تجزیۂ مقالہ ” اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب ” از مسرور اعظم فرّخ صاحب، روزنامہ پاکستان

(غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کی تردید میں جناب مسرور اعظم فرّخ صاحب کے بیان کردہ اعتراضات کا جواب )

جناب مسرور اعظم فرّخ صاحب نے روزنامہ پاکستان میں غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کا تجزیہ اپنے مضمون "اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب” کے عنوان سے پانچ (5) قسطوں میں شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اس بیانیے کے مختلف نکات پر نقد کیا ہے۔ یہ ایک بہت تفصیلی مضمون ہے اور اس تفصیلی کاوش کے لیے میں ان کا ممنون ہوں۔ میرے نزدیک کوئی بھی شخص جو امت مسلمہ کے متعلق درد دل رکھتا ہو وہ اس بیانیے کی بحث کے بارے میں بے پرواہی یا غیر جانبداری کا رویہ نہیں اپنا سکتا۔ اس لیے ہر ایسے مخلص مومن کو جو دین کا علم بھی رکھتا ہو اسے اپنا وزن کسی ایک بیانیے کے پیچھے ضرور پھینکنا چاہیے۔ اور یہی انہوں نے کیا ہے۔ ان کے مضمون کے سب حصوں کو جمع کر کے جو چیدہ اعتراضات و سولات انہوں نے اٹھائے ہیں وہ اور ان کے جوابات اس مضمون میں بیان کرنا مقصود ہیں۔

ان کی شائع کردہ اقساط میں سے پہلی قسط چند اصولی نکات پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے غامدی صاحب کے طرز بیان پر نقد کیا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی رائے سے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کے خیال میں بیانیہ پیش کرنے کا صحیح طریقہ یہ اور یہ ہونا چاہیے تھا۔ ان کی یہ آراء غامدی صاحب تک پہنچ چکی ہوں گی، مگر ظاہر ہے کہ ہر مصنف کا اپنا انداز ہوتا ہے جسے وہ صائب و مؤثر سمجھتا ہے۔ اس میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غامدی صاحب اس بیانیے سے یہ تاثر دے رہے ہیں جیسے جو کچھ انہوں نے کہا یا لکھا وہ پہلے ہی سے اسی طرح اور اسی معنی و مفہوم کے ساتھ تسلیم شدہ چلا آ رہا ہے ۔ تو عرض ہے کہ ایسا کوئی دعوٰی غامدی صاحب نے بالصراحت تو کہیں نہیں کیا بلکہ آغاز ہی یہاں سے کیا ہے کہ وہ مروجہ بیانیے کے جواب میں ایک دوسرا بیانیہ دے رہے ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی یہی تاثر محترم مسرور صاحب کو ملا ہے تو اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ پھر ایک اور اہم بات اسی قسط میں یہ فرمائی ہے کہ غامدی صاحب یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اللہ تعالی نے قرآن میں فرما ہی یہ رکھا ہے۔ اگرچہ مسرور صاحب کے ان الفاظ کے چناؤ سے میں سہمت نہیں تاہم عرض ہے کہ یہ تاثر تو وہ ضرور دینا چاہ رہے ہیں مگر اس تخصیص کے ساتھ کہ یہ ان کا مؤ‎قف ہے۔ انہوں نے قرآن و سنت سے یہی کچھ سمجھا ہے۔ اگر وہ اس تاثر کے قائل نہ ہوتے تو یہ مقالہ ہی کیوں لکھتے۔ تاہم، مسرور صاحب اور سب علما کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ واضح کریں کہ غامدی صاحب کا مؤقف کیوں غلط ہے۔ اس قسط میں اور کوئی ایسا اعتراض نہیں جس کے جواب سے بیانیے کے نکات پر کوئی مدد مل سکے اس لیے ذیل میں درج کیے گئے اعتراضات قسط نمبر 2 سے 5 تک ہی ہوں گے۔ اور ان میں سے بھی صرف وہ اعتراضات زیر بحث آئیں گے جو موضوع سے متعلق اور دینی و علمی استدلال پر مبنی ہیں۔ طعن وتشنیع کی قسم کے حملوں سے صرفِ نظر ہی کو میں نے موزوں جانا ہے۔

مسرور اعظم فرّخ صاحب(اسلام، ریاست، حکومت اور غامدی صاحب ، 13-20 مارچ 2015):

i۔(جواب پر جائیے) ”ریاست کا مذہب” ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ کوئی ریاست کو ہاتھ سے پکڑ مسجد میں امام صاحب کے سامنے لیجا کر بٹھا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے ہاتھ پر کلمہ پڑھو۔ ”ریاست کا مذہب” ہونے کے عام فہم معنی صرف اتنے ہیں کہ ملک یا قوم کی اکثریت کا دین کیا ہے ۔ کسی ریاست میں مذاہب کے درمیان شدید اختلاف کے دور میں بھی اس کا حل یہ نکالا جاتا تھا کہ بادشاہ کا مذہب ریاست کا مذہب کہلائے گا۔

ii۔(جواب پر جائیے) غامدی صاحب اپنے نکتہ نمبر 1 میں اقلیتوں کے حقوق کی بات تو ایسے کر رہے ہیں جیسے گویا اسلامی ریاست کے قیام کا پہلا مقصد اقلیتوں کے ایسے حقوق کا خیال رکھنا ہے، جنہیں نظر انداز کر کے اُنھیں دوسرے درجے کا شہری نہ بنا دیا جائے۔ کسی فکر و نظریے کی بنیاد پر قائم کی جانے والی ریاست کی پہلی ترجیح یہ نہیں ہوتی کہ سب سے پہلے یہ جائزہ لیا جائے کہ یہاں اقلیتوں کے حقوق کیا ہوں گے۔ ریاست کو قائم کرنے والے لوگ سب سے پہلے اپنے سیاسی فکر و فلسفے کی بنیاد پر ریاست کے ستون کھڑے کریں گے۔ اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ اہم ہونے کے باوجود بعد کے مدارج میں کہیں آئے گا۔

iii۔(جواب پر جائیے) اسلام اقلیتوں کو اپنا دینی بھائی بنانے کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھتا ہے تاکہ وہ برابری کی بنیاد پر ریاست کے تمام امور میں شریک ہوں، لیکن اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو قرآن انہیں علانیہ ”صاغرین ”کے درجے میں رکھتے ہوئے وہ حقوق دیتا ہے، جو دنیا کی تاریخ میں کہیں کسی اقلیت کو نہیں دیے گئے اور تاریخ اس پر گواہ ہے۔ صاغرین بھی وہ کچھ مخصوص معاملات میں ہیں ورنہ ذمیّ کی جان کی حُرمت مسلمان کی جان کی حُرمت کے برابر ہے وغیرہ۔

