا ہے، درآنحالیکہ وہ برابر کے شہری تھے۔ یہ ہیں وہ دو زاویے جن کے تحت موجودہ دور کی ریاستیں "Neutral"ہی رہنی چاہئیں، اور اس پر شریعت کو کوئی اعتراض بھی نہیں۔ تاہم، کسی تعین میں اس آخری زاویے کو منہا کر کے اگر ریاست کے تشخص کا اظہار کر بھی دیا جائے، تو اس پر عدمِ ضرورت کے علاوہ کوئی فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ ہاں، دوسرا زاویہ اسے نا انصافی کے زمرے میں لے آئے گا۔ محترم زاہد صاحب سے گزارش ہے کہ ماضی اور دورِ حاضر کی ریاستوں میں جو فرق ہے اسے سمجھنے کے لیے، اور ریاست اور حکومت میں جو تقسیم ہے اسے بھی مدّ نظر رکھنے کے لیے، غامدی صاحب کا مضمون "ریاست اور حکومت” ضرور دیکھ لیجیے۔ تا کہ اور ناقدین کی طرح سوالات خلطِ مبحث میں مبتلا نہ ہوں ۔

iii۔(سوال پر جائیے) یہ نکتہ بھی صحیح نہیں سمجھا گیا۔ نہ غامدی صاحب کو ایسا کوئی علمی "خدشہ” لاحق ہے اور نہ ہی اسے خدشہ کہنا مناسب ہے۔ غامدی صاحب نے اپنے پہلے ہی مقالے میں ذمہ داریوں کی ایک پوری فہرست مرتب کر دی ہے جو شریعت نے حکمرانوں پر عائد کیں ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ناقدین اس فہرست کو شاملِ عناصر (factor in) کیوں نہیں کرتے۔ خیر، نمائندگان ان ذمہ داریوں میں سے جتنی کو آئینی شقوں میں تبدیل کر کے قانوناً بھی اپنے اوپر لازم کرنا چاہیں تو اس میں کیا حرج ہو سکتا ہے۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا، اور جو ہمارے آئین میں کر دیا گیا ہے، کہ ہم اپنے مذہبی تصورات کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی لازمی کر دیں۔ اس دور کی قومی ریاستیں جس طرح وجود پذیر ہوئی ہیں اور ان کی جو اصولی نوعیت ہے، اس کے تحت چونکہ نہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے ہمارے غلام، نہ ہی ذمی اور نہ ہی معاہد ہیں اس لیے ہم ان کو اپنے دینی تصورات کا پابند نہیں کر سکتے ۔ علم و عقل کا یہی فتویٰ ہے اور ہمارا دین بھی ہمیں جس عدل و انصاف کا پابند کرتا ہے ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ اس کے مقابل میں یا تو یہ دلیل پیش کی جائے کہ ہمارے دین کا مؤقف یہ نہیں۔ یا یہ کہا جائے کہ موجودہ دور کی ریاستوں کی یہ نوعیت نہیں۔ ان دو شاہراہوں کے علاوہ کوئی شاہراہ ایسی نہیں جس سے غامدی صاحب کی دکھائی گئی منزل سے اجتناب کیا جا سکے۔

iv۔(سوال پر جائیے)"امرھم شوریٰ بینھم” کا اصول "سٹیٹ سٹرکچر” پر نہیں، "مسلمانوں” پر لازم ہے۔ اور یہ لزوم قانونی نہیں، دینی و اخلاقی ہے۔ یہ اسی طرح کا شرعی لزوم ہے جس طرح کہ مثال کے طور پر روزہ، حج، صداقت گوئی، پاسداریِ معاہدات وغیرہ کا۔ یعنی اگر مسلمان اس کی پابندی نہیں کريں گے تو وہ اللہ کے حضور جوابدہ ہوں گے ۔ اس لیے ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ ریاست کے نظام کو اسی اصول کے تحت چلانے کے علم بردار بنیں۔

