مذاکرات کا صحیح طریقہ – حصہ دوم

تحریک طالبان پاکستان اور اس طرح کے دوسرے متحارب گروہوں کے ساتھ مذاکرات کو میں نے جن دو عنوانات میں تقسیم کرنے کی تجویز دی تھی ان میں پہلے، یعنی "عقل عامہ”، پر مفصّل بحث میں پچھلے مقالے میں کر چکا ہوں۔ اس نشر پارے میں دوسرے عنوان، یعنی "دین”، پر خامہ فرسائی کا ارادہ ہے۔

دین کے عنوان کے تحت وہ تمام دلائل  آنے چاہئیں جن کو "نقلی” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ "نقلی” نہیں جسے ہم "اصلی” کے مقابل میں بولتے ہیں، بلکہ شرعی مباحثوں میں "عقلی” کے تقابل میں مستعمل اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ دلائل ہوتے ہیں جو دین کے مصادرِ اصلیہ  (original sources) سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے ثبوت کے لیے یہ دکھانا پڑتا ہے کہ یہ قرآن یا حدیث یا علما کے اقوال کی فلاں عبارت میں درج یا اس سے مستنبط ہیں، یا نبی ﷺ اور صحابہؓ کے فلاں عمل پر مبنی ہیں۔ اس باب کے ثبوتوں کو نہ صرف یہ کہ "عقل” کی تائید کا محتاج نہیں سمجھا جاتا بلکہ مروّجہ مذہبی فکر کے مطابق عموماً، اور محاربین کے فکر کے تحت خصوصاً، ایسی بحثوں میں تو "عقل” کا داخلہ بھی اکثر ممنوع قرار پاتا ہے۔

چونکہ یہی عنوان اصلاً مذاکرات کی جان اور مسئلے کے سلجھاؤ کی چابی ہے، اس لیے باوجود یہ کہ اپنی جنس میں یہ دلائل ایک طرح کی فنی اور تکنیکی بحث کے مقتضی ہوتے ہیں، جن کا اصلی ہدف۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے واضح کر چکا ہوں۔۔۔ فریق ثانی کا طبقۂِ علما ہے، جدید تعلیم یافتہ قارئین سے میری گزارش ہے کہ وہ بھی بوجوہ پڑھنے سے گریز نہ کریں۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ چاہے آپ اس طرح کی بحثوں سے دلچسپی نہ بھی رکھتے ہوں، بعید از قیاس نہیں کہ آپ کے بیٹوں، بھائیوں یا دوستوں میں سے کوئی عنقریب محاربین کی فکر سے متاثر ہو کر انہی کی ڈگر پر چل نکلے۔ ممکن ہے وہ پہلے سے چل رہا ہو اور آپ کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔ یقین جانیے یہ احتمال آپ کے اندازے سے کہیں زیادہ اکثرُ الوقوع ہے۔ تو کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ خود اس سے تعارض کے قابل ہو سکیں؟ میں آپ کی ترغیب کو اور بھی بہت سی وجوہات بیان کر سکتا ہوں مگر سرِ دست اسی پر اکتفا ہے کہ یہ اس بحث کی جا نہیں۔ اتنی تحریک کارگر ہوتی ہے تو بِسْمِ اللَّهِ، ورنہ فِیْ اَمَانِ اللَّهِ۔ بس اتنے الوداعی پیغام کے ساتھ کہ یہ ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں کی بے اعتنائی ہی تو ہے جو دین اس حال میں ہے۔۔۔۔

اس باب کے نکات کے ابلاغ کی ذمہ داری اسی میدان کے ماہرینِ فن کو دی جانی چاہیے۔ اس لیے بھی کہ "جس کا کام اسی کو ساجھے” اور اس لیے بھی کہ ان نکات کی ترسیل کے لیے جو مذہبی بولی (jargon) زیبِ لب درکار ہے وہ انہی کو آتی ہے۔ پس اس مقصد کی تحصیل کی خاطر حکومتی کمیٹی میں چند منتخب علما کا اضافہ کر دینا ناگزیر ہے۔ مگر یہ انتخاب بھی، اگر کامیابی مطلوب ہو تو، احتیاط کا محتاج ہے۔ الل ٹپ کاریگری، جو حکمرانوں کا شیوا لگتی ہے، اس تفصیلی بندوبست کے باوجود حصولِ مقصد میں آڑے آ سکتی ہے۔ چنانچہ میری جانب سے حکومت کی اعانت کے واسطے انتخاب کا پہلا خاکہ، بمعہ توجیہ، زیبِ تحریر ہے۔۔۔

میری نظر میں تین علما اس بارِ گراں کے اٹھانے کو کافی ہیں۔۔۔نہ کم نہ زیادہ! مفتی تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل اور مولانا عمّار خان ناصر۔ یہ انتخاب میں نے اللہ تعالٰی کی اس ہدایت کی بنیاد پر کیا ہے: "ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ”[1] (یعنی اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان کے ساتھ اس طریقہ سے بحث کرو جو پسندیدہ ہے)۔ اس میں "دعوت” اور "مجادلۂ ِحسنیٰ” کے جو دو عنوانات قائم کیے گئے ہیں، اس میں دعوت کے عنوان کے تحت "حکمۃ” اور "موعظۃ” کے لیے بالترتیب تقی صاحب اور طارق جمیل صاحب، اور "مجادلۃ” کے لیے عمّار ناصر صاحب کا نام تجویز ہے۔ یہ کام اگرچہ ایک شخص بھی کر سکتا ہے، مگر تجربہ گواہ ہے کہ بیک وقت ان سب کا ارتکاز کسی ایک شخصیت میں ہونا ہمارے دور میں تقریباً ناپید ہے۔ اور پھر یہ تخصّص (specialization) کا زمانہ ہے، اور یہ تینوں اصحاب اپنے متعلقہ شعبوں میں ماہر بھی ہیں اور نامور بھی۔ اسی طرح تین سے زیادہ اشخاص بھی یہ کام کر سکتے ہیں، مگر "Too many cooks…” کا خوف اس میں بھی مزاحم ہے۔

ممکن ہے کوئی شخص اس انتخاب پر مسلکی تعصّب کا الزام لگائے۔ تو جناب عرض ہے کہ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مسلک میں جیّد و کبار علما موجود ہیں، یہاں حلقۂِ انتخاب کی تحدید مخاطبین کے مسلک کی رعایت کے پیش نظر کی گئی ہے۔ یہ کوئی دقیق حقیقت تو نہیں کہ مذاکرین کے درمیان متّفقات کا دائرہ جتنا وسیع ہو گا، اسی قدر انہیں تنازعات پر خیمہ زن ہونے کا موقع ملے گا۔ اگر ان کے ما بین عقائد و مبادی کے اختلافات کا ایک سمندر حائل ہو تو پھر بار آوری کا خواب محرومِ تعبیر ہی رہے گا۔ مذکورہ بالا اصولوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اگر کوئی بہتر انتخاب ممکن ہو تو بسر و چشم کیجے۔