iv۔(جواب پر جائیے) غامدی صاحب مسلمانوں کی ریاست ہائے متحدہ کے قیام کی اجازت دیتے ہوئے فرماتے ہیں ” یہ ہم میں سے ہر شخص کا خواب بھی ہو سکتا ہے اور اس کی تعبیر کے لئے جدوجہد بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ بھی کوئی گناہ کی بات نہیں” کیونکہ ان کے خیال میں ”اسلامی ریاست کا قیام اسلامی شریعت کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے، جس کی خلاف ورزی سے مسلمان گناہ کے مرتکب ہو رہے ہوں”۔ یہ حکم کی قطعی ایک انوکھی تشریح ہے، جس کے ”فوائد” سے اُمت مسلمہ اب تک محروم ہی رہی۔ گویا اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو کچھ ایسے احکامات بھی دے رکھے ہیں، جس کی خلاف ورزی کی بھی اجازت ہے اور اس پر کوئی گناہ بھی نہیں۔

v۔(جواب پر جائیے) کیا ریاست کی تشکیل اور اس کے چلانے کے اصول قرآن و حدیث میں موجود نہیں؟ اگر ہیں تو کیا وہ محض تلاوت کے لئے ہیں؟ یہ عجیب منطق ہے کہ نبی کریمؐ کے دور کی قرآنی احکام کی روشنی میں بنائی گئی اسلامی ریاست اور چاروں خلفاء کے دور کی اسلامی ریاست تو آج کے مسلمانوں کے لئے کسی نئی اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کرنے کے لئے حکم کے درجے میں حجت نہیں ہے، لیکن دولت عباسیہ اور دولت امویہ (اندلس) کی سلطنتیں اس وجہ سے حجت ہیں کہ اس دور کے کسی فقیہہ نے ان سلطنتوں کو ناجائز نہیں کہا۔

vi۔(جواب پر جائیے) یہ کہنا کہ اسلامی شریعت میں ریاست یا خلافت کے قیام کا سرے سے کوئی حکم ہی موجود نہیں، دو سوالوں کو ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نتیجہ شروع ہی سے موجود تھا، یعنی کیا ماضی کے ہر دور میں اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے یہ سوچ اور نظریہ موجود چلا آرہا تھا کہ دین اسلام نے ریاست کے قیام کا کوئی باقاعدہ حکم نہیں دیا؟ دوسرا سوال یہ کہ اگر یہ سوچ اور نظریہ پہلے موجود نہیں تھا تو اس کے ہونے کا سوال کیوں اُٹھا؟

vii۔(جواب پر جائیے) ”نظم اجتماعی” کو اگر ”خلافت ”کہا جائے تو غامدی صاحب کے نزدیک اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں سرے سے احکامات ہی موجود نہیں ہیں، لیکن یہ ‘نظم اجتماعی ” خلافت کے علاوہ کچھ اور بنیادوں پر استوار ہو تو اسے ختم نہ کرنے یعنی اس سے خروج نہ کرنے کے احکامات ضرور موجود ہیں۔ کمال ہے! ایک آفاقی دین اب جو قیامت تک کے لئے رب کائنات کی جانب سے اس کا آخری پیغام ہے اپنے نظام کا کوئی ایسا تصور تو پیش نہیں کر سکتا، جس کو اپنانے اور اسے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہو البتہ کوئی اگر کسی طرح خود قائم ہو جائے تو اس کے قائم رہنے دینے اور اس کے خلاف خروج نہ کرنے کے احکامات ضرور دیتا ہے۔

viii۔(جواب پر جائیے) قرآن پاک میں بہت سے معاشرتی، سیاسی اور قانونی احکامات اور سزاؤں کا بیان خود ہی اس بات کا اعلان ہیں کہ یہ سب چیزیں ایک سیاسی نظام کے تحت ایک ریاست ہی کے ذریعے بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔ فطری طور پر یہ ممکن ہی نہیں کہ سیاسی سماجی معاملات میں اس قدر احکامات دیئے گئے ہوں اور ریاست کے قیام کا حکم ہی نہ دیا گیا ہو۔ نہ تو اللّٰہ جلّ شانہُ سے ایسی بے معنی بات کی توقع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہِ وَآلہٖ وسلَّم سے کہ انہوں نے خدائی احکام کے بغیر ہی ایک ایسی ریاست کا وجود کھڑا کر دیا، جس کی طرز پر بعد میں آنے والے چاہیں تو ریاست قائم کر لیں چاہیں تو نہ کریں (جیسا کہ غامدی صاحب کا کہنا ہے)۔

ix۔(جواب پر جائیے) اگر یہ سب محض شرعی احکام دے کر اسلامی ریاست کے قیام کا براہ راست حکم نہ بھی دیا گیا ہوتا تو یہ بات واضح ہے کہ یہ سب کچھ ریاست کے تحت ہی ہو سکتا ہے اور اس ریاست کو اسلامی ریاست ہی کا نام دیا جائے گا۔جسے اسلامی شرعی اصطلاح میں خلافت بھی کہا جاتا ہے، لیکن یہ تمام احکامات دے کر ریاست کے قیام کے بھی واضح احکامات دیے گئے ہیں جو قرآن میں متعدد جگہ بکھرے پڑے ہیں۔ مثلاً محض ایک مثال:”یہ وہ لوگ ہیں اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو یہ نماز قائم کریں گے،نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔(الحج:41)

x۔(جواب پر جائیے) اگر ریاست کے قیام کا حکم نہ دیا گیا ہوتا تو پھر اسلام کے عالمگیر دین ہونے، آفاقی اور قیامت تک کے لئے ہونے کے کوئی معنی ہی نہ ہوتے۔

xi۔(جواب پر جائیے) ان تمام احکامات سے متعلق آیات کو اگر الگ الگ کر کے بھی دیکھیں تو ہر آیت ایک ایسی قوس کی مانند ہے جو خود کو ایک دائرے کا حصہ ثابت کرتی ہے اور ہر قوس خود بخود یہ تعین بھی کر دیتی ہے کہ جس دائرہ کا وہ حصہ ہے اس کا قطر اور محیط کیا ہے۔ عدل اور انتظام کے اس دائرے کا نام ہی ریاست و حکومت ہے ۔