v۔(سوال پر جائیے) اوپر بیان کی گئی توضیح کے بعد اس نکتے کے علیحدہ جواب کی چنداں حاجت نہیں، کیونکہ جس طرح شریعت کے واجبات فرد پر ہیں اسی طرح حکمرانوں پہ بھی ہیں۔ وہ اگر ان اقراروں کو کسی قانونی دستاويز میں درج کرنا چاہیں تو شوق سے کريں۔ بس اس تخصیص کے ساتھ کہ ایسے تمام اقرار یا ان کے نتائج مسلمانوں تک ہی محدود رہیں۔ غیر مسلموں پر انہیں لاگو کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ مگر یہ باتیں تو اوپر کی بحث سے ہی واضح تھیں۔ میں نے اس نکتے کو اور وجہ سے نقل کیا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس طرح کے اقرار فرد پر یا مسلمانوں کی "مجموعی رائے” پر قانون کی طاقت سے لازم کیے جا سکتے ہیں ،یا لازم کر دینا ضروری ہیں، یا ان کا مطالبہ ہی درست ہے۔ نہ کسی فرد کو یہ اقرار کرنے کا پابند کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جماعت کو۔ یہ معاملات دعوت و نصیحت سے متعلق ہیں اور ان کی جوابدہی اللہ ہی کريں گے۔ اور نقل کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ صاحبِ مضمون نے اس اقرار کی بنیاد پر یہ جو تفریق مسلمان اور "واقعی” مسلمان میں کی ہے، اور پھر اس کے نتیجے میں اسے "کافر” تک جا پہنچایا ہے، یہ لائقِ اصلاح ہے۔ نہ تو مسلمانوں سے شہادت، نماز اور زکوٰۃ کے علاوہ کوئی مطالبہ قانون کی طاقت سے کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس عالمِ واقعہ میں کسی اور اقرار کا انہیں پابند۔ یہ مسلمان اور "واقعی” مسلمان کی تفریق ہی وہ گمراہ کن عقیدہ ہے جس کو بنیاد بنا کر تکفیری جماعتیں مسلمانوں کو "واقعی” مسلمان نہ گردانتے ہوئے قتل کرنے کے لیے دلیل پکڑتی ہیں۔ درانحالیکہ، مسلمان اور واقعی مسلمان میں فرق اس دنیا کی چیز ہی نہیں؛ اگلی دنیا کی چیز ہے۔ اس لیے محترم زاہد صاحب سے گزارش ہے کہ صاحبانِ علم کو، خصوصاً اس دور میں، اپنے الفاظ کے چناؤ میں بہت محتاط ہونا چاہیے ۔

vi۔(سوال پر جائیے) اعتراض اس فعل پہ نہیں کہ بنیاد آئین میں لکھ دی گئی۔ بلکہ اس پہ ہے کہ اسے غیر مسلموں پر بھی نافذ کر دیا گیا۔ ویسے ایسی بنیادیں آئین میں درج کر دینا بس ایک علامتی حیثیت ہی کی حامل ہوتی ہیں۔ اگر اس سے کوئی قانونی اطلاقات مراد لینے ہوں تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کہیں اس کے نتیجے میں پارلیمان کے علاوہ کسی اور کو بالا دستی تو حاصل نہ ہو جائيگی؟ کیونکہ کہنے کو تو یہ اللہ اور رسول ﷺ کی بالا دستی نظر آتی ہے، مگر بالفعل طبقۂ علما کی بالا دستی سے عبارت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ان دساتیر کے بعد یہ مطالبہ علما کی جانب سے کئی مرتبہ سامنے آ چکا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات نہیں بلکہ احکامات دینے کی مجاز ہونی چاہیے۔