جہاں تک لب و لہجے کا تعلق ہے تو یہ داعیانہ ہونا چاہیے۔ خیر خواہی پر مبنی، معلّمانہ اور پدرانہ شفقت سے مزیّن۔ جو لوگ دینی علوم سے آشنا ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مروّجہ مذہبی فکر کے زیر اثر جو مغالطے ان معاندین کو لگے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ مستعبد نہیں، بلکہ زاویۂ نظر کی ذرا سی بے احتیاطی سے عین مطلوب معلوم پڑتے ہیں۔ مذہبی فکر کیا، خود دین کے مصادر کا یہ حال ہے کہ اگر انہیں سطحیت سے پڑھایا جائے، اور اسی طرح وہ آج تک پڑھائے گئے ہیں، تو ان کا بھی منشا جنگ و جدل معیّن کرنے میں کسی خاص تکلّف کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اور پھر اس شجرۂ خبیثہ کی آبیاری میں ہم نے، ہمارے علما نے اور خود حکومت کی غلط پالیسیوں نے جتنا دانستہ حصہ اب تک ڈالا یا مجرمانہ غفلت اب تلک برتی ہے، اسے اگر شاملِ عوامل کیا جائے تو لہجے کی اس تعیین میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا۔ چنانچہ ناقدین کے شور و غل کے علی الرّغم، معاندین کے "فکر” کو پوری دیانت سے لیا جائے اور اس کا ابطال پورے خلوص سے علمی انداز میں کیا جائے۔ لٰہذا، وہ سب طرز جو دعوت و مجادلہ کے لیے انبیا نے ہمیں سکھائے ہیں اور کوئی بھی مربّی تلامذہ کی تصحیح کے لیے اختیار کرتا ہے، ان مذاکرین کو بھی اختیار کرنے ہیں۔ بشارت و انذار، ترغیب و ترھیب، خوف و رجا، حکمت و جذباتیت، تحریک و تشویق، الغرض وہ جمیع انداز جو اس وادی کی تقطیع میں معلوم و معروف ہیں، ان سب کو استعمال کیا جائے۔ اور پھر نظریات کے ساتھ جس قسم کی جذباتی وابستگی حاملین کو ہو جایا کرتی ہے، اس کی بھی پوری رعایت کی جائے۔ نظریات کی تنقیح و تہدیم میں گھنٹے ہی نہیں دن بھی لگ جایا کرتے ہیں۔ جوابوں سے ضمنی سوال برآمد ہوتے ہیں جن کو غم و غصے کا تڑکا لگا ہوتا ہے۔ ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے غیر معمولی ضبط کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے[2]۔ اس سے زیادہ تفصیل میں جانے کی یہاں گنجائش نہیں۔ بس یہ اشارہ کرنا مقصود تھا کہ عقل عامہ کے باب کے دلائل سے ان دلائل کا لب و لہجہ یکسر مختلف اور سر تا پا حکیمانہ ہو گا۔ "Good cop Bad cop routine” میں "Bad cop” کا کردار حکومتی کمیٹی "عقل عامہ” کے دلائل کے تحت ادا کر رہی ہے، انہیں "Good cop” بننا ہے۔

اس تمہید کے بعد چلیے مذاکرات کے متن کی طرف چلتے ہیں۔ اگر علما کا انتخاب بحسن و خوبی طے پا جاتا ہے تو ان کی نصرت کو ان نکات کی چنداں حاجت تو نہیں جو ذیل میں تحریر ہیں، مگر میرا یہ تجربہ ہے کہ پہلا ڈھانچہ تیار کرنا اکثر سب سے مشکل ہوتا ہے۔ اور اگر یہ بہم میسر ہو جائے تو اسے نک سک درست کر کے ایک حتمی مسودہ تیار کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے۔۔۔ اور اس لیے بھی کہ میرا مقصد چونکہ پڑھے لکھے طبقے کو ہماری طرف کے استدلال کی قوت سے آگاہ کرنا اور اس ذریعے سے انہیں مذاکراتی عمل سے وابستہ کرنا بلکہ اس عمل کی کامیابی کے لیے بالفعل متحرک کرنا ہے۔۔۔ چیدہ نکات، کچھ اجمال اور کچھ تفصیل سے، عام فہم زبان میں نقدِ قلم ہیں۔

مذاکرات کا اصلُ الاُصول

مذاکرات کے نتیجہ خیز وقوع کے لیے ایک اصول پر طرفین کا قبل از آغاز متّفق ہونا لازمی ہے۔ بلکہ اس اصول پر اتفاق کو ہماری طرف سے شرط کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ وہ یہ کہ تنازعات قرآن و سنت کی روشنی میں طے پائیں گے، اس لیے کہ یہ اللہ تعالی کا حکم ہے: "إِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ”[3] یعنی "اگر کوئی تنازعہ ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو”۔ مگر اس سے پہلے کہ آپ اس دعوے کو "cliché” سمجھ کر نظر انداز کر دیں مجھے توضیح کا موقع دیں۔ شرط کی عبارت صرف اتنی نہیں کہ حل قرآن و سنت کی روشنی میں طے پائے گا، بلکہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں "ہی” طے پائے گا۔ یعنی دلیل صرف وہ قرار پائے گی جو یا تو اللہ کا قول ہو یا اس کے رسول کا قول و عمل۔ اور کسی انسان، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، بلکہ امام بھی کیوں نہ ہو، ہم اسے اللہ اور اس کے رسول کا مقام ہر گز نہ دیں گے۔ یہ بات بھی اللہ ربّ العزّۃ نے خود کی ہے، ہم اس کے موجد نہیں۔ "اے نبی کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب! آؤ ایک بات جو تمھارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے پر اتفاق کریں: وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اُس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے۔ پھر وہ اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ ہم تو بس مسلم ہیں۔” یہاں خاص طور پر یہ بات جو آئی ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا اپنا رب نہ بنائے، اِس سے اشارہ تحلیل و تحریم کے اُن اختیارات کی طرف ہے جو اہل کتاب نے اپنے علما و رہبان کو دے رکھے تھے، اور ان معاندین نے اپنے علما کو دے رکھے ہیں۔ اللہ نے خود ہی دوسرے مقام پر اس کی تشریح ان الفاظ میں کر دی، "انہوں نے اللہ کے سوا اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنا ڈالا” اور پھر مزید وضاحت رسول اللہ نے کر دی۔ لٰہذا یہ بات ابتدا میں ہی بالکل واضح کر دی جائے۔ پھر اگر فریق ثانی اس شرط سے انکار کرتا ہے تو مذاکرات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ اگر قرآن و سنت کی قطعی اور امتیازی حیثیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو وہ منفعت جو مذاکرات سے حاصل کرنا تھی وہ تو ان کے بغیر ہی حاصل ہو گئی، اور ان کے تمام شعوری معاونوں کی برگشتگی کا باعث آپ سے آپ ہو گئی۔ اس لیے ڈرنے کی ضرورت نہیں، وہ اس سے انکار نہیں کریں گے۔ اور اگر ہم نے اس معاملے میں لچک دکھا دی اور اللہ کی حکیمانہ ہدایت کو نظر انداز کر دیا، تو پھر ٹھپّے کھانے کا ایک ایسا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گا جس سے سوائے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