xii۔(جواب پر جائیے) اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ فصل بوتا ہے، اسے کھاد ڈالتا ہے، پانی دیتا ہے، پھر جب فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے تو وہ اسے کاٹتا ہے، پھر اس میں سے خود بھی استعمال کرتا ہے اور بقیہ کو فروخت کر کے اس سے پیسے حاصل کرتا ہے اور اپنی دیگر ضروریات پوری کرتا ہے۔ کیا کوئی کم فہم سے کم فہم آدمی بھی یہ سب کچھ سُن کر یہ سوال اُٹھا سکتا ہے کہ ان سارے کاموں میں زمین کا تو ذکر ہی نہیں ہے۔

xiii۔(جواب پر جائیے) بلاشبہ مسلمان ایک قوم کا نام نہیں، کیونکہ موجودہ دور میں قوم کا لفظ جنگ عظیم دوم کے بعد کی سیاسی اصطلاح ہے۔ جب جغرافیے کی بنیاد پر قومی ریاست وجود میں آئی تو اس نے ہماری خلافت عثمانیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔

xiv۔(جواب پر جائیے) غامدی صاحب مسلمانوں کے لئے ”قومیت” کے لفظ کو تو بجا طور پر رد کرتے ہیں، لیکن حیرت ہے کہ غامدی صاحب ”قومیت” کے مقابلے میں ”اخوت” کی اصطلاح لاتے ہیں جو بلاشبہ ہے تو قرآنی اصطلاح، لیکن اسے ”قومیت” کے مقابلے میں لانے کی مجبوری اس وقت پیش آسکتی تھی جب اس سے زیادہ جامع اور ہمہ گیر اصطلاح ”اُمت ”کے نام سے قرآن و حدیث میں موجود نہ ہوتی۔

xv۔(جواب پر جائیے) لفظ ”اُمت”سے اجتناب کرنے کی کوئی اور وجہ اس کے سوا سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ لفظ مسلمانوں میں کسی طرح کی ایک سیاسی وحدت کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ کیا ”اُمت”کی جگہ ”اخوت” کا لفظ لانے کی مشقت اُٹھانے کی وجہ یہ ہے کہ ”اخوت ”کے بھائی چارے کو محض اُس ”بے ضرر” سے دائرے تک محدود رکھا جا سکتا ہے، جس پر سیکولر مغرب کو بھی کوئی اعتراض نہیں ؟ جبکہ ”اُمت”کے لفظ سے ایک ایسی ذمہ دار سیاسی وحدت کی عکاسی ہو سکتی ہے جسے جہاد و قتال کے حکم کا سامنا بھی کر نا پڑ سکتا ہے۔

xvi۔(جواب پر جائیے) غامدی صاحب اگر چہ اپنے مضمون کو اسلام کے صحیح فکر کا جوابی بیانیہ قرار دیتے ہیں، لیکن ان کی فکر کا کوئی ایک پہلو بھی سیکولر ازم کی مذمت نہیں کرتا۔ کیا کوئی فکر بیک وقت سیکولرازم اور اسلام کی ترجمان بھی ہو سکتی ہے؟

xvii۔(جواب پر جائیے) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ریاست کو اسلامی قرار دینے کے بعد غامدی صاحب کے نزدیک ”تفریق پیدا ہو جانے سے مسلمانوں میں فساد برپا ہو گیا ”تو یہ تفریق یا فساد ریاست کو اسلامی قرار دینے کے تصور نے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ اُنہی ”بے توفیق فقیہان حرم کی” کارستانی ہے جن کی فکر ہر دور میں تجدید کے نام پر دین کو دین سے بیگانگی کی راہ پر ڈالتی آ رہی ہے۔ یہی فکر ریاست و خلافت کے حوالے سے قرآن و حدیث میں کوئی حکم موجود نہ ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔ اِسی فکر نے اب تک مسلمانوں میں وہ تفریق پیدا کی ہے، جس کے نتیجے میں آج وہ فرقہ فرقہ ہو کر ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہیں۔

xviii۔(جواب پر جائیے) یہ جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں بلاشبہ یہ قابل مذمت ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ کوئی کچھ بھی کہے اور کچھ بھی کرے مگر اپنے قبیح سے قبیح اور گمراہ کن قول و فعل کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو اُسے محض اس لئے دائرہ اسلام سے خارج نہ سمجھا جائے، کیونکہ وہ اپنے اس موقف کے بارے میں قرآن و حدیث سے استدلال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ہی نہیں دیگر مذاہب میں بھی، بلکہ مذاہب ہی نہیں کسی عام سیاسی، سماجی حتیٰ کہ کاروباری تنظیم میں بھی اس کے کچھ ایسے لازمی قواعد ہوتے ہیں، جنہیں اپنا کر ایک شخص اس میں شامل ہوتا ہے اور کچھ اصولوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے نتیجے میں اسے اس تنظیم سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ خود کو اس تنظیم کا علانیہ رکن کہتا رہے۔ دین اسلام میں بھی کچھ ایسی حدود قیود ہیں، جنہیں توڑنے والا اس دین کا پیر وکار نہیں رہتا اگرچہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا رہے۔ کچھ شرائط کی بنیاد پر کسی دائرہ فکر کا پیروکار یا رکن بن جانا اور رکن نہ رہنا ایک اصولی، قانونی اور آئینی نوعیت کا مسئلہ ہے محض اُخروی جزاء و سزا کا نہیں۔ یہ دنیاوی معاملات میں حقوق و فرائض کا قانونی معاملہ پہلے ہے اور اُخروی بعد میں۔

xix۔(جواب پر جائیے) ”قراردادِ مقاصد” کے الفاظ پر غامدی صاحب کچھ اس طرح اعتراض فرما رہے ہیں جیسے ان کے نزدیک یہ الفاظ اِسی صورت میں قابل قبول ہو سکتے تھے اگر قرآن و حدیث میں موجود ہوتے۔ یہ عجیب مخمصہ ہے! جو الفاظ اپنے معروف معنی و مفہوم کے ساتھ قرآن و حدیث میں موجود ہیں غامدی صاحب کے نزدیک ان کا وہ مفہوم نہیں جو جمہور نے سمجھا ہے اور جو معنی و مفہوم جمہور کے نزدیک معروف ہیں غامدی صاحب کے مطابق اُنھیں مخصوص الفاظ کے ساتھ قرآن و حدیث میں موجود ہونا چاہئے تھا (کچھ اس قسم کے واضح الفا ظ جیسے ”اُٹھو غامدی !اسلامی ریاست قائم کرو”)۔