vii۔(سوال پر جائیے) ("یونانی طرز کی براہ راست ” سے غضِ بصر کرتے ہوئے کہ یہ تو غامدی صاحب نے کہا نہیں) اللہ کے رسولؑ دنیا پر اللہ کی حجت تمام کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ارض و سما سے یا ان کے ماننے والوں کے ہاتھوں سے منکرین پر عذاب آتا ہے۔ وہ اپنے تمام اہم سیاسی معاملات میں براہ راست خدا کی جانب سے ہدایات پا رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی حکومتی ذمہ داریوں کے لیے اللہ کی ہدایات کے سوا کسی چیز کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ اکیلے ہی ہادی، حاکم، قاضی اور سپہ سالار ہوتے ہیں۔ ان کے طرز ِحکومت میں اور عام انسانوں کے طرزِ حکومت میں یہ جوہری فرق ہوتا ہے۔ تاہم، اس فرق کے باوجود، چند معاملات جن میں وحی نے براہ راست فیصلہ کر دیا، اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیشہ جمہوری اقدار کی پاسداری کی اور لوگوں سے متعلق تمام معاملات انہی کے نمائندوں کے مشوروں سے چلائے۔ رہی بات ان ﷺ کے جانشینوںؓ یعنی خلفاءِ راشدینؓ کی، تو ان کی حکومتیں قائم بھی جمہوری طریقوں سے ہوئیں اور انہیں چلایا بھی جمہوری طریقوں سے گیا۔ رہا وہ اقتباس جو محترم زاہد صاحب نے خلفاءِ راشدین کے خطبوں سے نقل فرمایا ہے تو وہ تو حرف بہ حرف قرآن کے حکم (4:59) کا عکاس ہے۔ مسلم حکمرانوں کی اطاعت اسی سے مشروط ہے اور یہی غامدی صاحب کا صریح مؤقف بھی ہے۔ مگر میں سمجھ نہیں سکا کہ اس کو نظامِ جمہوریت کی نفی کے لیے کیسے استعمال کر لیا گیا ہے۔ نظامِ جمہوریت تو خود قرآن سے ثابت ہے۔ میری محترم زاہد صاحب سے التماس ہے کہ اگر اس اقتباس سے کسی طرح جمہوریت کی نفی ہو رہی ہے تو براہِ مہربانی اپنے استشہاد کو واضح فرمائیے۔

viii۔(سوال پر جائیے) "دھوکے” کا لفظ غامدی صاحب نے تو استعمال نہیں کیا۔ ہاں انہوں نے اسے تحکم اور استبداد کہا ہے جس پر پہلے سے پتہ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نا انصافی، ناانصافی ہی رہتی ہے۔ رہی یہ بات کہ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کے نعروں سے انہیں سمجھ جانا چاہیے تھا، تو یہ استدلال بھی حد درجہ کمزور ہے۔ اول تو اس لیے کہ ایسے نازک معاملات کے لیے قائدین سے بالمشافہ سرکاری ملاقاتوں میں طے پانے والے سمجھوتے اور یقین دہانیاں فیصلہ کن ہوتی ہیں نہ کہ سیاسی نعروں سے استنباط۔ اور قائد اعظم کی تقریر کا حوالہ اور ان کے وعدے تو غامدی صاحب بیان کر ہی چکے ہیں۔ اور دوم اس لیے کہ اس نعرے سے تو عین ممکن ہے کہ غیر مسلم یہ سمجھے ہوں کہ کیونکہ مسلمان اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا عزم باندھ رہے ہیں، اور ان کا دین چونکہ انہیں عدل و انصاف کا پابند کرتا ہے اس لیے یہ یقیناً عدل کريں گے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ اکثریت کے جس تحکم سے بچنے کے لیے وہ علیحدہ وطن مانگ رہے ہیں اسی استبداد کا مظاہرہ آزادی کے بعد خود دوسروں کے حق میں کر دیں گے۔

ix۔(سوال پر جائیے) یہ دلیل بھی غامدی صاحب کی نہیں اس لیے اس کے جواب کا میں خود کو مکلف نہیں سمجھتا۔ یہاں نقل کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ قارئین مطلع رہیں کہ یہ ان کا مؤقف نہیں۔

