مذاکرات کا صحیح طریقہ

جس چیز کا خوف تھا وہی ہوا۔ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات شروع ہوۓ، شروع تو ہونے ہی چاہیے تھے، مگر فہم و فراست کی جس اساس سے انہیں پھوٹنا اور معاملہ شناسی کی جن گہرائیوں سے انہیں امنڈنا چاہیے تھا انہیں بظاہر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جلد بازی اور خام خیالی کے جن امراض کا ماتم  میں نے گزشتہ مقالے میں اس امید سے کیا تھا کہ اس نازک معاملے میں ان کا اعادہ نہ ہو گا ،کیا کیجے کہ انہیں کے امتزاج میں  سے بنا اٹھانے کا کام لیا گیا ہے۔  جو لوگ سرے سے مذاکرات کے حق میں ہی نہیں ان سے گزارش ہے کہ اس مقالے میں مذاکرات کی تصویب پر جو بحث میں نے کی تھی اس پر ایک نظر ڈال لیجے۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مذاکرات خوشامد و تشفّی محوری نہیں بلکہ عقل و شریعت محوری ہونے چاہیيں۔ کیونکہ جو لوگ بھی ان مقاتلین کے استدلال سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ نظریۂ قتل و ‏غارت گری قرآن و سنّت  کی پاکیزہ تعلیمات سے ہی برآمد کرتے ہیں۔ اپنی اس جنگ میں انہی تعلیمات کو بزعم خود انہوں نے بنیاد بنا رکھا ہے۔   اس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان مذاکرات کا محور اسی لیے ان کی فقہی غلطیوں کی تردید و تصحیح اور سیاسی و قانونی ناپختگیوں  کا تدارک ہونا چاہیے نہ کہ مطالبات کا تسلیم و انکار۔ حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی کے اراکین کے حسن انتخاب ہی سے یہ بات واضح ہے کہ ان کے ہاں پہلی ہی نوعیّت کے مذاکرات مطلوب اور  وہی منتج  بہدف  متصوّر ہیں۔

بہر حال یہاں مجھے اعتراضات کی چاشنیوں سے کچھ لطف اٹھا کر چلتے نہیں بننا کہ انہی سے سطور رنگ دوں، بلکہ ارباب حلّ و عقد کو حل کی طرف متوجّہ کرانا ہے۔ ہم میں سے جس شخص کو بھی معاملے کے ادراک کا دعوٰی ہے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہماری قوم کی بقا کی جنگ کے اس  مہیب وقت میں چپ سادھنے کی بجاۓ  اپنا جتنا حصّہ ڈال سکتا ہو ضرور ڈالے۔ چنانچہ میرا حصّہ،  مذاکرات کا صحیح طریقہ کار،  ذیل میں تفصیل  سے تسوید ہے ۔

مذاکرات کو دو جامع عنوانات کے تحت تقسیم کیا جانا چاہیے۔ ایک عقل عامہ اور دوسرا دین۔ یہ تقسیم مخاطبین کی انواع جو قرآن نے خود بیان کر دی ہیں کی بنا پر کی گئی ہے۔ ایک نوع  ماہرین یا با لفاظ قرآن "علمآ” کی ہوتی ہے۔ ان کے لیے اصل اہمیّت "دینی” ثبوت کی ہوتی ہے۔ عقلی استدلال بد قسمتی سے انہیں کچھ کم ہی متاثر کر پاتا ہے۔ دوسری نوع قرآن کی اصطلاح میں "أُمِّیّین” کی ہوا کرتی ہے جن کے پاس سواۓ خود ساختہ گمان و خواہشاتِ نفس کے کم ہی کوئی آلہ حق و باطل کی تمیز کے لیے ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ اکثریت میں ہوتے مگر دین کے براہ راست علم سے  نابلد ہونے کی وجہ سے دین کے معاملات میں علما کے ہی تابع اور دینی استدلال کے رد و قبول  کے لیے انہی کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہاں، ان کو اگر کوئی چیز سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے تو وہ  کوئی واضح  عقلی دلیل ہوتی ہے۔ اگرچہ معاشرے میں ایک اور گروہ دانشوروں اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کا بھی ہوتا ہے، مگر اوّل تو دینی علم کی تفریط کے اعتبار سے یہ "أُمِّیّین” کے ہی باب میں آتے ہیں۔ اور دوئم اس باب میں شمولیت کی زیادہ بڑی وجہ ان کے حق میں عقلی دلائل کا تو بدرجئہ اتم فیصلہ کن ہونا ہے ۔ اسی لیے ان جدا انواع کے لیے مختلف طرز کے دلائل چاہئیں تا کہ ہر گروہ کو ان کے محدود فہم کی رعایت سے بات پہنچ سکے۔