xx۔(جواب پر جائیے) ”قراردادِ مقاصد” اسلامی ریاست کے قیام کے لئے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ایسے سنگ میل ہر جدوجہد اور تحریک کے راستے میں آیا ہی کرتے ہیں۔(جیسے میگنا کارٹا وغیرہ)خاص طور پر اس وقت جب ریاست کے لئے آئین و قانون کی تشکیل کا مرحلہ درپیش ہو۔ ایسے میں خود کو سیکولر سمجھنے والے حکمران بھی آئین سازی کے معاملے میں اکثریت کے مذہب کی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا کے بڑے سے بڑے علانیہ سیکولر ملک میں بھی اکثریت کا مذہب اقلیتوں کے معاملات و معمولات پر غالب ہے۔ دنیا کے ہر ملک کا آئین دراصل قرارداد مقاصد ہی ہوتا ہے۔ میگنا کارٹا نے برطانیہ کے مستقبل کی ریاست کے مقاصد کا تعین کر دیا کہ اب بادشاہ کی مرضی ملک کا قانون نہیں ہو گی۔ لینن نے زار کے روس کو نئی قرارداد مقاصد کے تحت کمیونسٹ روس بنا دیا۔ ماؤزے تنگ نے چین کو ماؤ قرار داد مقاصد کے تحت ماؤ کا چین بنا دیا۔ جب بھی ایک پہچان کا حامل گروہ اپنے لئے ریاست کی تشکیل کے مرحلے پر پہنچے گا تو وہ اسے اپنی مذہبی تہذیبی اور ثقافتی بنیادوں پر ہی استوار کرے گا۔

میرا تبصرہ:

i۔(سوال پر جائیے) غامدی صاحب نے ”ریاست کا مذہب” کے عام فہم مطلب پر تو کوئی کلام کیا نہیں۔ وہ تو اس کے آئینی و قانونی مطلب اور اطلاق پر بحث فرما رہے ہیں۔ اگر موجودہ دور کی کسی قومی ریاست کے آئين میں یہ بات لکھ دی جائے کہ ریاست کا مذہب فلاں ہے تو اس پر نقظۂ اعتراض بلند کر رہے ہیں کہ اس طرح کی ریاستوں میں اکثریت ہونے کے باوجود ایسا کرنا تحکم اور استبداد ہی ہو گا۔ رہی خدائی، فاتحین اور بادشاہوں کی ریاستیں، تو ان سے کوئی استدلال موجودہ بحث میں اس لیے روا نہیں کہ پاکستان مسلمانوں نے فتح کیا ہے اور نہ ہی یہاں بادشاہت قائم ہے اور نہ ہی اللہ تعالی نے اسے "claim” کر لیا ہے، بلکہ صاف اور کھلے ادعا سے ہم سب جمہوری ریاست ہی کے علمبردار ہیں۔ محترم مسرور صاحب سے گزارش ہے کہ "ریاست اور حکومت” کے زیر عنوان غامدی صاحب کے توضیحی مضمون پر ضرور ایک نظر ڈال لیجیے۔

ii۔(سوال پر جائیے) غامدی صاحب نے پہلے اور بعد کی کوئی تفریق نہیں کی۔ مگر جو بات انہوں نے کی ہے وہ شائید اس تفریق کی محتاج بھی نہیں۔ ان کے نزدیک یہ اس عدل و انصاف کے اصول کا تقاضا ہے جسے ہر معاملے میں، اور اپنے دشمنوں کے معاملے میں بھی، ہر وقت بروئے کار لانے کا اللہ نے ہمیں مکلف ٹھہرایا ہے، چاہے اس کی زد ہمارے اپنوں پر ہی کیوں نہ پڑے۔ ذرا غور سے دیکھیے تو یہ روش اسی روایت کی عکاس ہے جسے ابو بکر و عمر نے حلف اٹھاتے ساتھ باور کرایا تھا کہ جو کمزور ہے ان کے نزدیک طاقتور ہے۔ ریاست کے ساتھ مذہب کا تعلق جوڑتے ہی چونکہ اقلیتوں کے معاملے میں عدل و انصاف کی اعلی اقدار کی پامالی آپ سے آپ ہو گئی ہے اس لیے انہوں نے اسے موضوع بنا لیا ہے۔ کیا ہر عدل پسند انسان کا یہی رویہ نہیں ہونا چاہیے؟ یا پھر طاقت یا اکثریت کے زور پر جو فیصلہ بھی کیا جائے اسے عدل کا نام دے دیا جائے!

iii۔(سوال پر جائیے) سورۂ توبہ کے جس مقام کا حوالہ محترم مسرور صاحب نے دیا ہے، غامدی صاحب کے نزدیک وہ رسول ﷺ کے اتمام حجت کے نتیجے میں کافر کہلانے والے یہود و نصاریٰ کے بارے میں تھا۔ انہیں "صاغرون” اس پاداش میں بنایا گیا تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسولﷺ، جو ان کے درمیان موجود تھے، کا انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ "صاغرون” کا لفظ اس دور کی اقلیتوں کے لیے غیر فعال ہو چکا ہے۔ مزید برآں، یہ بھی واضح ہے کہ جس انداز سے یہ ریاست وجود پذیر ہوئی ہے، یعنی نہ تو مسلمانوں نے اسے فتح کیا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کا بادشاہ ہونے کا دعوٰی کیا ہے، پس نتیجتاً نہ تو وہ ذمی ہیں اور نہ ہی معاہد، بلکہ بالکل ہماری طرح وہ بھی اس سرزمین کے قدیم رہائشی ہیں۔ چونکہ فقہ کا یہ اصول ہے کہ معاملات کی نوعیت بدل جانے سے حکم بھی بدل جاتا ہے، اس لیے ریاست کی نوعیت میں اس جوہری تبدیلی کے بعد "ذمی” اور "جزیہ” وغیرہ کی اصطلاحات غیر متعلق ہو گئی ہیں۔ محترم مسرور صاحب اگر "صاغرون” کی اس تشریح کو موضوع بحث بنانا چاہیں تو ضرور بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ اگر اس تشریح کو صحیح مان لیا جاتا ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن و سنت کو آج کل کی اقلیتوں کو برابر کے شہری گرداننے میں کوئی تامل نہیں۔