x۔(سوال پر جائیے) صاحبِ مضمون نے کچھ الفاظ کے فرق سے غامدی صاحب کا مؤقف تو شائید ٹھیک ہی بیان کر دیا ہے، مگر نہ جانے جواب ایک دوسرے سوال کا کیوں دے دیا ہے۔ وہ سوال غالباً یہ ہے کہ "کیا غیر مسلم اقلیتوں پر ہونے والے سب مظالم کی وجہ آئین میں ان کا اقلیت ڈکلئیر کیا جانا ہے؟”۔ ظاہر ہے یہ تو سرے سے سوال ہی نہیں تھا۔ رہی یہ بات کہ چونکہ اقلیتوں کا صدر اور وزیر اعظم بننا بالفعل ممکن نہیں اس لیے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ آئین میں ان سے یہ حق چھین لیا جائے، بھی لائقِ تصحیح خیال ہے۔ موجودہ دور کی ریاستوں میں رنگ، نسل، زبان یا مذہب وغیرہ کی بنیاد پر اس طرح کی قانون سازی اصولاً غلط ہے اور انسانوں کا مجموعی شعور اس کے خلاف فیصلہ دے چکا ہے۔ تاہم، یہ دعویٰ کہ آئین میں درجۂ دوم کی شہریت بس صدر اور وزیر اعظم بننے سے روکتی ہے۔۔۔ بھی کمال سادگی کا مظہر ہے۔ میرے خیال سے اس دعوے کی حقیقت قارئین خود ہی جانتے ہیں، کچھ محتاجِ بیان نہیں۔

xi۔(سوال پر جائیے) یہ استدلال بھی غالباً غامدی صاحب کا نہیں مگر ہے بہت دلچسپ۔ صاحبِ مضمون ان لوگوں کا جنہوں نے یہ استدلال پیش کیا ہے، ابطال کرتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس میثاق کے تحت تو رسول اللہ ﷺ نے فلاں اور فلاں شرعی مطالبات یہود سے بھی منوا لیے تھے۔ پس اس سے کم درجے کی اسلامی شقیں اگر ہم نے آئین میں اقلیتوں کے لیے مقرر کر دیں تو کیا ہوا۔ بصد احترام، زاہد صاحب سے یہ سوال ہے کہ آپ نے میثاق کے متن پر تو یقیناً غور کیا ہو گا، اور ہے۔ مگر کیا اس کی نوعیت پر بھی غور کیا؟ یہ ایک معاہدہ تھا۔۔۔۔معاہدہ! جس میں فریقین کو پورا اختیار حاصل تھا کہ چاہیں تو کسی شق سے اتفاق کریں یا اختلاف۔ ہم نے جو اقلیتوں کے ساتھ کیا ہے کسی معاہدے اور میثاق کے تحت کیا ہے؟ کسی سے کوئی معاہدہ کر کے اس سے تھوڑی نہیں ساری شریعت پر اتفاق اگر کوئی کرا لے تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ ان اقلیتوں کی درجۂ دوم میں تنزلی ہم نے یکطرفہ طور پر طے کر لی ہے اور اپنے مذہبی تصورات ان کی مخالفت کے باوجود ان پر مسلط کر دیے ہیں۔

اختتامیہ: محترم محمد زاہد صدیق مغل صاحب سے التماس ہے کہ اگر کہیں کوئی لب و لہجہ ادب کے منافی پائیں تو اسے نادانستہ سمجھیں اور اس پر میری معذرت قبول فرمائیں۔ مگر جو جوابات معقول لگیں ان کو تسلیم کریں اور جو غلط پائیں ان پر ضرور مطلع فرمائیں۔

Advertisements

7 Comments Add yours

  1. Atif Rafi نے کہا:

    آپ نے زاہد مغل صاحب کے بارے میں لکھا کہ:

    "ان کے نقد سے میرا عمومی احساس یہ ہے کہ زیادہ تر سوال جو انہوں نے اٹھائے ہیں وہ سوءِ فہم کے عکاس ہیں۔ یعنی وہ غامدی صاحب کے مؤقف کو ٹھیک نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ ہیں۔”