مذاکرات کا متن

اہم نکات علما کی زبان سے محاربین کو مخاطب کر کے کچھ یوں ادا ہونے چاہیں:

1۔ مسلمان کے خون کی حرمت

اے مسلمانو! ہمارے دین نے اگرچہ ہر انسان کی جان کو حرمت بخشی ہے، مگر مسلمان کی جان کا تو معاملہ ہی ورا رکھا ہے۔ اس کو اللہ نے اپنی ان حرمتوں سے مماثل قرار دیا ہے جن سے اونچی کوئی حرمت نہیں؛ جیسے حج کے ایّام اور بیت اللہ۔ اس کے قتل کو کفر کہا اور ابدی جہنم کا وعدہ کیا ہے۔ اس پر اللہ کے قہر کا اندازہ کرنے کے لیے سورة النساء کی 93 نمبر آیت کافی ہے۔”۔۔۔تو اس کا بدلہ جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا، اور اللہ کا غضب ہے اس پہ، اور اس کی لعنت ہے اس پہ، اور اس کے لیے اس نے ایک عظیم عذاب تیار کر رکھا ہے۔”  یہ کوئی ہمارے پروردگار کا اندازِ کلام نہیں کہ ایک جرم پر درجنوں وعیدیں سناتے پھریں۔ بلکہ اللہ کا کلام تو لفّاظی اور مبالغہ سے یکسر پاک ہے۔ یہ جو ایک نہیں پانچ پانچ غضبناک جملے ہمارے رب نے رقم کیے ہیں، اگر اس ضمن میں آپ کی حسّاسیّت میں اضافہ نہ کر پائے ہیں تو ہماری گزارش ہے کہ اسے بار بار پڑھیے۔ شائید جن جنگی حالات میں آپ کو پچھلی کئی دہائیوں سے رہنا پڑا ہے، یا اس حکم کی پیہم خلاف ورزی کے باعث جو زنگ آپ کے دلوں پر لگ گیا ہے، وہ اس کی تاثیر میں مانع ہے۔ وگرنہ پورا قرآن پڑھ ڈالیے، آپ کو کسی جرم پر اتنی بڑی وعید نظر نہ آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جن جرائم کی سزا میں حکومت کا اسے لینا روا رکھا گیا ہے وہ بھی اللہ اور اس کے رسول نے بالکل معیّن کر دیے ہیں۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان یا ایک گروہِ مسلم کا دوسرے گروہِ مسلم کی جان و مال کے خلاف سزاءً اقدام جائز ہے یا نہیں، تو اس مسئلے کو اللہ تعالی نے سرے سے لائقِ بیان ہی نہیں سمجھا۔ بلکہ جیسے سود کے معاملے پر "أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا”[4] کہہ کر بات ختم کر دی، بالکل اسی طرح آپس کی جنگ پر "وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ”[5] کے تبصرے پر بات تمام کر دی۔ بلکہ اس مؤخر الذکر آیت کے سیاق پر ایک نظر ڈالنے سے ہی  پتہ چل جاتا ہے کہ یہ تو اللہ کے بنیادی حکم سے کھلم کھلا رو گردانی ہے، کتاب کے ایک حصے کو ماننا اور دوسرے سے انکار کرنا ہے، جس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہے۔ ہم آپ سے پوری راستی سے پوچھتے ہیں کہ کیا جس اللہ کی خاطر آپ مسلمانوں کے خون کو حلال کیے ہوئے ہیں، اور پھر اس پر ثواب کے ترتب کے خواستگار ہیں، کیا اسی اللہ کے حکم سے آپ کو کوئی دلچسپی نہیں؟ اس لیے اس معاملے میں آپ سے جو تقصیر ہو رہی ہے اس پر نظر ثانی کیجیے۔ خونِ مسلم کی حرمت کے تفوّق و موزونیت کو خدارا گنتی میں لائیے، اور اسے بہانے میں کفار کے نادانستہ معاونین نہ بنیے۔ آپ اگر آج بھی پلٹتے ہیں تو یقین جانیے اللہ کی مغفرت بہت وسیع ہے۔ وہ، آپ کے دل میں اگر خلوص ہے، تو اس پر پوری طرح مطّلع ہے، اس لیے بعید نہیں کہ اس ضمن کی سب گزشتہ کوتاہیوں کو بھی نیکیوں سے بدل ڈالے۔ اور اگر بات سمجھ میں آنے کے باوجود کوئی شخص ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اللہ کا انصاف بے لاگ ہے۔ وہ اپنی اس اشدّ الحرمات کو "غلط فہمی” یا "قیاس” کی بنیاد پر حلال کرنے والوں کے ساتھ کیا رويّہ اختیار کرتا ہے، وہ عنقریب دیکھ لے گا۔