iv۔(سوال پر جائیے)محترم مسرور صاحب نے غامدی صاحب کا مؤقف نقل کرتے ہوئے غالباً کچھ نا دانستہ ردّ و بدل کر دیا ہے جس سے مفہوم میں فرق پڑ گیا ہے۔ انہوں نے غامدی صاحب کے مؤقف کے لیے یہ الفاظ” لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ بھی کوئی گناہ کی بات نہیں” جو عرض کیے ہیں یہ درست نہیں۔ "اگر ایسا نہ کیا جائے” کی بجائے غامدی صاحب کے الفاظ یہ ہیں "لیکن اِس خیال کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ یہ اسلامی شریعت کا کوئی حکم ہے جس کی خلاف ورزی سے مسلمان گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں”۔ یہی سہو ان سے اگلی عبارت میں بھی ہوا ہے جہاں ان کے الفاظ یہ ہیں ”اسلامی ریاست کا قیام اسلامی شریعت کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے، جس کی خلاف ورزی سے مسلمان گناہ کے مرتکب ہو رہے ہوں” ، حالانکہ غامدی صاحب واضح الفاظ میں "اِس معاملے میں سرے سے کوئی حکم قرآن و حدیث میں موجود ہی نہیں ہے” یہ فرما رہے ہیں کہ یہ سرے سے کوئی حکم ہی نہیں۔ اس وضاحت کے بعد ظاہر ہے یہ اعتراض وارد ہی نہیں ہوتا کہ ” گویا اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو کچھ ایسے احکامات بھی دے رکھے ہیں، جس کی خلاف ورزی کی بھی اجازت ہے اور اس پر کوئی گناہ بھی نہیں "۔

v۔(سوال پر جائیے) اس نکتے میں تین باتوں کو آپس میں گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ میں انہیں علیحدہ کر کے بیان کرتا ہوں۔ پہلی: قرآن و سنت ریاست چلانے کے ایک نہیں درجنوں احکامات مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو دیتے ہیں۔ یہ کس نے کہا ہے کہ یہ صرف تلاوت کے لیے ہیں؟ اگر صاحب مضمون کا اشارہ غامدی صاحب کی طرف ہے تو بصد احترام مجھے اس اعتراض پر حیرت ہے۔ غامدی صاحب نے تو ایسے تمام احکامات کی ایک فہرست بھی اپنے ابتدائی مضمون میں ہی دے دی تھی جن کا مکلف مسلمان حکمرانوں کو بنایا گیا ہے۔ نہ جانے مسرور صاحب نے وہ مضمون پورا پڑھا بھی تھا کہ نہیں۔ کیونکہ اگر پڑھا ہو تو یہ اعتراض تو مکمل طور پر نا قابل فہم ہے۔ دوسری: سلطنت عباسیہ اور امویہ کے قیام کو غامدی صاحب نے بنائے استدلال نہیں بنایا بلکہ اپنے استدلال کو واضح کرنے کے لیے اسے ایک نتیجے کی حیثیت سے دکھایا ہے۔ ان کے استدلال کی بنیاد تو یہ ہے کہ قرآن و سنت میں مبینہ "خلافت” اور اس کے عالمگیر قیام کے بارے میں سرے سے کوئی احکام ہی نہیں۔ رہے خلفائے راشدینؓ، تو اس میں کیا شک ہے کہ تمام مسلم حکمرانوں کے لیے ان مقدس ہستیوں سے بہتر نمونہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ غامدی صاحب نے کب بعد کے سلاطین کو ان پر فوقیت دی ہے؟ تیسری: یہ دراصل وہ بات ہے جس کی تنفیس نے اس پورے نکتے کو خلط مبحث میں مبتلا کر دیا ہے۔ جناب مسرور صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ قرآن میں خلافت قائم کرنے کے احکامات موجود ہیں اور اسی لیے رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین ؓنے اسے قائم بھی کیا۔ تو کیا وجہ ہے کہ ان کی یہ جدو جہد جو انہوں نے ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کی، ہم اس کی پیروی نہ کریں؟ اس پر عرض ہے کہ خلافت قائم کرنے کا کوئی حکم اللہ تعالی نے نہ قرآن میں دیا اور نہ ہی رسﷺول کی زبان مبارک سے بیان فرمایا۔ ہر جگہ اللہ نے یہی فرمایا کہ "اگر” انہیں اقتدار مل گیا تو وہ یہ اور یہ کريں گے۔ یہ بحث چونکہ اگلے نکتے میں مرکزیت رکھتی ہے اس لیے باقی بات وہاں آتی ہے۔

vi۔(سوال پر جائیے) بصد احترام۔۔۔۔جی نہیں! یہ دو نہیں صرف ایک سوال کو جنم دیتا ہے۔ اور وہ یہ کہ کیا ریاست و خلافت کے قیام کے لیے کوئی حکم قرآن و سنت میں موجود ہے کہ نہیں۔ اس سے زیادہ اور اس کے علاوہ کسی بحث کا نہ مسلمانوں سے مطالبہ صحیح ہے اور نہ ہی مسئلہ کے حل میں کوئی مدد مل سکتی ہے۔ ہمیں اللہ تعالی نے "ردّو الی اللہ والرّسول” کی ہدایت کی ہے اور ہمیں اسی کا پابند رہنا چاہیے۔ یہ جستجو کہ ہمارے اسلاف میں سے کس نے کوئی حکم کیسا اور کیوں سمجھا تھا، اس مقدمے کے ثبوت میں ہمیں اس کی کوئی حاجت نہیں۔ تو جہاں تک قرآن و سنت کا تعلق ہے غامدی صاحب یہ دعوٰی کر چکے ہیں کہ ان ماخذوں میں کوئی حکم ایسا نہیں جو مسلمانوں کو مبینہ خلافت کے قیام کی جدو جہد کرنے کا کہتا ہو۔ اس دعوے کے رد کے لیے میں نے ایک دوسرے مضمون کے اختتامیے میں مطالبے کو بالکل معین کر دیا ہے۔ وہ مطالبہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، بس یہی قرآن و سنت کا میدان ہے جس میں اس مقدمے نے ثابت یا مسترد ہونا ہے۔ اس میں کچھ دیر قیام کرنے کا حوصلہ ہمیں پیدا کرنا ہی ہو گا!