    میرے خیال میں تو آپ آپ کا یہ جملہ بتا رہا ہے کہ آپ زاہد مغل صاحب کو جانتے ہی نہیں. سر، زاہد صاحب کا صرف ایک کام ہے، یک نکتہ ایجنڈا ہے اور وہ یہ ہے کہ غامدی صاحب جو بھی کہیں، جو بھی، اسکی بغیر سوچے سمجھے مخالفت کرنی ہے…. الله کے فضل سے زاہد صاحب نے آج تک کبھی غامدی صاحب کی کوئی بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نا کبھی غامدی صاحب کے بیان کردہ استدلال کو پڑھنے اور سمجھنے کی بات کی ہے، حتیٰ کہ قرآن و سنت سے بیان کردہ تفصیلات کو دیکھنا بھی مناسب نہیں سمجھا.

    باقی مضمون میں بھی مغل صاحب کے بارے میں آپ نے بہت زیادہ حسن ظن سے کام لیا ہے، جس پہ آپ کی تحسین کرنا ضروری ہے کیونکہ مغل صاحب میرے خیال میں تو اسکے مستحق نہیں

    1. Bold and Bearded نے کہا:

      میں واقعی ان کو نہیں جانتا۔۔۔

  2. Zahid Mughal نے کہا:

    ریاست و مذہب: ایک غلط فہمی کا ازالہ
    ——————————————–
    ماہنامہ الشریعہ اپریل 2015 میں راقم الحروف کے غامدی صاحب کے "متبادل بیانئے” کے جواب میں جناب مسرور اعظم فرخ صاحب کی ایک تحریر دیکھنے کو ملی۔ اس تحریر میں زیادہ تر انہوں نے، انکے خیال میں، غامدی صاحب کے مؤقف کو سمجھنے میں بندے کو جو غلطیاں لگی ھیں انکی وضاحت کی ہے۔ البتہ اس تحریر میں چند مقامات پر اٹھائے گئے نکات کا جواب دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے، جن میں سے ایک قابل ذکر نکتے، جسکا تعلق ریاست و مذہب کے باہمی تعلق سے ہے، پر یہاں ایک مختصر کمنٹ کیا جاتا ہے۔
    فرخ مسرور صاحب کا مؤقف ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اسے نیوٹرل ہونا چاہئے۔ اس مقدمے کو ثابت کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ جس طرح گھوڑے، سائیکل یا مکان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا نیز انکی مذہبی تعیین غیر عقلی ہے اسی طرح ریاست کی مذہبی تعیین بھی غیر عقلی بات ہے۔ مگر صاحب تحریر کی یہ مثالیں واضح کررہی ہیں کہ وہ ریاست کے درست مفہوم کا ادراک نہہں رکھتے۔ ریاست افراد کے جبری تعلقات کے مجموعے سے وقوع پزیر ہونے والی ادارتی صف بندی کا نام ہے، افراد کے تعلقات سے علی الرغم اسکا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ پس جس طرح فرد کے مختلف احوال (مسلم و کافر) ہوتے ہیں ریاست بھی ان سے دوچار ہوتی ہے۔ اسکے برعکس گھوڑے، سائیکل و مکان فرد سے علی الرغم اپنا وجود رکھتے ہیں۔ الغرض اگر صاحب تحریر قومی ریاستوں کے جدید تصورات کا مطالعہ فرمائیں تو ان میں بھی ریاست کو محض کسی جگہ یا مقام سے تعبیر نہیں کیا جاتا بلکہ اسکا اصل الاصول "حاکمیت اعلی” کے تصور میں ہی پنہاں ہوتا ھے۔

