تجزیہ "خلافت: ایک قطعی فرض الٰہی، منجانب عمر علی صاحب (حزب التحریر)”

(غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کی تردید میں حزب التحریر پاکستان کے بیان کردہ اعتراضات کے جوابات)

جناب عمر علی صاحب اگرچہ کوئی معروف ہستی تو نہیں، لیکن چونکہ یہ مضمون انہوں نے حزب التحریر پاکستان کی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے اس لیے اسے حزب التحریر کے نقطۂ نظر کی حیثیت سے میں نے یہاں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حزب، جیسا کہ قارئین جانتے ہی ہوں گے، "عالمگیر خلافت” کی علم بردار عالمی تحریک ہے۔ "خلافت” ان کا ماوٰی و ملجا ہے اور وہ اس کے قیام کے لیے پورے خلوص و جانفشانی سے بالفعل بر سر پیکار ہیں۔ اس لیے ان کا نقطۂ نظر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حزب التحریر – عمر علی (خلافت: ایک قطعی فرض الٰہی، 29 مارچ 2015):

i۔ امام الجزيری، جو کہ چودھویں صدی ہجری کے معروف عالم ہیں اور ان کی رائے تقابلی فقہ میں مستند مانی جاتی ہے، نے نقل کیا ہے کہ چاروں امام (ابو حنیفہ، مالک، شافعي، احمد،رحمۃ اللہ عليھم) امامت (خلافت) کو ایک فرض سمجھتے تھے اور اس بات پر بھی متفق تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں کہ ایک وقت میں ان کے دو امام (خلیفہ) ہوں، خواہ متفقہ یا متفرقہ طور پر”۔ پھر غزالی، آمدی ، قرطبی، ابن تیمیہ اور حصکفي کے بقول خلافت صرف ایک فرض نہیں بلکہ اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ یہ اسلام کا ستون ہے جسے چھوڑا نہیں جا سکتا کیونکہ اس کے بغیر اسلام جامع اور مکمل طور پر نافذ ہی نہیں ہو سکتا۔ لیکن کچھ "جدیدیت”اور "اصلاح”پسند اس نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہیں اور ڈاکٹر غامدی اسی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے کہنے کے مطابق ایک ہزار سال کا علم و فضل اس موضوع (اور اس کے ساتھ دیگر کئی موضوعات) کو صحیح نہیں سمجھ سکا اور اب وہ لوگ ہی قرآن اور سنت کی صحیح تعبیر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ii۔ کوئی بھی اصطلاح تین قسم کے معنوں میں سے ایک کی حامل ہو سکتی ہے: لغوی، اصطلاحی یا شرعی۔ شاید غامدی صاحب کا "دينی اصطلاح” کہنے کا مطلب تیسری قسم کے معنی سے ہے۔ شرعی معنی صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالٰی اور رسول اللہﷺ کی جانب سے ہوتے ہیں کیونکہ یہ معنی شریعت بتاتی ہے جس کی بنیاد وحی ہے۔ غامدی صاحب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ قرآن اور سنت میں لفظ خلافہ کو لغوی معنی یعنی "جاں نشین” کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ در حقیقت یہ لفظ کئی احادیث میں محض "جاں نشینی ” کے معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک مخصوص معنی میں استعمال ہوا ہے جو کہ ایک خاص قسم کی جاں نشینی ہے جس سے عرب کے لوگ اسلام سے قبل آشنا نہ تھے۔ مثال کے طور پر اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ خصوصاً ان لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو مسلمانوں پر حکمرانی میں خلفاء کی حیثیت سے ان کے جاں نشین ہوں گے۔ یہاں پر کسی عام جاں نشینی کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ ان جاں نشینوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ایک خاص طریقے یعنی بیعت کے ذریعے حکمران بنیں گے اور جو ایک خاص طریقے سے حکمرانی کریں گے یعنی اسلام کے مکمل اور جامع نفاذ کے ذریعے۔

iii۔ اگر رسول اللہ ﷺ کو محض حکمرانوں کے متعلق ہی بات کرنا ہوتی تو وہ لفظ "حکام” ، جس کا واحد حاکم ہے، استعمال کرتے جو کہ عربی زبان میں حکمرانوں کے لئے سیدھا سادہ لفظ ہے۔