2۔ ارتداد اور تکفیر

مسلمانوں کو بات بات پر کافر قرار دینے کا جو طریقہ آپ نے اختیار کر رکھا ہے، سرا سر محیّرُ العقول ہے۔ اللہ کی اس اتنی بڑی حرمت کے بارے میں آپ کے رویّے پر ہم اور کیا تبصرہ کر سکتے ہیں سوائے اس کے کہ "بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا”[6]۔ آپ کے وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے فتوے ہم نے پڑھے ہیں، اس لیے جانتے ہیں کہ قرآن پاک کی "ارتداد و کفر” سے متعلق کچھ آیات کو ہی آپ نے  اس مہلک مشروب کی کشید کا منبع بنایا ہے۔ آپ سے پہلے بھی کچھ  گروہ یہ استدلال امت کے سامنے ہر زمانے میں پیش کرتے رہے ہیں، جس کا ابطال بھی ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ یقین جانیے، یہ استدلال حد درجہ ناقص بلکہ علمی ناپختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ویسے تو ہم ان میں سے ایک ایک آیت کے متعلق آپ کے اشکالات رفع کریں گے، مگر ایک موٹی بات ہی اگر آپ سمجھ جاتے ہیں تو باقی سب نشیبی ڈھلان ہے۔ وہ یہ کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی آپ کسی عمل پر یہ لکھا پاتے ہیں کہ "یہ تو کفر ہے” یا "ارتداد ہے” تو فورا ً سمجھ بیٹھتے ہیں کہ فلاں شخص دائرۂِ اسلام سے خارج ہو گیا۔ ارے بھائیو! ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ تو اس "حقیقی کفر” کا بیان ہوتا ہے جو "اللہ کے ہاں” معتبر ہو گا۔ اس کا دُور دُور تک کوئی تعلق "قانونی کفر” سے نہیں۔ اللہ کی ذات ظاہر و باطن کی تفریق سے ورا، اسی لیے کفر و ایمان ہی کے الفاظ کو اپنی لغت بنانا پسند کرتی ہے۔ اس کے ہاں فیصلہ اسی کے مطابق ہو گا اور ہونا بھی چاہیے۔ اسی طرح بعض گناہوں کے نتیجے میں ایمان کی صلبی کی جو وعید روایات میں آئی ہے وہ بھی "حقیقت” کے اعتبار سے ہے نہ کہ ہمارے اور آپ کے اطلاق کے لیے، کہ اس کے تتبع میں کرنے والوں کو مرتد قرار دے کر قتل کرتے پھریں۔ یہ بات بالکل بدیہی اور قرآن کے ایک عام قاری کو بھی معلوم ہے۔ لیکن آپ کو اگر یہ بات بھی ثقیل لگے تو پھر ہم آپ کی توجہ قرآن کے سرکاری ترجمان، یعنی نبی ﷺ، کے عمل کی طرف مبذول کرائیں گے اور یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ اگر اس سے مراد وہی ہوتا جو آپ کا سوءِ فہم ہے تو ان منافقین کا کیا حال ہوتا جن کے تو براہ راست متعلق یہ آیات اوّلاً نازل ہوئی تھیں۔ چنانچہ آئیے ہم تدبّر کی نگاہ سے ان آیات پر بحث و تمحیص کر کے اللہ کے کلام کو اللہ کے اندازِ کلام اور رسول اللہ کی تشریح کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ جو معصومانہ ذوقِ تعبیر اس جان لیوا نظریے پر منتج ہوا ہے، اور کلمۂِ شہادت کی ڈھال کی اس ارزانی کا باعث بنا ہے۔۔۔ہمیں اس کی تصحیح کا موقع دیجیے۔

3۔ غلبۂِ دین کی جدوجہد

آپ کا دعوٰی ہے کہ آپ دین کے غلبہ کی جدوجہد میں بر سرِ پیکار ہیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ قتلِ مسلم سے بھرپور یہ نادر طریقہ آپ نے کہاں سے سیکھا؟ ہمارے پاس انبیا کی جو تاریخ قرآن کی زبانی موجود ہے، بلکہ ہمارے پیغمبر و ختم الرُّسُل کی سیرت کی صورت میں محفوظ ہے، اس میں تو دین کے غلبہ کا یہ طریقہ مطلقاً معدوم ہے۔ معاذ اللہ، کہیں ان کے پاس فہم و فراست یا ہمت و جرأت  کی کوئی کمی تو نہیں تھی کہ آپ کے دین پھیلانے کے اس طریقہ کار کو کبھی بھی اختیار نہ کیا؟ اللہ نے مسلمان تو کجا، معاہدین سے بھی جنگ کو، خواہ وہ مسلمانوں کو ان کے مظالم سے بچانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، ہمیشہ استثنا دیا ہے[7]۔ خود ہمارے نبی ﷺ، جن کا مقصدِ بعثت ہی اللہ تعالی نے غلبۂِ دین بتایا ہے، نے بھی جس پہلی اسلامی ریاست کی بنا مدینہ میں رکھی، خالصتاً تبلیغ کے ذریعے وہاں کے شہریوں کی آمادگی اور پوری رضامندی سے رکھی۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ نبی ﷺ کی جو جنگیں اس کے بعد کفار و مشرکین۔۔۔نہ کہ مسلمانوں۔۔۔ سے ہوئیں، آپ کو ان سے غلطی لگی ہے۔ اس خطا کے ازالہ کو بھی ہم آپ سے تفصیلی مکالمہ کرنے کے لیے تیار ہیں مگر پہلے کی طرح اس ضمن میں بھی اگر آپ ایک موٹی بات پر ہی توجہ دے لیں تو سرِ دست کفایت کرے گا۔ وہ یہ کہ ان "فرائضِ منصبی” میں سے بھی کسی مقصد کے حصول کی خاطر کبھی اللہ کے کسی "حرام” کو رسول اللہ نے "حلال” نہیں کیا۔ بلکہ جہاں یہ ناگزیر ہوا، یعنی فتح مکہ کے دن، تو "استحلالِ مَحارم”[8] کے بعید مگر ممکنہ میلان کو بھانپتے ہوئے صاف فرما دیا کہ "مکہ کو حرام کرنے والا اللہ ہے نہ کہ لوگ، اس لیے کوئی شخص بھی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو نہ اس میں خون بہا سکتا ہے اور نہ اس کے درخت کاٹ سکتا ہے۔ پھر اگر کوئی اللہ کے رسول کے اس عمل سے دلیل پکڑنا چاہے تو اس سے کہہ دینا کہ اللہ نے اپنے رسول کو ہی اس کی خاص اجازت دی تھی، تمھیں تو اس کی کوئی اجازت نہیں دی، اور میرے لیے بھی یہ اجازت دن کے ایک حصے تک ہی محدود تھی اور اب یہ ہمیشہ کے لیے پھر سے اپنی پچھلی حرمت کو لوٹ گئی ہے۔”[9] ذرا سوچیے! جس کا فرض منصبی ہی غلبۂِ دین ہو اور وہ اللہ کا رسول بھی ہو اللہ کی حرمت کو اپنے فرض ہی کی ادائیگی کے لیے حلال نہ کر سکتا ہو، مگر ہم اور آپ جیسے ادنیٰ امتی مسلمان کے خون جیسی ابدی حرمت کو حلال کر لینے میں اس قدر جری ہو جائیں، یہ کہاں کی دین فہمی ہے؟ غلبۂِ دین ایک اعلی مقصد ہے، مگر اس کی جدوجہد کا راستہ معین کرنے میں اللہ ہی کی حرمتوں کو پامال کر لینا اگر روا ہے، تو قرآن و سنت میں اس حکم کی نشاندہی ضرور کیجے۔