    تیسرے تجزیاتی نکتے کی بابت مختصرا عرض ہے کہ موجودہ دور کی ریاستوں کا مذہب "ہیومن رائٹس” ہوتا ہے جسے نہایت چالاکی کے ساتھ "نیوٹرل پوزیشن” سے تعبیر کر دیا جاتا ہے؛ فرق اتنا ہے کہ حقوق کی تفصیلات سے متعلق یہ مذہب انسانوں کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ نام بدل دینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ الغرض جس طرح اسلام ایک "پوزیشن” لینے کا نام ہے "سیکولرازم” بھی بعینہہ ایک پوزیشن کا ناہے؛ پس اگر موجودہ ریاستیں سیکولر ہونے سے کوئی عقلی وعلمی پیمانہ نہیں ٹوٹ جاتا تو اسکے اسلامی ہوجانے سے بھی کوئی استحالہ لازم نہیں آجاتا۔

    1. Bold and Bearded نے کہا:

      محترم زاہد صدیق صاحب!
      میرا نام عدنان اعجاز ہے۔ مسرور اعظم فرخ صاحب تو خود آپ کی طرح ایک معزز ناقد ہیں جن کے نقد کے جوابات میں اپنی اس بلاگ میں دیتا رہا ہوں۔ تاہم ان کا اس بلاگ، یا آپکے الشریعہ میں غامدی صاحب کے جوابی بیانیہ پر وارد اعتراضات، سے کوئی تعلق نہیں۔
      آپ نے ریاست کے مذہب سے تعلق پر میرے نا معقولیت والے نکتے کا جو جواب تحریر فرمایا ہے، اس میں کچھ وزن ہے۔ اگرچہ آپ کے استدلال سے میں سر دست پوری طرح سہمت تو نہیں ہوں۔۔۔خصوصا اس عبارت سے کہ "جس طرح فرد کے مختلف احوال ہوتے ہیں ریاست بھی ان سے دوچار ہوتی ہے”، تاہم آپ کے نتیجے سے مجھے کسی قدر اتفاق ہے۔ یعنی میں ریاست کے مذہب سے تعلق کو پوری طرح معقول تو نہیں سمجھتا، مگر اس کو نا معقول بھی کہنا مناسب نہیں۔ اور اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ ریاستوں کا مذہبی تعین تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔ یہ تعین اگرچہ ان کے فاتحین یا مالکوں کے مذہب کی نسبت سے ہوتا رہا ہے، تاہم ایسے وجود جو کسی حالت میں بھی کوئی خاص تعین قبول کر لیتے ہوں، ان کے بارے میں علی الطلاق نا معقولیت کا فتوی نہیں دیا جا سکتا۔ ویسے غامدی صاحب کی اپنی رائے میں بھی انہوں نے نامعقولیت کا زاویہ بیان نہیں کیا، بلکہ شرعی اعتبار سے غیر ضروری اور عدل و قسط کے خلاف کہنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ آپ کی اس تصحیح کے بعد میں بھی نا معقولیت کا زاویہ واپس لیتا ہوں، اور آپ کی اس تصحیح کے لیے شکر گزار ہوں۔ باوجود اس کے، باقی دو زاویوں سے میرے ادعا اپنی جگہ قائم ہیں، اور آپ نے ان کو موضوع بھی نہیں بنایا ہے۔
      جہاں تک آپکا یہ دعوی ہے کہ ہیومن رائٹس کو چالاکی سے نیوٹرل کہہ دیا جاتا ہے، تو اس پر کلام کی مجھے کوئی حاجت نہیں۔ یہ آپ کی رائے ہے اور آپ اسے ضرور رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ہیومن رائٹس اگر مذہب ہے تو یہ یقینا ہمارے مذہب اسلام کا ایک جز ہی تو ہے۔ چنانچہ ہم جسے مذہبی اور غیر مذہبی تقسیم سے غیر متعلق کہہ رہے ہیں آپ اسی کو ہیومن رائٹس مذہب سے تعبیر فرما رہے ہیں۔ اس اعتبار سے تو آپ کے اعتراض کی وجہ ہی باقی نہیں رہتی؛ کیونکہ آپ اس ریاست کو اسلامی کہتا چاہ رہے تھے جو ہمارے لیبل پہ اپنا لیبل لگا کر آپ نے ہمارے ہی نظریے سے برآمد کر لیا۔