iv۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر حکمرانی کے حوالے سے آنے والے ادوار کے ذکر میں خاص لفظ "خلافہ” استعمال کیا جیسے کہ اس حدیث میں۔ یہاں پر یہ بات غور طلب ہے کہ تمام ادوار حکمرانی ہی کے ادوار ہیں چاہے وہ کسی ایک قسم کے ہوں یا دوسری قسم کے لیکن ان میں کچھ ادوار کو خصوصاً خلافہ کہا گیا۔ لہٰذ ا خلافہ محض کسی بھی قسم کی حکمرانی کی وضاحت کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کے ایک اپنے مخصوص نظام حکمرانی کی وضاحت کرتا ہے اور یہی وہ واحد طرز حکمرانی ہے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صرف اس طرز حکمرانی کا بیان کیا۔ لہٰذا لفظ "خلافہ” اسلامی طرز حکمرانی کو بیان کرتا ہے جس کو یہ معنی شارع نے خود دیا ہے نا کہ کسی عالم یا فقيہ نے، تاہم یہ ایک شرعی یا اسلامی اصطلاح ہے۔

v۔ اگر پھر بھی غامدی صاحب کی دلائل کو قبول کر لیا جائے کہ خلافہ محض مسلمانوں کی ایجاد کردہ ایک "پوليٹيکل سائنس اور سوشيالوجی کی اصطلاح ہے جیسے فقہ، کلام اور حدیث”، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس اصطلاح کو اسلامی حکومت کے لئے کیوں نہیں قبول اور استعمال کر ليتے بالکل ویسے ہی جیسے آپ نے فقہ یا حدیث کی اصطلاح کو قبول بھی کیا اور اسے استعمال بھی کرتے ہیں؟ اس خلافہ کی اصطلاح کے لئے ایک دوسرا طرز عمل کیوں اختیار کیا جائے؟ اور اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ اس اصطلاح کو غیر دینی ثابت کیا جائے؟

vi۔ جہاں تک اس شرعی حکم کی بات ہے کہ صرف ایک ہی خلیفہ ہو سکتا ہے تو اس حوالے سے احادیث بالکل واضح ہیں۔ جیسے یہ اور یہ۔ غامدی صاحب ان احادیث کی یہ تشریح کرتے ہیں کہ اتفاق یا وحدت برقرار رکھنے کا یہ حکم کسی ایک مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق ہے یعنی کہ مسلمانوں کی ایک سے زیادہ ریاستیں ہو سکتی ہیں اور لازماً پھر ایک سے زیادہ حکمران بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ احادیث عام ہیں اور ان میں غامدی صاحب کی بیان کی گئی تشریح کی کوئی تخصیص بیان نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ اُس وقت جب یہ احادیث بیان کی گئیں تو مسلمانوں کی ایک سے زیادہ ریاستیں موجود ہی نہ تھیں کہ غامدی صاحب کی بیان کی گئی تشریح ممکن بھی ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنھم کے ذریعے آنے والے تمام وقتوں کے مسلمانوں سے خطاب فرما رہے تھے۔

vii۔ اپنی تشریح کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ڈاکٹر غامدی اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک قول میں تبدیلی تک کر دی۔ فرمایا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ، "ریاست کا صرف ایک ہی حکمران ہو سکتا ہے”، جبکہ انہوں نے جس روایت کو بیہقی کی سنن الکبری (نمبر16550) سے نقل کیا ہے اس میں "ریاست” کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں کہ، "اس بات کی اجازت نہیں کہ مسلمانوں کے دو حکمران ہوں”، اور بالکل یہی ہمارا موقف ہے۔ اصولِ فقہ میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ "لام الجنس” عمومیت کی علامت ہے، اسی لئے مسلمانوں سے مراد تمام مسلمان ہیں نا کہ چند مسلمان۔

viii۔ غامدی صاحب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایک سے زیادہ حکمران بہت زیادہ نا اتفاقی اور تفرقے کا باعث ہوں گے۔ لیکن حیرت ہے کہ انہیں مسلمانوں کے پچاس سے زائد غیر مؤثر ممالک میں تقسیم ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

میرا تبصرہ: اس سے پہلے کہ میں ان سوالوں کے فرداً فرداً جواب تحریر کروں، دو ممتاز پہلو جو ایک طائرانہ نظر میں ہی لوگ دیکھ سکتے ہیں ان کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ایک، محترم عمر صاحب نے خلافت کے "فرض” ہونے کا دعوٰی تو کیا ہے مگر اس کے لیے ایک دلیل بھی نہ قرآن سے دی ہے اور نہ ہی حدیث سے۔ اور دوم، خلافت کے "دینی اصطلاح” ہونے کی ساری بحث بھی انہوں نے احادیث تک ہی محدود رکھی ہے۔ اس ضمن میں پورے قرآن سے انہوں نے کوئی استشہاد نہیں کیا۔ آئیے، اب جوابات کی طرف چلتے ہیں۔