4۔ امت کی حالت اور انبیا کا طریقہ کار

آپ نے امت کو انحطاط میں پایا اور اس سے خلاصی کا طریقہ یہ سمجھا کہ بس کفر کے ساتھ ٹکرا جاؤ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کے اندازے میں یہ کارآمد طریقہ ہے جس کو اپنانے سے امت عظمتِ رفتہ کو دوبارہ پا سکتی ہے؛ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے فہم کے مطابق یہی قرآن و سنت کا فتوٰی ہے۔ جہاں تک اس جذبے کا تعلق ہے تو یہ تو بلا شبہ لائقِ تحسین ہے۔ مگر جہاں تک زوال سے نجات کے لیے آپ کے اختیار کردہ طریقے کا تعلق ہے تو ہم آپ سے پورے خلوص سے عرض کرتے ہیں کہ یہ حکمت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے مجوّزہ طریقہ کے بھی بالکل خلاف ہے۔ ذرا اپنی امت پر ایک نظر ڈالیے۔ علم و عمل کی کونسی ایسی گراوٹ ہے جس سے یہ بچی ہو؟ اور جہاں تک دینی تعلیمات کا تعلق ہے تو ان سے تو پوری امت من جملہ بیگانہ ہی نہیں بلکہ عدمِ التفات کا بھی شکار ہے۔ ایسے مواقع پر جب کبھی قرآن کے بیان کے مطابق انبیا اپنی اقوام کے پاس آئے ہیں تو کیا انہوں نے اپنے لوگوں کو یہی طریقہ سکھایا ہے جس کے آپ علمدار ہیں، یا تعمیر و تربیت کی ایک مہم برپا کی ہے تا کہ لوگوں کی اخلاقی تطہیر اور علمی اعجاز کی تحصیل ممکن ہو سکے؟ نہ موسیٰؑ نے اپنی قوم کو فرعون سے ٹکرانے کا حکم دیا، نہ عذیرؑ نے  کسریٰ کے خلاف جہاد کا نقّارہ بجایا اور نہ عیسیٰؑ نے ہی رومیوں پر دھاوا بولا۔ اور آپ تو صرف کافروں سے ہی نہیں بلکہ اپنی امت سے بھی جہاد کرنے پر مصر ہیں۔ متّقی و دیندار حکمرانوں کے متلاشیوں سے ہم شدید غم و غصے سے پوچھتے ہیں کہ کیا عثمانؓ و علیؓ جیسی رعایا نمودار ہو چکی جو ابو بکرؓ و عمرؓ جلوہ فگن ہوں؟ ہم دعوٰی کرتے ہیں کہ جتنا درد آپ کو امت کی فلاح کا ہے ہمیں بھی ہے۔ تو آئیں عقل و شریعت سے فتوٰی مانگتے ہیں کہ فلاحِ امت کا کونسا طریقہ اللہ تعالی کو مطلوب اور کونسا فساد و ہلاکت کا نسخۂ کیمیا ہے۔

5۔ کیا آپ اللہ کے رسول ہیں؟

ہم نے آپ کے فتاویٰ میں جن قرآنی آیات کے غلط اطلاقات بار بار دیکھے ہیں وہ سب ایک اصولی غلطی کے اثرات ہیں۔ وہ یہ کہ اللہ کے رسول کے مخالفین کے متعلق جو وعیدیں قرآن میں آئی ہیں اور جو سزائیں بیان ہوئی ہیں آپ نے ان کے معاملے میں بڑی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا ہے۔ اول تو ان آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کرنا ہی کلام کے منشا کے خلاف اور بے بنیاد ہے، مگر یہ بات تو ہم پہلے کر چکے ہیں۔ دوسری بات زیادہ اہم ہے، جو اس وقت ہمارا موضوع ہے، کہ اللہ کے رسول کے "حق کا معیار” ہونے کی توثیق اللہ براہ راست کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے رسول اور اس کے گروہ کے خلاف ہونا دراصل اللہ کے خلاف ہونا ہوتا ہے، اور بلا خوفِ تردید ان سزاؤں کا باعث بنتا ہے جو اللہ اشارہ کر کے کسی گروہ کو دیتے ہیں۔ اس کے بر عکس ہم سب تو عام انسان ہیں۔ نہ ہم یہ دعوٰی کر سکتے ہیں کہ ہم حق کا معیار ہیں اور نہ ہی آپ، کہ اس سے اختلاف کرنے والے آپ سے آپ اُنہی سزاؤں کے مستحق قرار پائیں جو اللہ کے رسول سے اختلاف کرنے والوں کو اللہ نے دی تھیں۔ چنانچہ یہ کیسے ہوا کہ اب چاہے کوئی عالم آپ کو غلط کہے تو وہ واجبُ القتل اور اگر کوئی صحافی اختلاف کرے تو وہ مستوجبِ کفر و سزا؟ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ حق کا معیار ہیں؟ کیا آپ اللہ کے رسول ہیں؟ ہم غلط تو ضرور ہو سکتے ہیں مگر آپ اللہ کے رسول ہر گز نہیں ہو سکتے، کہ اختلاف سزا یا موت کو مستلزم ہو۔

6۔ خوارج کون؟

اگر اطلاقات کی بات ہو ہی رہی ہے تو ہم جاننا چاہیں گے کہ کیا آپ نے خوارج کے باب کی روایات کا اطلاق کبھی خود پہ کر کے دیکھا ہے؟ یہ برا منانے کی بات نہیں کیونکہ قرآن و حدیث میں بیان ہونے والی نشانیاں اور ان پر وعیدوں کا اطلاق خود صحابہ اپنے پہ کر کے دیکھا کرتے تھے کہ کہیں کوتاہی میں بیان کردہ عوارض انہیں تو لاحق نہیں ہو گئے۔ حضرات عمرؓ و حنظلۃؓ کے اپنے متعلق نفاق کے احتمال میں کیے گئے استفسار تو آپ کو معلوم ہی ہوں گے۔ چنانچہ خوارج کے متعلق وارد ہونے والی روایات پڑھیے اور غور کیجے کہ آپ پر ان کے اطلاق میں کیا چیز مانع ہے؟ کونسی ایسی نشانی ہے جو آپ پر چسپاں نہیں ہوتی؟ ہم بھی خود پر ان نشانیوں کا اطلاق کرتے ہیں اور اگر اور بھی کوئی روایات آپ کی نظر میں ایسی ہیں جن کے تحت ہم معتوب ٹھہرتے ہیں تو ان کو بھی زیرِ بحث لاتے ہیں تا کہ آپ اس اطلاقی کاوش کو یکطرفہ نہ سمجھیں۔ مگر آپ کو پھر ہمیں بتانا ہو گا کہ قومِ عاد و ثمود کے مانند قتل کے نبوی حکم پر اگر کوئی عمل پر اصرار کرتا ہے تو وہ کیونکر غلط ہے۔