vii۔(سوال پر جائیے) یہاں بھی غالباً محترم مسرور صاحب نے غامدی صاحب کے مؤقف میں ردّ و بدل کر دیا ہے۔ غامدی صاحب نے خروج کے ممنوع ہونے کے لیے "نظم اجتماعی” اور "خلافت” میں کوئی تفریق نہیں کی۔ مسلمانوں کا نظم اجتماعی کسی بھی طریقے سے قائم ہو جائے اور خود کو مستحکم (consolidate) کر لے، خواہ مروجہ فکر کی مزعومہ خلافت ہی کی طرز پر، اس سے بغاوت بد ترین جرم ہی ہو گا۔ ہاں مگر کچھ استثنائی (exceptional) صورتیں ہیں جن سے ہمارے فقہا اور غامدی صاحب بھی متفق ہیں جن میں خروج جائز ہو جائے گا، تاہم وہ یہاں موضوع بحث نہیں۔ اور رہی یہ بات کہ یہ آفاقی دین اپنے نظام کے متعلق کوئی ایسا تصور پیش کیوں نہیں کرتا جسے اپنانے اور قائم رکھنے کا مطالبہ کیا جائے، تو بصد احترام یہ ایسا تصور بالکل دیتا ہے۔ اور وہ ہے "امرھم شوری بینھم”، یعنی ان کا نظام ان کے مشورے پر مبنی ہوتا ہے، اسی سے بنتا ہے اور اسی سے چلتا ہے۔ ذرا تدبر کی نگاہ سے دیکھیں تو اللہ نے یہ اصول، جو بالکل علم و عقل پر مبنی ہے، ہمیں اس دور میں دے دیا تھا جب عالم واقعہ میں تو کیا اذہان میں ابھی اس کی کسک بھی پیدا نہ ہوئی تھی۔ اب تو دنیا بھی ٹھوکریں کھاتے کھاتے وہیں پہنچ گئی ہے جہاں اللہ اس وقت ایمان کے تتبع سے پہنچانا چاہتے تھے۔ مگر چونکہ اب مغرب اس کا علمبردار بن کر کھڑا ہو گیا ہے تو ہم نے اس کو تسلیم ہی کرنے سے انکار کر دیا ہے، درآنحالیکہ ہم تو اس کے پہلے دعوے دار تھے۔ بہر حال یہ نظم اجتماعی بنانے اور چلانے کا واحد طریقہ ہے جو ہمارے آفاقی دین نے ہمیں دیا ہے۔

viii۔(سوال پر جائیے) یہ تمام معاشرتی، سیاسی اور قانونی احکامات اس وقت دیے گئے جب مدینہ کی ریاست میں اللہ نے اقتدار رسول اللہ ﷺ کو سونپ دیا۔ اقتدار اللہ نے سونپا، اس کو حاصل کرنے کے لیے نہ کوئی حکم دیا اور نہ ہی جدو جہد کا کہا۔ اصل میں یہی وہ مغالطہ ہے جو جناب مسرور صاحب، اور انہی کی طرح کے اور مخلص علما و مصلحین کو لگا ہوا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار حاصل کرنے کا رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا تھا، جبکہ واقعہ یہ ہے کہ قرآن "إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ"سے کہانی کا آغاز کرتا ہے۔ یعنی قرآن تو بس یہ کہتا ہے کہ کسی خطۂ زمین میں "اگر”، "اگر”، "اگر” اقتدار مسلمانوں کو حاصل ہو جائے تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے انہیں اس صورت میں ان تمام شعبہ ہائے زندگی میں ہدایات چاہئیں ہوں گی جو اللہ نے قرآن میں دے دی ہیں۔ ان ہدایات سے یہ اخذ کرنا کہ اب حکومت حاصل کرنا بھی ہماری ذمہ داری میں دے دیا گیا ہے، یہ وہ مغالطہ ہے جو اس دور کے بڑے جلیل القدر اہل علم جیسے مودودی صاحب، اسرار احمد صاحب وغیرہ کو لگا ہے۔ اور پھر اسی کو ہمارے روایتی علما نے بھی بہت حد تک قبول کر لیا ہے۔ تاہم، قرآن و حدیث اس بارے بالکل واضح ہیں کہ ایسا کوئی حکم ان میں موجود نہیں۔ اگر یہ بات محترم مسرور صاحب کو بے معنی لگتی ہے تو انہیں روز محشر اللہ تعالی سے یہ استغاثہ ضرور کرنا چاہیے کہ اقتدار ملنے کے بعد کے اتنے احکامات۔۔۔ اور اقتدار حاصل کرنے کا ایک بھی نہیں؟

ix۔(سوال پر جائیے) یہاں بھی دو دعوے ہیں۔ پہلا، کہ اگر اسلامی ریاست کے قیام کا نہ بھی کہا گیا ہوتا تو بھی اتنے ریاستی احکامات سے خود یہ بات واضح ہے کہ ریاست تو قائم کرنی ہی ہے۔ اور دوم، کہ یہ حکم تو بالصراحت بھی موجود ہے جیسے کہ سورہ حج آیت 41 میں۔ دوسرے کو پہلے لے لیتے ہیں کہ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ محترم مسرور صاحب سے سوال ہے کہ کیا اس آیت کو آپ نے پڑھا ہے؟ اس میں یہ الفاظ کہ "اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں” تو آپ نے بھی نقل کیے ہیں۔ تو براہ مہربانی میری اور قارئین کی تعلیم کو یہ بتا دیں کہ یہ اقتدار حاصل کرنے کا حکم کیسے ہو گیا؟ اب آئیے پہلے کی طرف۔ تو بصد احترام یہ دعوٰی بھی علم و عقل کی بنیاد پر پورا نہیں اترتا۔ شریعت کے تمام احکامات کے لیے استطاعت لازم ہے۔ محولہ بالا تمام احکامات و قوانین نافذ کرنے کے لیے استطاعت۔۔۔ اقتدار ہے۔ اس سے تو کوئی اختلاف نہیں کیا جا سکتا نا! تو کیا اس استطاعت کو حاصل کرنا بھی لازم ہے؟ اگر ہے تو پھر زکوٰۃ دینے کے لیے حج کرنے کے لیے روزہ رکھنے کے لیے وغیرھم، استطاعت حاصل کرنا کیوں لازم نہیں؟

x۔(سوال پر جائیے) بصد احترام، اس دعوے پر اس سے زیادہ کسی کلام کی میں ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ "Your words, not ours!

xi۔(سوال پر جائیے) یہ ایک حسین تعبیر ہے جو صاحب مضمون نے اختیار کی ہے، مگر اس سے غامدی صاحب کے مؤقف کی تردید و تصویب ممکن نہیں۔ کیونکہ زیرِ بحث مسئلہ یہ نہیں کہ یہ احکامات ایک مکمل ریاست و حکومت کی تصویر بتاتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان احکامات کا اطلاق حکومت ملنے کے نتیجے میں لازم ہے یا حکومت حاصل کرنا بھی لازم ہو گیا ہے۔

xii۔(سوال پر جائیے) اسی مثال کو اگر صاحبِ مضمون مطابقِ موقع کر دیتے تو مسئلے کی تفہیم میں آسانی ہو جاتی۔ چلیں یہ کام میں کر دیتا ہوں۔ مثال یوں ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے یہ کہے کہ فصل بو، اسے کھاد ڈالو، پانی دو، پھر جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو اسے کاٹو، پھر اس میں سے خود بھی استعمال کرو اور بقیہ کو فروخت کر کے اس سے پیسے حاصل کرو اور اپنی دیگر ضروریات پوری کرو۔۔۔۔اور اس سب کے آغاز میں حکم دینے والا شخص یہ بھی کہہ دے کہ "اگر تمہارے پاس کاشت کے قابل زمین ہو ” ،تو قارئین سے سوال ہے کہ بتائیے اب زمین حاصل کرنا یا کاشتکاری کرنا فرض ہو گیا کہ نہیں؟