i۔ غامدی صاحب نے یہ جسارت بڑے سادہ عقلی اور دینی اصول پر کی ہے۔ اور وہ یہ کہ ہمارے اسلاف نے کبھی یہ دعوٰی تو کیا نہیں کہ ان پر وحی آتی ہے اس لیے احتمال خطا گستاخی اور گناہ ہے ۔ انہوں نے تو ہمیشہ دین کے ماخذوں، یعنی قرآن و سنت، ہی سے استنباط کا دعوٰی کیا ہے۔ اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ دونوں ماخذ آج بھی بے کم و کاست اپنی اصلی حالت میں ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ تو ہمارے رب ہی کے سکھائے ہوئے اصول "ھاتو برھانکم” کے مطابق کیا ہم اپنے اسلاف کے نمائندگان سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ اس کی دلیل کیا ہے؟ اور اگر کر سکتے ہیں، تو پھر ہمیں یقیناً یہ حق بھی پروردگار کی طرف سے حاصل ہے کہ ان کے دلائل پر جرح و نقد کر کے اگر اس میں کوئی غلطی ہو تو اسے واضح کر دیں ۔ چنانچہ، اب آگے بڑھنے کا علمی طریقہ فقط ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جانبین کا استدلال سامنے آئے تا کہ سب مسلمان خود فیصلہ کر لیں کہ کس کی بات زیادہ مدلل ہے۔ حاملین استدلال کی کثرت اور ان کے اعداد و شمار علمی بحث میں کوئی وقعت نہیں رکھتے اور نہ ہی "اربابا من دون اللہ” کا مقام ہی انہیں دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں میری مؤ‎دبانہ گزارش ہے کہ جن اسلاف کا ذکر فرمایا گیا ہے، انہی کے زندگی بھر کے طریقۂ استدلال پر اگر ایک نظر ڈال لی جائے تو یہ بحث "افراد کی کثرت” کی بجائے آپ سے آپ "دلائل کی موزونیت” تک محدود ہو جائے گی۔ اور جب ہو جائے گی تو پھر یہ دکھانا پڑے گا کہ جسے دینی فرائض میں سے اہم ترین فرض کہا جا رہا ہے اور دین کا ستون بتایا جا رہا ہے، اس کے لیے قرآن و حدیث میں اللہ اور رسول ﷺ کی تقریر کہاں ہے۔ دین کے باقی سب ستونوں کے لیے تو قرآن کے نا قابل تردید صریح نصوص موجود ہیں۔ تو یہ کیسا دین کا ستون ہے کہ جس کے ثبوت کے لیے پورے قرآن سے ایک بھی آیت فراہم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی صاحب مضمون نے فراہم کی ہے۔ میں جناب عمر صاحب اور حزب التحریر کے لیے غامدی صاحب کے مطالبۂ ثبوت کو بالکل معین کیے دیتا ہوں۔ جیسے احمد دیدات صاحب نصاریٰ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ عیسیٰ کے خدا ہونے جیسے بڑے دعوے کے لیے ایک آیت موجودہ بائبل میں ایسی دکھا دیجیے جہاں عیسیٰ نے غیر مبہم الفاظ میں خود کہا ہو کہ "میں خدا ہوں” یا "میری عبادت کرو”۔ بالکل یہی مطالبہ غامدی صاحب کے دعوے کے ابطال کے لیے میں کر رہا ہوں۔ جو حضرات بھی "خلافت” کو دینی فرض اور ستون بتاتے ہیں، زیادہ نہیں بس ایک آیت قرآن یا قول رسول ﷺ ایسا بتا دیں جس میں اللہ تعالی یا اس کے رسول ﷺ نے غیر مبہم الفاظ میں یہ فرمایا ہو کہ "خلافت قائم کرنا فرض ہے” یا "خلافت قائم نہ کرنا گناہ کا باعث ہے”۔