7۔ خروج کیوں؟

آپ نے حکومت و ریاست میں فرق کرتے ہوئے اس بات کا دعوٰی کیا ہے کہ آپ کا خروج حکومت کے خلاف ہے نہ کہ ریاست کے۔ ہم آپ کو بڑے ادب سے آگاہ کرتے ہیں کہ یہ تقسیم ناقص ہے۔ یہ تقسیم تب تو ضرور ہو سکتی ہے جب حکمران عوام کی تائید سے محروم، یا جبر و استبداد سے حکومت پر قابض ہوں۔ مگر تب ہر گز نہیں ہو سکتی جب حکومت تمام عوام کی مرضی و منشا سے معرضِ وجود میں آئی ہو، اور ان کی حمایت سے محرومی کی صورت میں معطل کی جا سکتی ہو۔ حسینؓ و ابن زبیرؓ وغیرھما کے خروج پہلی ہی نوعیت کی حکومتوں سے تھے۔ ہمارے ملک میں بھی یہ تقسیم آمریت کے ادوار میں اگر آپ کرتے تو بلا شبہ ہو سکتی تھی، جمہوریت کے دور میں تو نہیں۔ تمام ریاست کی عوام نے جنہیں اپنی سیادت پر معمور کیا ہو، اور اپنی نمائندگی کا بنشاط و رضا اختیار سونپا ہو، آپ اس گروہ میں اور ریاست میں تفریق کیسے کر سکتے ہیں؟ موجودہ دورِ حکومت میں ایسا بٹوارا ممکن نہیں، چنانچہ آپ کی جنگ بہر صورت ریاست کے ہی خلاف شمار ہو گی۔ تو آپ پوری مسلمان امت سے خروج کو کیوں روا رکھتے ہیں؟ اور اگر پوری امت آپ سے اختلاف کرے گی تو کیا پوری امت قتل کی حقدار ٹھہرے گی؟

8۔ خلافت و جمہوریت

آپ کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ آپ خلافت کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ بھی، اگر حدودُ اللہ کی پاسداری سے عبارت ہو تو، ایک بہت قابل ستائش جذبہ ہے۔ مگر کیا آپ کا دعوٰی یہ ہے کہ خلافت کے مقابلہ میں ہر نظامِ حکومت طاغوتی اور کفریہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ملوکیت، جو سر تا سر روحِ اسلامی کے خلاف ہے، تو لازماً کفریہ گردانا جاتا۔ مگر جیسا کہ آپ خوب جانتے ہیں نہ ایسی رائے ہمارے اسلاف کی تھی اور نہ ہی اس دور کے جید علما کی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا تو درست ہو گا کہ یہ ایک اعلی طریقۂِ  حکومت ہے، مگر یہ کہنا سراسر غیر منصفانہ ہو گا کہ باقی سب نظام ہائے حکومت کافرانہ ہیں۔ یہ اعلی و ادنی کی بحث تو ہو سکتی ہے، اسلام اور کفر کی ہر گز نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان باقی نظام ہائے حکومت میں سے بھی جمہوریت سے آپ کو کچھ خاص ہی مخالفت ہے۔ آپ اس کو کفریہ نظامِ حکومت گردانتے ہیں اور شائید اسی لیے اسے بزورِ شمشیر بدلنے کے قائل ہیں۔ بلکہ غالباً طریقۂِ حکومت کے اسلامی اور کفریہ ہونے کی بحثیں آپ نے اصلاً اسی کے پسِ منظر میں چھیڑیں ہیں۔ اس سلسلے میں طرفین کے درمیان تجزیاتی تحریروں کا تبادلہ اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور شائید آئندہ بھی ہونا چاہیے، کہ یہ ایک علمی مسئلہ تو بلا شبہ ہے۔ مگر چونکہ آپ نے اسے ایک زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ڈالا ہے اور مسلمانوں کی گردنوں پر پیر رکھ کر اس کے قیام کے لیے سرگرداں ہو گئے ہیں، تو پھر آئیے اپنی بحث میں ایک دوسرے زاویے کا اضافہ کرتے ہیں۔ آپ ہمیں یہ بتائیے کہ آپ کے فہم کے مطابق موجودہ نظام میں وہ کونسی جوہری تبدیلیاں ہیں جن کو کر دینے سے ہم خلافت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ خلافت کی روح، جسے اللہ نے "وَأَمْرُهُمْ شُورٰى بَيْنَهُمْ” (یعنی ان کا نظام ان کی باہمی مشاورت پر مبنی ہوتا ہے) کے جامہ میں ملفوظ کیا ہے، اور جسے خلیفۂِ ثانی عمر بن الخطابؓ نے "عَن مّشوَرَۃٍ مِّنَ المُسلمین” (یعنی سب مسلمانوں کے مشورہ سے وجود میں آنے والی حکومت) سے تعبیر کیا ہے، اس روح کو جسم دینے کی کوئی بہتر سکیم اگر آپ نے تیار کر لی ہے، تو نہ صرف یہ کہ ہم اسے سننے کے مشتاق ہیں، بلکہ اس کے نفاذ کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں آپ کے معاون بننے کا بھی یقین دلاتے ہیں۔