xiii۔(سوال پر جائیے) قوم کا لفظ علمِ سیاست و معاشرت کا ایک قدیم لفظ ہے اور قرآن میں بھی بکثرت استعمال ہوا ہے۔ غامدی صاحب فقط اتنا کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے لازم نہیں کہ مذہب کو ہی قومیت کی بنیاد بنائیں۔ بلکہ جس طرح زبان، نسل، جغرافیہ وغیرہ قومیت کے عوامل ہیں، مذہب بھی بس ایک عامل ہے۔ یہ نکتہ غامدی صاحب نے اس لیے موضوع بحث بنایا ہے کہ آج کل کے دور میں اٹھنے والی بہت سی تحریکیں یہ کہہ کر مسلمانوں کے دوسرے عوامل کے تحت قوموں اور ریاستوں میں تقسیم ہونے کو خلافِ شریعت کہہ رہی ہیں کہ اسلام میں قومیت کی بنیاد فقط مذہب ہی بن سکتا ہے۔ چنانچہ اس کی توضیح ضروری تھی کہ ایسا قطعاً نہیں۔

xiv۔(سوال پر جائیے) اخوت کے لفظ کو قومیت کے مقابلے میں غامدی صاحب اسی لیے لائے ہیں جو اوپر کے نکتے میں بیان ہوا۔ یعنی مسلمان چاہے علیحدہ ریاستوں اور قوموں میں بٹے ہوں، قرآن و حدیث کے مطالبات پورے کرنے میں کوئی رکاوٹ اس سے پیدا نہیں ہوتی۔ وہ اس حال میں بھی ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور "توادھم و تراحمھم” کے تمام مقصود حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم، غامدی صاحب کو امت کے لفظ کے استعمال سے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ بھی مسلمانوں کی ایک دوسرے زاویے سے شناخت کے لیے بالکل بر حق اور مناسب تعبیر ہے۔

xv۔(سوال پر جائیے) بصد احترام سوال ہے کہ کیا "امت” کا لفظ "سیاسی "وحدت کو ظاہر کرتا ہے؟ جواب ہے جی نہیں! یہ کوئی ضروری نہیں۔۔۔۔اور منع بھی نہیں۔ یہ اسی طرح کا دعوٰی ہے کہ کوئی یہ کہے کہ "امت” کا لفظ "ایک نسل” کو ظاہر کرتا ہے۔ تو اس کے جواب میں بھی یہی کہا جائے گا کہ کر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ امت کا لفظ لوگوں کے درمیان کسی مشترکہ خصوصیت کی بنیاد پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور اکثر و بیشتر صرف دینی وحدت ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے۔” وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً "میں کیا یہ سیاسی وحدت کے لیے استعمال ہوا ہے؟ قرآن اس طرح کے استعمالات سے بھرا پڑا ہے۔ اس لیے یہ دعوٰی کہ غامدی صاحب اس لفظ کو اس لیے نہیں لائے کہ اس سے سیاسی وحدت مراد ہوتی ہے، درست نہیں۔ انہوں نے "اخوت” کا لفظ اوپر بیان کی گئی وجہ سے استعمال کیا ہے۔ رہی بات جہاد و قتال سے فرار کی، تو غامدی صاحب اسے اپنے پہلے ہی مقالے میں ظلم و عدوان کے استیصال کے لیے لازم بیان کر چکے ہیں۔

xvi۔(سوال پر جائیے) محترم مسرور صاحب سے مؤدبانہ سوال ہے کہ غامدی صاحب نے اپنے پہلے ہی مقالے کے نکتہ نمبر 9 میں حکمرانوں پر اجتماعی دینی ذمہ داریوں کی ایک پوری فہرست دے دی ہے۔ آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ سیکولرازم سے کیونکر مماثل ہے؟

xvii۔(سوال پر جائیے) محترم صاحبِ مضمون نے پھر یہاں غامدی صاحب کے مؤقف کو بدل دیا ہے۔ ”تفریق پیدا ہو جانے سے مسلمانوں میں فساد برپا ہو گیا ” کی بجائے غامدی صاحب کے الفاظ ہیں "مستقل تفرقے کی بنیاد رکھ دی”۔ بنیاد رکھنے سے فساد برپا ہو سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ ہو بھی گیا ہو۔ میرا خیال ہے ہم سب اس فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم دوسری بات جو مسرور صاحب نے فرمائی ہے وہ بڑی دلچسپ ہے۔ ان کے مطابق یہ جو فساد آج کل برپا ہے، یہ غامدی صاحب اور اسی طرح کے "جدیدیت پسند بے توفیق فقیہان حرم” کی کارستانی ہے۔ یعنی تحریک طالبان، جماعۃ الاحرار، لشکر جھنگوی، داعش، بوکو حرام، القاعدہ وغیرہ کسی جدیدیت پسند دانشور کی تعلیمات سے پھوٹیں، یہ میرے اور میرے قارئین کے لیے ضرور ایک دلچسپ خبر ہے۔ مگر میرے خیال سے اس پر اتنا کہنا کافی ہو گا کہ یہ خیال درست نہیں۔