ii۔ صاحب مضمون سے درخواست ہے کہ پہلے تو ایک تصحیح کر لیں۔ غامدی صاحب نے خلافہ کے بارے میں یہ کہا ہے کہ یہ قرآن و حدیث میں اپنے لغوی معانی میں سے ہی کسی ایک میں استعمال ہوا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ یہ ہمیشہ "جاں نشین” ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ صاحب مضمون نے غامدی صاحب کے اس مؤقف پر حیرت کا اظہار تو کیا ہے مگر مجھے بھی بصد احترام حیرت ہے کہ اس کی نفی کے لیے قرآن سے کوئی استدلال پیش نہیں کیا۔ جس حدیث کا حوالہ محترم عمر صاحب نے دیا ہے اس کی وضاحت غامدی صاحب پہلے ہی کر چکے ہیں۔ تاہم، اس سے جو نتائج صاحب مضمون نے برآمد کیے ہیں، ان پر کلام نہ کرنا دلیل کی بے توقیری شمار نہ ہو جائے اس لیے کچھ کلمات عرض ہیں۔ یہ نتیجہ کہ ” یہ ایک خاص قسم کی جاں نشینی ہے جس سے عرب کے لوگ اسلام سے قبل آشنا نہ تھے "، حدیث کے الفاظ سے تو کسی طرح برآمد نہیں ہوتا۔ روایت میں تو کوئی قرینہ ایسا موجود نہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ خلیفہ کا لفظ اہل عرب کے لیے کوئی اجنبی لفظ تھا، یا اس کا کوئی خاص استعمال نبی ﷺ فرما رہے تھے، وگرنہ صحابہؓ ضرور پوچھتے کہ "ما الخلافۃ” یا "من ھو الخلیفۃ”۔ سب قارئین خود دیکھ سکتے ہیں کہ صحابہؓ اس لفظ کو بغیر کسی حیرت و تردد کے فوراً قبول کر رہے ہیں۔ پھر بیعت سے کوئی خاص مذہبی مراد لے کے مبینہ "خلافت” کے مفہوم کی دلیل قرار دینا بھی کسی طرح صحیح نہیں۔ بیعت تو عربوں کے ہاں ایک جانا پہچانا تصور تھا۔ نہ یہ اسلام کی ایجاد تھا اور نہ ہی کسی خاص مفہوم خلافت کے لیے ہی لازم۔ نہ اس روایت اور نہ کسی اور روایت میں ہی اس سے کوئی خاص مراد لینا ممکن ہے۔ اور رہا آخری اور سب سے اہم نتیجہ کہ اس روایت میں "خلیفہ” سے مراد ” اسلام کے مکمل اور جامع نفاذ کے ذریعے ” حکمرانی کرنے والے حکمران ہیں، تو یہ بھی نہ ہی صراحتاً حدیث کی عبارت میں درج ہے اور نہ ہی کلام میں مقدر مانا جا سکتا ہے۔ بلکہ کلام کی رو سے تو صاف اشارہ لگتا ہے کہ اسی "خلیفہ” کے لفظ سے نبی ﷺ وہ سارے حکمران بھی مراد لے رہے ہیں جو ظالم و جابر ہوں گے۔ اسی لیے مسلمانوں کو ان کی اطاعت کا پابند یہ کہہ کر کیا جا رہا ہے کہ تمہیں ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچنے کا حق نہیں چاہے وہ ظلم ہی کیوں نہ کریں۔ اس کے لیے وہ اللہ کے ہاں ہی جوابدہ ہوں گے۔ "فَتَكْثُرُ ” کے لفظ سے بھی اسی طرف اشارہ لگتا ہے۔ تاہم، یہی بات جو یہاں اجمال میں کی گئی ہے اور روایات میں کھول کر بھی کر دی گئی ہے۔ محترم عمر صاحب سے التماس ہے صرف کچھ دیر کے لیے مروجہ تعبیر خلافت کا چشمہ اتاریے، اور خالی الذہن ہو کر اس حدیث کو سمجھنے کی ایک کوشش کریں۔ انشآء اللہ مفہوم با آسانی واضح ہو گا اور نبی ﷺ کے قول کی معقولیت بالکل سطح پر ہی پڑی نظر آ جائیگی۔

iii۔ حکام یا اس مفہوم کا کوئی اور لفظ نبی ﷺ تب استعمال فرماتے کہ اگر "خلیفہ” کے لفظ میں کوئی مسئلہ ہوتا۔ یہ بات کہ چونکہ مسلم امہ نے اسے بعد میں اپنی ایک اصطلاح بنا لیا جس سے اب لوگوں کو کوئی اشتباہ لاحق ہو گیا ہے، ماضی میں تو کسی اشتباہ کو لازم نہیں۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف لفظ ہے اور قرآن میں بھی جا بجا استعمال ہوا ہے۔ اور ہمارے مفسرین کو اس کے معنی متعین کرنے میں کوئی دقت لاحق نہیں ہوئی۔ رہی یہ بات کہ حکام کا لفظ زیادہ سیدھا سادہ ہے، تو یہ بات بھی درست نہیں۔ جتنا سادہ "حاکم” کا لفظ آپ کو آج لگ رہا ہے، اتنا ہی سیدھا "خلیفہ” کا لفظ نبی ﷺ کے زمانے میں تھا۔ پورے قرآن میں ایک جگہ بھی حکمران کے لیے "حاکم” کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ زبان و بیان کے فن سے ادنی درجے میں بھی واقف شخص یہ جانتا ہے کہ تاریخ کی کروٹوں کے نتیجے میں بعض الفاظ کسی مفہوم کی ادائیگی کے لیے زیادہ موزوں ہو جاتے ہیں اور بعض پہلے سے موزوں الفاظ اپنا اثر محدود کر لیتے یا کھو دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے الفاظ پر تدبر کے لیے آج کل کے استعمالات کا ادراک کا فی نہیں ہوتا۔ زبان کے قدیم استعمالات تک رسائی ہی قرآن و حدیث کے فہم میں فیصلہ کن ہوا کرتی ہے۔