9۔ آئینِ پاکستان اسلامی ہے کہ نہیں

پھر آپ نے اپنی بعثت کی ایک توجیہ یہ بھی پیش کی ہے کہ آئینِ پاکستان اسلامی نہیں۔ اس کی ایک وجہ، جتنا ہم سمجھ سکتے ہیں، آپ کی جمہوریت کے متعلق رائے ہے۔ اس ضمن میں بھی ایک موٹی بات یہ ہے کہ "حاکمیت عوام کی ہے” جیسے جملے جو آپ کی گراں بارئِ طبع کا باعث عموماً بن جاتے ہیں، کو بھی آپ نے سمجھنے میں کوتاہی کی ہے۔ مثال کے طور پر اسی جملہ کو لے لیجیۓ۔ یہ جملہ "حاکمیت خدا کی ہے” کے تقابل میں نہیں بلکہ "حاکمیت کسی خاص خاندان یا مخصوص طبقہ کی ہے” کے مقابل میں بولا جاتا ہے۔ جس طرح آپ کے یہ کہنے سے کہ "یہ گھر میرا ہے” یا "یہ گاڑی میری ملکیت ہے” میں خدا کی ملکیت کی نفی مراد نہیں ہوتی جو آپ کو کافر بنا ڈالے، بالکل اسی طرح یہ مراد یہاں بھی نہیں ہے۔ مگر جہاں تک اس جملے کا بھی تعلق ہے، تو ہمارے آئین میں تو اس کی مراد سے قطع نظر بھی حاکمیت کو اللہ ہی کے حق میں تسلیم کیا گیا ہے۔ خیر اس بحث کو تو ہم نے ایک مستقل باب دے دیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آئین میں مرقوم اصولوں کے اطلاق میں، اور نتیجتاً قوانین کی تدوین میں کہیں نادانستہ اور کہیں دانستہ، شریعت سے، بلکہ خود آئین سے بھی، انحراف کیا گیا ہے۔ تو اس بات سے تو ہم پوری طرح متفق ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں ہماری ذمہ داری جس قدر اللہ نے مقرر کی ہے وہ اتنی ہی ہے کہ ہم اس پر حکمرانوں اور عوام دونوں ہی کی توجہ مبذول کرائیں۔ انہیں شرعی قوانین کے درست نفاذ کی تشویق دلائیں اور انحراف کی صورت میں انذار کریں۔ یہ کام ہم کر رہے ہیں، مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس وادی کی تقطیع میں ہمیں ابھی بہت سے نشان راہ عبور کرنا ہیں۔ حکمران تو عوام ہی کا عکس ہوتے ہیں۔ اور ہمارے عوام کی دین سے شناسائی ناگفتہ بہ ہے۔ ہماری کوششیں اگرچہ بشری ہونے کی حیثیت سے تو پہلے بھی ناقص ہی تھیں، اور خیرُ القُرون سے چودہ صدیوں کے بُعد نے اور مغربی استعمار کی عالمگیر یلغار نے اس مشق کو مزید گھمبیر بنایا تھا۔ مگر یہ جو آپ نے "مخاطبین کی فلاح مخاطبین کو مار کے” کا طریقہ اختیار کیا ہے، اس سے تو ہمارا بہت سا کیا دھرا اکارت ہو چکا اور بہت سا روز ہو رہا ہے۔ جتنی سعی پہلے ہم کر رہے تھے اب تو اس کا بیشتر حصہ بد گمانی، بلکہ نفرت، کی ان دیواروں کے انہدام میں صرف کرنا پڑے گا جو آپ کے اس طریقہ سے مذہبی طبقہ اور عوام کے درمیان حائل ہو گئی ہیں۔ اس طریقہ کے اختیار کے لیے بھی آپ نے جن آیاتِ قرآنی کو بنیاد بنایا ہے، ان میں بھی "حقیقی” اور "قانونی” کفر کی مساوات میں آپ سے وہی سہو ہوا ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے۔ ہم اس ضمن میں آپ کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر دینداری خود کو جذبات کے آگے بے لگام چھوڑ دینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے بالکل برعکس جذبات کو برانگیختہ کر دینے والے مواقع پر بھی خود کو قابو میں رکھ کر اللہ اور اس کے رسول کی حدود کی پاسداری کا نام ہے۔ اس ضمن میں ہماری ذمہ داری، بلکہ اقدام کی نوعیت اور اجازت، کی حد کتنی ہے کا ثبوت ہمیں قرآن سے پیش کرنے دیجیے۔ "اصحابِ سبت” کے واقعہ سے، مثال کے طور پر، آپ خود اندازہ کر لیں کہ ناجی لوگوں کی کیا صفت بیان ہوئی ہے۔  چنانچہ آئیے، آپ اور ہم مل کر اس اعلی مقصد کے حصول میں ایک دوسرے کے مدد گار بنیں۔ اور کسی ایسے طریقے کو جو اللہ کی محرمات کی تحلیل پر منتج ہو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور بس اسی طریقے کو اختیار کریں جو انبیا کے طریقے اور رسول اللہ کی سنت سے ماخوذ ہو۔

10۔ امریکہ کی جنگ میں حصہ داری

امریکہ کی جنگ میں جو معاونت ایک آمر نے امریکہ سے کرنے کا فیصلہ کیا تھا ہمیں بھی آپ کی طرح اس سے اختلاف تھا اور ہے۔ ہمارے رائے میں زیادہ سے زیادہ ہمیں اس جنگ میں عدم وابستگی کی جگہ پر کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ مگر وہ حکومت اب بدل چکی اور موجودہ حکومت اس معاونت کو نجماً نجماً نابود کرنے میں مصروف ہے۔ بہر حال ہم یہاں سیاسی فیصلوں کی توثیق و تردید کرنے نہیں آئے۔ آپ نے چونکہ اس بنیاد پر تمام معاونین کی تکفیر اور پھر تقتیل کا نظریہ اختیار کیا ہے، پس یہ ہمارا کام ہے کہ اس امر کی شرعی حیثیت واضح کریں۔ تو ہم اپنا پورا فقہی علم بروئے کار لاتے ہوئے پوری دیانت سے یہ بات کرتے ہیں کہ اس جنگ میں، یا کسی جنگ میں، نہ کفار کی معاونت کا اسلام و کفر کی بحث سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی کفار کو حوالگی تکفیر کو لازم ہے کہ تقتیل پر منتج ہو۔ یہ گناہ و ثواب کا مسئلہ تو ضرور ہے، عزیمت و رخصت کا بھی ہو سکتا ہے، مگر ارتداد کا ہر گز نہیں۔ حاکم کو اختیار ہے کہ مال و اسباب کے فدیہ سے، یا چند نفوس کی حوالگی سے، اگر امت کے بڑے حصہ کو کفار کے ضرر سے بچایا جا سکتا ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ کوئی ہلکا فیصلہ ہے اور نہ ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس پر اس کی پوچھ نہیں ہو گی۔ بلکہ اس سے بھاری کوئی فیصلہ نہیں اور اسے اللہ کے حضور اس کا جواز دینا ہو گا۔ مگر حاکم یا اس کے ماتحت ادارے اس کے نتیجے میں کافر ہو جائیں، اس کی کوئی بنیاد دین میں ہمارے علم کی حد تک نہیں۔ آپ کے پاس ہے تو پیش کیجے۔ ہم پورے خلوص سے اس پر غور بھی کریں گے اور اگر آپ کی دلیل سے قائل نہ ہو پائے تو پوری تفصیل سے اپنا استدلال واضح کریں گے۔ مگر آپ سے بھی التماس ہے کہ اگر مخالف استدلال میں وزن پائیں تو صداقت کا مظاہرہ کریں۔ ہماری رائے میں یہ آپ کی کم عمری اور نا تجربہ کاری ہے کہ بین الاقوامی سیاست کی پیچیدگیاں اور طاقت کے عدمِ توازن کو خاطر میں نہ لا پائے ہیں۔ نظریۂِ مصلحت آپ استعمال کریں تو ٹھیک، حکومت کرے تو کافر؟ ہاں! ایسے مواقع پر جن کی حوالگی پر امت کی بقا منحصر ہوتی ہے ان کو اللہ کے رسول نے صبر و استقامت کی ہی تلقین کی ہے جو ہم آپ کو بھی کرتے ہیں۔