  3. Zahid Mughal نے کہا:

    ریاست و مذہب: ایک مزید غلط فہمی کا ازالہ
    —————————————————
    کہا جاتا ہے کہ چونکہ موجودہ ریاستوں میں ماضی کی ریاستوں طرح کوئی حاکم و محکوم نہیں ہوتا بلکہ سب ملکر اس میں مساوی طور پر شریک ہوتے ہیں لہذا موجودہ ریاستوں کو اسلامی ڈیکلیئر کرکے مسلمانوں کو حاکم و غیر مسلمین کو محکوم ڈیکلئیر کردینا گویا استبداد کی ایک شکل ہے۔ مگر یہ استدلال بوجوہ محل نظر ہے:
    1) اگر مان بھی لیا جائے کہ موجودہ سیکولرانہ ریاستی نظم میں ایسا نہیں ہوتا تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمان اس نظریاتی پوزیشن کو اپنانے کے "شرعا” کیونکر پابند ہیں؟ اجتماعی معاملات اپنے نظریئے کے مطابق چلانے کی غرض سے اگر موجودہ ریاستوں کے سٹرکچر میں کوئی تبدیلی آبھی جائے تو اس میں بھلا کیا قباحت ہے؟ کیا خدا نے ہمیں اس قسم کی ریاستی صف بندی کو جوں کا توں اپنانے کا حکم دے رکھا ہے؟
    2) یہ سمجھنا کہ موجودہ ریاستی نظم میں حاکم و محکوم کی تقسیم نہیں ہوتی ان معنی میں تو درست ہے کہ یہ تقسیم قبائلی، خاندانی یا لسانی نہیں ہوتی مگر ان معنی میں ہرگز درست نہیں کہ ان سیکولرانہ ریاستوں میں کسی خاص قسم کی "نظریاتی تقسیم” کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے مابین حاکم و محکوم کا تعلق نہیں ہوتا۔ المختصر یہاں شرع کی طرح اصولا "ہیومن رائٹس” کی حکومت ہوتی ہے لہذا حکمران یہاں وہی ہوتے ہیں جو "شریعت ہیومن رائٹس” کی بالادستی کا اقرار کرتے اور اسے فروغ دیتے ہیں؛ جو مستقلا اسکا انکار کریں وہ یہاں مستقلا محکوم رہنے کے پابند ہیں؛ الا یہ کہ وہ شریعت ہیومن رائٹس کے اس نظام کو کسی طور تلپٹ کرکے رکھ دیں۔ الغرض اسلامی ریاست میں "حکومت اعلی” مسلمانوں کی نہیں بلکہ اسلام کو ماننے والوں کی ہوتی ہے، ہر فرد کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ جس لمحے چاہے اسلام قبول کرلے۔ یہ دنیا نہ مسلمان کی ہے اور نہ کافر کی، یہ اللہ کی ہے؛ اور یہاں حاکمیت اسی کی ہونی چاہئے جو اسکا مالک ہے۔ قرار داد مقاصد اس سادہ حقیقت کے اظہار کے سواء اور کسی شے کا نام نہیں۔
    3) پھر اگر کوئی اس سب سے بھی راضی نہیں ہوتا تو یوں سمجھ لے کہ جس طرح موجودہ ریاستوں میں اکثریت حاکم و اقلیت محکوم ہوتی ہے (بلکہ یہ ریاستی نظم جس قدر مستحکم ہوتا چلا جاتا ہے ہیاں ایک "مستقل اکثریت” اور "مستقل اقلیت” وجود میں آجاتی ہے) اسی طرح پاکستان میں اکثریت (جو کہ مسلمان ہے) حاکم اور اقلیت محکوم ہے؛ اس میں خفا ہونے کی کوئی بات نہیں؛ یہ صرف زمینی حقائق کو مان لینے کے مترادف ہے۔ یہاں کی اقلیت کے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے اکثریتی گروہ کا حصہ بن جائے۔