iv۔اس حدیث پر بھی غامدی صاحب بحث کر چکے ہیں مگر کچھ کلمات عرض ہیں۔ پہلی دلیل کہ چونکہ دو علیحدہ الفاظ، "خلافۃ” اور "ملک”، مختلف ادوار کے لیے استعمال کیے گئے ہیں اس لیے خلافہ ” اسلام کے ایک اپنے مخصوص نظام حکمرانی کی وضاحت کرتا ہے ” ، ایک غلط استدلال ہے۔ اول تو اس لیے کہ خلافہ کا لفظ چونکہ لغوی اعتبار سے عام ہے جبکہ بادشاہت کا لفظ ایک خاص طرز جاں نشینی کے لیے آتا ہے اس لیے یہاں یہ گنجائش پوری طرح موجود ہے، بلکہ واضح ہے، کہ نبی ﷺ نے بادشاہت کے لفظ کو اسی خاص مفہوم ادا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے جو اس سے مراد ہوتا ہے۔ یہ تخصیص خلافت کے لفظ کے بجائے ملک کا لفظ بہتر طریقے سے ادا کر سکتا تھا اور اپنے اس مفہوم میں صریح بھی تھا اسی لیے یہاں لایا گیا ہے۔ اور دوم اس لیے کہ خلافہ کا لفظ تو یہاں پر اکیلے استعمال ہی نہیں کیا گیا ۔ "علی منہاج النبوۃ” کے الفاظ یہاں پر علیحدہ سے اسی لیے لائے گئے ہیں کیونکہ خلافہ کا لفظ اکیلا ان پر دلالت کرنے کے قابل ہی نہیں۔ دوسری دلیل کہ ” یہی وہ واحد طرز حکمرانی ہے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صرف اس طرز حکمرانی کا بیان کیا”، بھی بصد احترام ایک بے آہنگ نتیجہ (non sequitur) ہے۔ اول تو اس لیے کہ یہ خبر ہے حکم نہیں۔ بیان واقعہ اور موعود سے مقصود کا استنباط کسی طرح درست نہیں۔ یہ ایک بالکل بدیہی بات ہے۔ اور دوم اس لیے کہ عبارت میں نہ نبی ﷺ خلافت کی اجازت یا حکم دے رہے ہیں اور نہ بادشاہت سے منع کر رہے ہیں۔ بلکہ صاف صریح الفاظ میں جس طرح پہلی طرز حکومت کے لیے یہ الفاظ استعمال فرما رہے ہیں کہ "یہ اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہیں گے اور پھر اٹھا لیں گے جب چاہیں گے” بالکل اسی طرح دوسری کے قیام اور بقا کی نسبت بھی اللہ ہی کی طرف انہی الفاظ میں کر رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہاں نہ تو جائز و نا جائز کی بحث ہو رہی ہے اور نہ ہی مطلوب و مردود کی۔ اور رہی تیسری اور آخری دلیل کہ شارع نے خود "خلافہ” کو شرعی اصطلاح بنا دیا ہے۔ یہ بات شائید یہ سوچ کر کہی گئی ہے کہ اس میں ” علی منہاج النبوۃ ” ہمیشہ کے لیے داخل ہو گیا ہے، تو یہ بھی زبان و بیان کے کسی اصول کی رو سے درست نہیں۔ جس طرح "جبریۃ” یا "عاضا” کی صفت نے "ملکا” کی تخصیص ہمیشہ کے لیے نہیں کر دی اسی طرح ” علی منہاج النبوۃ ” نے بھی "خلافۃ” کی ابدی تخصیص نہیں کر دی۔ اور جس طرح "ملکا” کوئی دینی اصطلاح نہیں بن گئی اسی طرح "خلافۃ” بھی نہیں بن گئی۔