11۔ دوسرے فرقوں اور غیر مسلموں کا قتلِ عام

یہود ببانگِ دہل اللہ کے ایک پیغمبر کو ولد الزّنا کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ عیسائی علی الاعلان اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا نبی ﷺ نے اس بنیاد پر ان کے قتلِ عام کا حکم کبھی دیا؟ نہیں بلکہ صحابہؓ نے بھی ان کو اپنی رعایا بنا کر امن و سکون کے ساتھ رہنے کی پوری آزادی، اور اپنی عبادت گاہوں میں مراسم ادا کرنے اور محافل منعقد کرنے کی بھی پوری سہولت ہمیشہ مہیا کی۔ یہ اس لیے ہوا کہ موحدین کو اگر کوئی مغالطہ لگ جائے، خواہ وہ کتنا ہی احمقانہ کیوں نہ ہو، اور وہ عقائد کی کسی غلطی میں مبتلا ہو جائیں تو ان پر ان کی غلطی واضح کرنے کا کام تو ضرور کرتے رہنے کا حکم شریعت نے دیا ہے، مگر ان کا ارتداد و تکفیر کر کے انہیں واجب القتل قرار دینا قرآن و سنت کے ماننے والوں کے لیے تو قطعاً  اجنبی ہے۔ ہمارے ایک خاص فرقے کے خلاف جو آپ نے قتلِ عام کا محاذ بنا ڈالا ہے، ہم پوچھ سکتے ہیں کہ اس نے ان کاموں میں سے کونسا کام زیادہ قبیح کیا ہے؟ ہم جانتے ہیں وہ کچھ ایسے عقائد رکھتے ہیں جن سے آپ کو اور ہمیں اختلاف ہے، بلکہ کچھ تو ہمارے غم و غصے کو انتہا تک پہنچاتے ہیں، مگر وہ جتنے بھی اشتعال انگیز ہوں ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے اس حد کے اندر رہنا ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتلائی ہے۔ اور وہ یہ کہ بہرحال وہ ایک اللہ اور اس کے رسول کے ماننے والے، نماز روزہ حج زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ کم سے کم اتنی آزادی تو ہمیں انہیں دینی ہی ہے جتنی اہل کتاب کو اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہؓ نے ہمیشہ دی ہے۔ اور اسی طرح اِن کی جان و مال کی حفاظت بھی اسی طرح یقینی بنانی ہے جس طرح اُن کی۔ مگر چاہے یہ بات آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے، یہ بات تو بہرحال آپ کو ماننی پڑے گی کہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اگر کسی بدترین مشرک کو بھی امان دے دے تو کسی شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کا اختیار نہیں رہتا۔ مندرجہ بالا سب گروہوں کو امان جب حکومت نے دے دی تو پھر آپ کے پاس ان کے قتل کا کونسا شرعی جواز ہے۔ اور پھر اس پر انتہا یہ کہ کسی بھی ریاست میں سزا دینے کی اجارہ داری تو نظمِ اجتماعی ہی کو ہوتی ہے۔ کیا اگر آپ کی حکومت کہیں قائم ہو جائے تو اس میں کسی کو بھی کسی دوسرے پر سزا کے نفاذ کا اختیار ہو گا؟

میں نے جو ذیلی عنوانات یہاں قائم کیے ہیں وہ خاص اس مقصد سے چنے ہیں جو ریاستِ پاکستان کے ساتھ محاربین کی جنگ کے سدّ باب کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی نکات میرے ذہن میں ہیں جن کا تذکرہ غالباً بے فائدہ نہ ہوتا۔ مگر نسبتاً کم وقعتی ہونے کی وجہ سے اور اس احساس سے کہ مقالہ بہت طویل ہو چکا ان سے فرو گزاشت کی ہے۔ میری رائے میں، چاہے ان محاربین سے مذاکرات آگے بڑھیں یا نہ بڑھیں ان استدلالات کو نہ صرف سامنے آنا چاہیے بلکہ یہ اتنے معروف ہونے چاہئیں کہ ان محاربین کے وہ پڑھے لکھے معاونین جو ہمارے درمیان محجوب مگر موجود ہیں، یا وہ جو محاربین کے استدلال سے متاثر ہو چکے یا ہونے والے ہیں، ان کی رسائی ان تک ممکن ہو سکے۔ میرے اندازے میں تو یہ اس وقت امت کی بقا و ہلاکت کی کشمکش ہے اس لیے اگر اس کے لیے ٹی وی پر روز مجوّزہ علما کو ان دلائل کے بیان کے لیے مستقل وقت دینا پڑتا ہے تو بھی گراں بارئِ خاطر کا باعث نہ ہونا چاہیے۔ یہ ایک ابتدائی کوشش ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اس کی نوک پلک سنوارنے میں اپنے تبصروں سے مدد فرمائیں۔

[1] http://quran.com/16/125

[2]اس موقع پر مذاکرین کو یہ آیت اور اس کا سیاق یاد دلانا موزوں لگتا ہے: "وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ”

[3] پوری آیت کچھ یوں ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآَخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا” ترجمہ: اے ایمان والو، اگر تم واقعی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کی اطاعت کرو (اس کے) رسول کی اطاعت کرو اور ان کی بھی جو تم میں سے معاملات کے ذمہ دار بنائے گئے ہوں- پھر اگر کسی معاملے میں تنازعہ ہو جائے تو (فیصلے کے لیے) اُسے اللہ اور (اُس کے) رسول کی طرف لوٹا دو۔ یہی طریقہ مناسب اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہے۔

[4] http://quran.com/2/275

[5] http://quran.com/2/84-85

[6] یعنی تمہارے جیوں نے ایک بڑی بات تمہارے لیے ہلکی بنا دی

[7] http://quran.com/8/72

[8] حرام چیزوں کو حلال کرنے کا رویہ

[9] http://sunnah.com/bukhari/28/12

Advertisements

2 Comments Add yours

  1. waqar نے کہا:

    good one sir thats what we all were waiting sir one thing can we ask them to declare there source of income in this kind of dialogue as i think it cant be legitimate one

    1. Bold and Bearded نے کہا:

      We can, but that won’t aid us or them in discovering/declaring their war to be unjust. Coz if their war is just, they could be getting income from infidals and worst enemies of Islam for all we care, but still can’t be scrutinized for that.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s