xviii۔(سوال پر جائیے) محترم مسرور صاحب کا یہ استدلال بہت معقول ہے، بلکہ اس موضوع پر میری نظر سے گزرنے والا پہلا علمی و عقلی استدلال ہے۔ "تکفیر” امت مسلمہ کا ایک بہت تشویشناک مسئلہ ہے اور اس پر کتابوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ اس لیے پہلے تو میں اپنا یہ نقطہ نظر واضح کرتا چلوں کہ اس موضوع کو مرکز پارہ بنا کر علما کو تفصیل سے اس کے دلائل دینے چاہئیں تا کہ اس کی تہ تک پہنچا جا سکے۔ بہر حال، مسرور صاحب کی دلیل بالکل صحیح ہے۔ مگر آئیے اسے تحلیل کر کے دیکھتے ہیں کہ کاروباری، سیاسی یا سماجی تنظیمیں اور اداروں میں ادخال و اخراج کے اختیارات کسے اور کیوں حاصل ہوتے ہیں۔ ہر تنظیم یا ادارہ کسی بانی کے بنانے سے بنتا ہے۔ جب وہ بن جاتا ہے تو پھر یہی بانی یہ طے کرتا ہے کہ اس میں ادخال اور اخراج کا اختیار کس کے پاس ہو گا۔ کبھی وہ اسے اپنے پاس ہی رکھتا ہے۔ کبھی کسی دوسرے شخص یا کمیٹی وغیرہ کو تفویض کر دیتا ہے، اور ساتھ ہی یا تو اس اختیار سے سبکدوش ہو جاتا ہے، یا اس کا کچھ حصہ اپنے پاس بھی باقی رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ طے ہے کہ یہ اختیارات آپ سے آپ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوتے بلکہ دینے سے ہی ملتے ہیں۔ علی ھذا القیاس، غامدی صاحب کا یہی تو کہنا ہے کہ اسلام کے بانی اللہ تعالی خود ہیں۔ اس میں داخلے اور خروج (Entry & Exit) کا اختیار تو انہوں نے خود سب لوگوں میں بانٹ دیا ہے (فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ)، یعنی ہر شخص اپنے بارے میں یہ فیصلہ کر سکتا ہے۔ مگر ادخال اور اخراج (Admission & Expulsion)، یعنی کسی دوسرے کو اسلام میں داخل یا خارج کرنا، کا اختیار کسی کو تفویض نہیں کیا، بلکہ اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ چنانچہ مسرور صاحب کی دلیل کے مطابق بھی غامدی صاحب کا مؤقف صائب ہی لگتا ہے۔ تاہم، اب بحث کا میدان یہ ہونا چاہیے کہ یہ اختیار اللہ نے کس آیت کے تحت کس کو تفویض کیا ہے۔

xix۔(سوال پر جائیے) "قرارداد مقاصد” پر جو اعتراضات غامدی صاحب نے کیے ہیں وہ قرآن کے الفاظ (letter) سے نہیں بلکہ اس کی روح اور معنی (spirit) سے باہم متناقض ہونے کے باعث ہیں۔ اور یہ تناقض بڑے سادہ اصول، یعنی عدل، کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہے۔ محترم مسرور صاحب نے جو اعتراضات جمہور کے مفاہیم کے حوالے سے اٹھائے ہیں، میری ان سے التماس ہے کہ قرارداد مقاصد کے حوالے سے انہیں ضبط تحریر میں لے آئیں تا کہ مسئلہ واضح اور بیّن ہو جائے اور ان کے جواب میں آسانی ہو۔

xx۔(سوال پر جائیے) غامدی صاحب کو قرارداد مقاصد کی طرز کے کسی دستاویز پر کوئی اصولی اعتراض نہیں۔ انہوں نے تو بس ایسی دستاویزات کی علمی و عقلی و اخلاقی حدود و قیود واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی انہیں اس میں کوئی اعتراض نہیں کہ ایسی دستاویزات میں مل کر بہت سے فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کر لیے جائیں۔ مگر کچھ فیصلے ایسے ہیں جن کا اختیار اخلاقی اعتبار سے اکثریت کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ جیسے مثال کے طور پر کسی کے ذاتی یا مذہبی معاملات میں مداخلت کرنا، یا کسی کی حق تلفی کرنا وغیرہ ۔ چنانچہ، غامدی صاحب نے فقط موجودہ قومی ریاستوں کے "مذہب” سے تعلق کو اسی بنیاد پر ایک زاویے سے غیر منصفانہ اور ایک زاویے سے غیر ضروری قرار دیا ہے۔ پہلے غیر منصفانہ کو لیتے ہیں۔ قرارداد مقاصد میں ایک مذہب کے ماننے والوں نے باقی سب مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی تصورات کا پابند بنا دیا ہے، درآنحالیکہ وہ ان کے محکوم نہیں بلکہ برابر کے حقوق رکھتے تھے۔ یہ کام جس طرح طاقت کی بنیاد پر کرنا خلافِ عدل ہے اسی طرح اکثریت کی بنیاد پر کرنا بھی خلافِ عدل ہے۔ یعنی ہم مسلمان یہ تو بالکل کر سکتے تھے کہ کسی قرارداد کے ذریعے اپنے مذہبی تصورات کے تحت مسلمانوں پر کوئی چیز لاگو کر دیتے، مگر یہ نہیں کر سکتے تھے کہ دوسرے مذاہب والوں کو بھی اس کا پابند کر دیں۔ ہاں اگر کوئی بات کسی مشترک اساس، جیسے علم و عقل، کی بنیاد پر ان پر بھی لاگو کر دی جائے تو اکثریت اس معاملے میں فیصلہ کن ہو جائے گی۔ مگر جب وہ ہمارے مذہب کو مانتے ہی نہیں، تو ان پر اس کے اطلاق کو تحکم اور استبداد کے سوا کیا کہا جائے۔ اسی طرح ریاست کو اسلامی کہہ کر بھی ہم نے ان کے حقوق پامال کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بھی غیر مسلم ممبر نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا تھا۔ الغرض، ریاست کو کوئی یکطرفہ تشخص دینا اور اقلیتوں کو کسی دوسرے مذہب کے تصورات کا پابند کرنا موجودہ قومی ریاستوں میں غیر منصفانہ ہے، خواہ اس کے پیچھے کتنی ہی بڑی اکثریت کیوں نہ ہو۔ اب غیر ضروری کو لیتے ہیں۔ ریاست کو کسی مذہب سے منسلک کرنا یا ہمیشہ کے لیے قرآن و سنت کا پابند کرنے کا عزم و اظہار کسی دستاویز کے ذریعے کرنا ایک غیر ضروری فعل ہے۔ اس لیے کہ اول تو موجودہ ریاستوں کی نوعیت مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کوئی حکم قرآن و سنت میں موجود نہیں۔ اور دوم اس لیے کہ جتنے اسلامی قوانین مسلمان اس میں بنانا چاہیں گے اس طرح کی دستاویز کے بغیر بھی بنا لیں گے۔ اس میں کوئی شے ان کے پیروں کی بیڑی نہیں بنے گی۔ تاہم، علامتی حیثیت کی خاطر ایسا کر لیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔

اختتامیہ: محترم مسرور اعظم صاحب سے التماس ہے کہ اگر کہیں کوئی لب و لہجہ ادب کے منافی ہو تو اسے نادانستہ سمجھیں اور اس پر میری معذرت قبول فرمائیں۔ مگر جو جوابات معقول لگیں ان کو تسلیم کریں اور جو غلط پائیں اس پر ضرور مطلع فرمائیں۔

Advertisements

3 Comments Add yours

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s