v۔ غامدی صاحب کو خلافہ کے مسلمانوں کے علم سیاست کی اصطلاح ہونے میں کوئی قباحت نہیں۔ یہ بات انہوں نے خود بھی اپنے مقالات میں کی ہے۔ اس لیے اگر حزب التحریر اور دوسری قسم کی جماعتیں اس لفظ کو مسلمانوں کے اختیار کردہ اسی خاص مفہوم میں استعمال کرنا چاہیں تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ جب یہ جماعتیں عام مسلمانوں کو اپنے اختیار کردہ مفہوم خلافت کے لیے جدو جہد پر آمادہ کرتی ہیں تو وہ یہی مفہوم قرآن و حدیث میں اس کے سب استعمالات کو پہنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور یہ بتاتی ہیں کہ دیکھو تمہارے پروردگار اور رسول ﷺ نے اس کا تمہیں مکلف بنایا ہے۔ عام مخلص مسلمان یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ واقعی یہ لفظ بعد میں اختیار کردہ مفہوم میں ہی تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بھی استعمال کیا ہو گا۔ تو یہ تو کوئی چھوٹی بات نہیں! کیا محترم عمر صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ بھلے کوئی دینی اصطلاح "دینی” نہ ہوا کرے، اسے دینی کہہ دینے میں کیا حرج ہے؟ اس میں حرج یہ ہے کہ یہ خود اللہ کے قول کے مطابق پانچ بڑے ترین جرائم میں سے ہے۔ اگر کسی ایسی بات کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کر دی جائے جو انہوں نے نہیں فرمائی تو اس کا ٹھکانہ تو جہنم ہو، مگر ایک دین کے مطلوب کی نسبت یہ جانتے ہوئے کہ وہ دین نہیں ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف کر دی جائے اور پھر کہا جائے کہ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے، اس کے جواب کے لیے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ اور پھر خلافت جیسی عظیم مبینہ دینی اصطلاح ۔۔۔۔۔ جس کے حصول کی خاطر حزب التحریر، طالبان، داعش اور اس طرح کی ان گنت تحریکیں ایک طرف تو مخلص مسلمانوں سے عظیم قربانیوں کا مطالبہ کر رہی ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں ہی کو اس مقصد کے حصول کی خاطر گزند پہنچانے اور تہ تیغ کرنے میں کوئی عار نہ سمجھ رہی ہیں۔۔۔۔۔کیا ایسی دینی اصطلاح کے بارے میں کسی اعتبار سے بھی دینی و لا دینی کی تفریق غیر مفید ہو سکتی ہے؟ پولیٹیکل سائنس اور سو شیالوجی کی اصطلاحات سے اس طرح کے خطرے لاحق کبھی نہیں ہوتے اس لیے ان کے بارے میں غامدی صاحب کو بھی کوئی خاص تردد نہیں۔ اور ایک ضمنی بات بھی اس بحث کا لازمی نتیجہ ہے۔ وہ یہ کہ اگر نہ "خلافت” کوئی دینی اصطلاح ہے اور نہ ہی فرض یا واجب درجے کا کوئی شرعی حکم، تو سب سے پہلے حزب التحریر اور اس طرح کی دوسری جماعتوں کے دفاتر ہی بند ہوں گے۔

vi۔ ان روایتوں میں سے دوسری پہلی کی بھی وضاحت کر رہی ہے اور اس میں محترم عمر صاحب کے اعتراض کا جواب بھی موجود ہے۔ دوسری روایت واضح الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ جب مسلمان کسی ایک شخص کی حکومت پر پہلے سے قائم ہوں اور اس حال میں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی غرض سے کوئی دوسرا حکومت کا دعوٰی لے کر اٹھ کھڑا ہو تو اسے باغی گردانا جائے اور قانون کے مطابق سزاءً قتل کر دیا جائے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ شرط لگانا کہ مسلمان پہلے سے ایک ہی شخص کی حکومت پر متحد ہوں اس احتمال کو پوری طرح قرین قیاس بنا دیتا ہے کہ اگر پہلے سے ہی مسلمان متعدد حکمرانوں کی حکومتوں پر مطمئن ہوں اور اپنی اپنی علیحدہ جغرافیائی حدود میں بغیر کسی نزاع کے رہ رہے ہوں، تو پھر اس کا اطلاق صرف انہی جغرافیائی حدود میں کیا جا سکتا ہے جہاں لوگ ایک ہی حکمران پر مطمئن اور متفق ہوں اور وہاں کوئی نیا حکمران اٹھ کھڑا ہو۔ ان روایتوں کا یہ مفہوم اتنا عام فہم ہے کہ اس دور کا ہر پڑھا لکھا انسان نہ صرف یہ کہ اس مفہوم کو خود اخذ کر سکتا ہے بلکہ ان کی معقولیت پر بھی پوری طرح اطمینان حاصل کر سکتا ہے۔ پھر یہ کہنا کہ چونکہ جب یہ بات کہی گئی تو متعدد ریاستیں موجود نہ تھیں اس لیے یہ حکم اس احتمال کی نفی کر دیتا ہے، کلام کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ کلام میں انہی حقیقتوں کی رعایت ملحوظ رکھی جا سکتی ہے جو متکلم کے گرد و پیش میں موجود ہوں اور وہ ان سے واقف ہو۔ ایسے نظریات ، ایجادات اور واقعات جو ابھی وجود پذیر ہی نہ ہوئے ہوں کلام کرتے وقت ان کے عدم احتمال کا فتوی سر تا سر خلاف عقل ہے۔ انسانوں کا کلام اسی طرز پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سائنسی ایجادات پر شریعت کے ضوابط کا اطلاق کرنے کے لیے اجتہاد و قیاس کیا جاتا ہے درآنحالیکہ جب شریعت نے وہ حکم دیا ہوتا ہے تو یہ چیزیں وجود پذیر ہی نہیں ہوئی ہوتیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ پہلی صدی ہجری میں ہی جب دو اسلامی سلطنتیں وجود پذیر ہو گئیں تو اس وقت امت کے جلیل القدر فقہا نے ان روایات سے وہ ناقص استنباط نہیں کیا جو صاحب مضمون نے کیا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتیں ایسی نہیں ہوتیں کہ ان پر اندھے بہرے ہو کر گر جایا جائے اور حکم کی نوعیت سمجھنے کا تکلف نہ کیا جائے (وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآَيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا)۔ چنانچہ میں محترم عمر صاحب سے التماس کرتا ہوں کہ ان روایات کو سطحیت سے نہیں بلکہ تدبر سے دیکھا جائے۔