    ٭ مزید گفتگو کے لئے بندے کے فیس بک پیج پر تشریف لائیے۔

    1. Bold and Bearded نے کہا:

      محترم زاہد صاحب!
      آپکے اعتراضات کے ترتیب وار جوابات درج ذیل ہیں:
      1۔ ہم نے کب یہ کہا ہے کہ شریعت نے اس بارے میں کوئي براہ راست حکم دیا ہے۔ ہمارا تو مقدمہ یہی ہے کہ شریعت نے اس نوعیت کے کوئی احکامات سرے سے دیے ہی نہیں ہیں۔ اس لیے اگر آپ اس نظریاتی پوزیشن کو بدلنا چاہتے ہیں تو آپ کوئی غیر شرعی کام نہیں کر رہے۔ ہاں مگر شریعت نے ہمیں عدل و قسط کے عمومی احکامات تو بہر حال دیے ہیں جس میں اس نے مسلم و غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں کی۔ چنانچہ اگر ایک گھر جس میں دس لوگ رہ رہے تھے، وہ اچانک حکومت کی طرف سے اس کے رہنے والوں کو ہدیہ کر دیا گیا، تو یہ دس کے دس لوگ ملکیت میں شامل ہوں گے یا آپ کی نظر میں کسی اور طرح کی تقسیم روا ہو گی؟ اگر کوئی ایسی تقسیم کرنے کا شریعت نے ہمیں ڈھنگ سکھلایا ہے جس میں عدل و قسط کی ساری اقدار کو پس پشت ڈال دینا ضروری ہو تو براہ مہربانی ہمیں شریعت میں وہ حکم ضرور دکھا دیجیے ۔ اس کے بعد ہمیں کسی سے لمبے چوڑے مکالمے کرنے کی کیا ضرورت رہے گی!
      2۔ شریعت ہیومن رائٹس کی وساطت سے آپ نے جو حاکم و محکوم کا رشتہ اور ضوابط کھینچے ہیں ان کا کوئ جواب دینے کی مجھ میں تو سکت نہیں۔ کیونکہ اس کے رد کی خاطر مجھے جس پریشان خیال وادی میں اترنا پڑے گا کہ جس میں آجکل کی ریاستوں میں بھی حاکم و محکوم کی دریافت کرنا پڑے گی، اس کا نہ میں اہل ہوں اور نہ ہی اس کی حاجت۔ کیونکہ الجھاؤ کی اصل وجہ میرے خیال میں کہیں اور ہے جس کا ذکر بھی آپ نے خود کر دیا ہے۔ آپ نے جو فرمایا ہے کہ "یہ دنیا نہ مسلمان کی ہے اور نہ کافر کی، یہ اللہ کی ہے؛ اور یہاں حاکمیت اسی کی ہونی چاہئے جو اسکا مالک ہے”۔۔۔۔تو ہماری بحث کا اصل مدار اسی دعوے کا ثبوت ہونا چاہیے۔ اگر یہ بات اللہ تعالی نے کہیں فرما دی ہے تو پھر تو ہمارا آپ ہی کا ہم خیال ہو جانا بالکل منطقی اور لازمی ہے۔ اس لیے میری آپ سے یہی مؤدبانہ درخواست ہے کہ اپنے اس دعوے کے لیے: ھاتو برھانکم!
      3۔ قطع نظر اس سے کہ مجھے آپکی حاکم و محکوم کی اس تعریف سے اختلاف ہے، احتراما عرض ہے کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اقلیت حاکموں میں شامل کیسے ہو سکتی ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ اگر اقلیت کسی چیز کی مشترکہ ملکیت پہلے سے رکھتی ہے تو اسے اس سے بے دخل کیسے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر آپ پچھلے نکتے میں مانگی گئی دلیل فراہم کر دیتے ہیں تو اس نکتے کی کوئی حاجت ہی باقی نہیں رہے گی۔
      ٭ محترم زاہد صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اعتراضات مجھے بھجوا دیا کريں میں انہیں اپنی اسی بلاگ پر موضوع بحث بنا لیا کروں گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s