vii۔ غامدی صاحب نے ریاست کا لفظ تشریح میں ارشاد فرمایا ہے نہ کہ ترجمے میں۔ محترم عمر صاحب اس بات کا اقرار بھی کر رہے ہیں مگر یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ اس طرح کی تبدیلی تشریحات میں بھی روا نہیں۔ غامدی صاحب نے مقالے کے جس حصے میں اس کا تذکرہ کیا ہے وہاں پورے سیاق سے ظاہر ہے کہ وہ ان تمام روایتوں کے مدعا کی وضاحت کر رہے ہیں جن سے عام طور پر اس طرح کے استدلال کیے گئے ہیں جس طرح کے جناب عمر صاحب نے یہاں بیان فرمائے ہیں۔ اب آئیے اس روایت کے مدعا کی طرف۔ غامدی صاحب نے جن دو روایات کا حوالہ دیا ہے وہ یہاں اور یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جناب عمر صاحب نے دوسری تو بیان کی ہے مگر پہلی کو نہیں چھیڑا درآنکہ دونوں ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ پہلی روایت میں جب انصار کی جانب سے یہ خیال سامنے آیا کہ "منا رجل و منکم رجل” یعنی ایک حکمران انصار سے ہو جائے اور ایک حکمران مہاجرین سے تو اس پر حضرت عمر ؓ نے شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور اپنے اعتراض کے لیے کوئی شرعی وجہ نہیں بیان فرمائی بلکہ ایک مسلمہ علمی و عقلی استدلال پیش کیا کہ یہ تو ایک نیام میں دو تلواروں کے مترادف ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ یہی کہنا چاہ رہے تھے کہ ایک ہی مقام پر اور ایک ہی رعایا پر دو حکمران کیسے بن سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس مفہوم کے لیے ہی موجودہ دور میں ریاست کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری روایت میں حضرت ابو بکرؓ نے بھی انصار کے اسی خیال کے پس منظر میں تقریر فرمائی۔ اور فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ ان کے دو حکمران ہو جائیں۔ اس پس منظر سے ظاہر ہے کہ وہ بھی اصلا اسی خیال کی تردید کر رہے تھے جس کی حضرت عمر ؓ نے تردید کی تھی۔ نہ حضرت عمرؓ اور نہ ہی حضرت ابو بکرؓ کے وہم و گمان میں بھی قومی ریاستوں کی نفی کرنا مقصود تھا۔ محترم عمر علی صاحب نے ابو بکرؓ کے "المسلمین” کے "ال” کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ یہاں تمام مسلمانوں کے لیے آیا ہے تو یہ بات تو بالکل درست ہے۔ مگر غالباً عمر صاحب اس "ال” سے دنیا میں موجود تمام مسلمان مراد یہ کہہ کر لینا چاہ رہے ہیں کہ جنس کے لیے جو "ال” آتا ہے اس کی تحدید نہیں کی جا سکتی۔ اس سے اس جنس کے سب افراد مراد ہونا لازم ہے۔ اصل میں یہ وہ اشکال ہے جو ہمارے مخلص مسلمانوں میں سے بہت سوں کو لاحق ہے۔ وہ جب بھی قرآن یا حدیث میں "ال” یا "کل” استعمال ہوتا پاتے ہیں تو یہ مقدمہ قائم کر لیتے ہیں کہ گرامر کی رو سے اب اس کی کوئی تحدید و تخصیص نا ممکن ہے۔ یہ عربی کلام، بلکہ کسی بھی زبان کے کلام، سے نا واقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ زبان و بیان کے اصولوں سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ کلام میں "سب” اور "تمام” کی طرح کے الفاظ آ جانے کے بعد بھی بہت سے ایسے عامل ان کی تحدید کر رہے ہوتے ہیں جو اگرچہ بالصراحت کلام میں موجود نہیں ہوتے مگر ان کا انکار نا ممکن ہوتا ہے۔ یہ عامل کبھی سیاق میں مضمر ہوتے ہیں، کبھی عقلی مسلمات میں، کبھی قائل کی عادت سے مترشح ہوتے ہیں اور کبھی مخاطبین کے فہم میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ قرآن میں متعدد مقامات پر نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ ان کے ذریعے اپنے دین کو "سب” ادیان پر غالب کر دے گا۔ صحابہؓ اور مفسرین ان آیات میں "الدین کلہ” کے آ جانے کے باوجود اس وعدے کی تحدید جزیرہ نمائے عرب تک کرتے ہیں، درانحالیکہ یہ الفاظ کہیں موجود نہیں۔ اسی طرح نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ "جو کوئی بھی دین بدلے اسے قتل کر دو” مگر کوئی ذی عقل فقیہ بھی اس کا اطلاق مسلمانوں کے علاوہ کسی پر نہیں کرتا۔ اللہ "الارض” فرماتے ہیں مگر اس سے کئی مقامات پر "پوری زمین” تو کیا "پورا عرب” بھی مراد نہیں ہوتا۔ قرآن "الناس”، "المشرکین” اور "اہل الکتاب” استعمال کرتا ہے مگر اس سے قیامت تک آنے والے انسان، مشرکین اور اہل کتاب تو کیا عرب کے تمام باشندے، مشرکین یا اہل کتاب بھی مراد نہیں لیتا۔ ابو بکرؓ نے بھی "ال” استعمال کرتے ہوئے مخاطبین کے فہم کی رعایت ملحوظ رکھی ہے۔ یعنی مسلمان چونکہ ابھی تک سب ایک ہی ریاست کے باشندے ہیں اس لیے سب مسلمانوں کا ذکر کر دیا ہے۔ یقین جانیے، اگر حضرت ابو بکرؓ کو یہ بتا دیا جاتا کہ آپ کے اس "المسلمین” سے مستقبل میں آنے والے لوگ قومی ریاستوں کی نفی مراد لیں گے تو وہ شائید رو پڑتے۔ غامدی صاحب نے اگر اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے ریاست کا لفظ استعمال کیا ہے تو یہ پوری طرح نہ صرف قابل فہم ہے بلکہ کلام میں مقدر کو کھولنے میں مدد گار بھی ہے۔

viii۔ یہ نکتہ چونکہ غامدی صاحب کے نظریے کی نفی یا اثبات دونوں ہی کے لیے مفید نہیں ہے اس لیے اس پر زیادہ کلام کی ضرورت نہیں ۔ بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ اگر ایک ہی ریاست کا ہونا تفرقے کے سد باب کو لازم ہوتا تو کم از کم ایک ہی ریاست میں بسنے والے باشندوں کے درمیان کوئی تفرقہ اور نزاع برپا نہ ہوتا، بلکہ مختلف ریاستیں ہی آپس میں دست و گریباں ہوتیں۔

اختتامیہ: آخر میں حزب التحریر اور اس طرح کی دوسری جماعتوں کے مخلص پیروکاروں سے ایک استدعا ہے۔ وہ یہ کہ انہیں چاہیے کہ اپنی جماعتوں کے عہدیداروں سے یہ سوال ضرور کریں کہ کیا مبینہ "خلافت” کے دین کا فرض اور ستون ہونے کے لیے ایک آیت بھی قرآن سے نہیں پیش کی جا سکتی؟ شہادت، نماز، روزہ، زکوۃ اور حج دین کے ستون ہیں۔ اگر ان کے بارے میں قرآن بالکل واضح ہے تو آخر اس ستون ہی کے ساتھ اللہ نے بے اعتنائی کیوں برتی؟ اور میں اوپر بحث میں بیان کیے گئے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دہرا دوں۔ خلافت اگر دینی مطالبہ، بلکہ فرض الہی اور ستون دین ہے، تو پورے قرآن اور ذخیرۂ حدیث سے زیادہ نہیں بس ایک آیت / حدیث ایسی دکھا دیں جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے (چلیں، آپ ہی کے مفہوم خلافت کو درست مانتے ہوئے) یہ کہا ہو کہ "خلافت قائم کرنا فرض ہے ” یا "خلافت قائم نہ کرنا گناہ ہے”۔ اگر یہ کوئی بے جا مطالبہ ہے، تو ضرور مطلع فرمائيں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s