عقل عامہ کو پہلے لیتے ہیں۔ اس عنوان کے تحت وہ تمام دلائل آئیں گے جن پر حکومت اپنے مؤقّف کو استوار کرنا چاہتی ہے۔ ان دلائل کی بنیاد عقل و دانش  اور قانون و سیاست کے مسلّم‍ات پر رکھی جانی چاہیے۔ دینی استدلال کسی پر اثر کرے نہ کرے، یہ وہ دلائل ہونگے جو دونوں طرف کے عوام پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونگے۔  ان دلائل کے ابلاغ کی جتنی احتیاج طالبان کی طرف ہے اس سے کہیں بڑھ کے ہماری اپنی عوام کو ان کی ضرورت ہے، کیونکہ حق یہ ہے کہ شرعی نظام کا نعرہ اکثریت کو گھائل کیے ہوۓ ہے۔ کیا میڈیا اور کیا سیاستدان، سب ہی اپنی بوکھلا ہٹ کا مظاہرہ” کس فرقے کی شریعت” اور "آئین تو پہلے سے شرعی ہے” جیسے بودے اور غیر ضروری  دلائل کی اوٹ میں پناہ تلاش کرنے کی کوششوں سے کر رہے ہیں۔ اس عنوان کا ابلاغ نامزد حکومتی کمیٹی کے ذمّے دے دیا جاۓ تو کوئی حرج کی بات نہیں، اگرچہ میرے خیال میں حکومتی مؤقّف کی وضاحت کے لیے جس طرح کے اختیار،  حمیّت اور قوّت تاکید کے اوصاف کی قائلین میں ضرورت ہے وہ موجودہ ممبران میں کافی حد تک ناپید ہیں  ۔

اس سے پہلے کہ اس باب کے چند چیدہ نکات کو میں زیر قلم لاؤں اس بات کی توضیح ضروری ہے کہ ان دلائل کا لب و لہجہ  دینی دلائل کے لب و لہجے کے بر عکس بالکل سادہ اور دو ٹوک ہونا چاہیے- یہ اپنی نوعیّت ہی کے اعتبار سے کوئی نصائح و گزار شات  کا  پلندا نہیں بلکہ عقلی مسلّم‍ات سے مستنبط جزا اور سزا کے وہ عالمگیر متّفقات ہیں جن سے انحراف تذکیر نہیں تادیب کا باعث آپ سے آپ بنتا ہے۔ ہاں  مگر انہیں ایسے الفاظ میں ملبوس ہونا چاہیے جو دین کے چشموں ہی سے دنیا کو دیکھنا جاننے والوں کے لیے بھی زیادہ  باعثِ توحّش نہ ہوں۔ یہ معروضات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ ہم مذاکرات فقط اس لیے کر رہے ہیں تا کہ آپ کی سیاسی اور شرعی غلط فہمیوں کو رفع کرنے  اور جائز مطالبات جانچنے  کی ایک ایسی جامع سعی ہو لے جو اس سے پہلے نہ ہو سکی ہے۔ شرعی دلائل کے لیے منتخب علما کو ہم ساتھ لاۓ ہیں (تفصیل آگے آتی ہے)۔ ممکن ہے آپ بھی اور ناقص العقل ناقدین کی طرح اس سعی کو "اظہار کمزوری”  یا "ہماری طاقت کو تسلیم کر لیا گیا ہے”  جیسے دعووں پر محمول کریں- ایسے ناپختہ  تاثّرات سے بے پرواہ  ہم آپ سے استدعا کرتے ہیں کہ اس سعی کو سنجیدگی سے لیجیے گا۔ کمزوری یا طاقت مذاکرات کی   ناکامی کی صورت میں آپ سے آپ واضح ہو جائیگی۔

2۔ ہم آپ سے اس لیے نہیں لڑ رہے کہ آپ نے شرعی نظام کا مطالبہ کیا ہے۔ آپ یہ مطالبہ کرنے میں اسی طرح آزاد ہیں جس طرح ملک کے باقی سب شہری اور بہتیری مذہبی جماعتیں۔ سب جانتے ہیں کہ اس لڑائی کی واحد وجہ آپ کی  قتل و غارت گری اور قومی و بین الاقو امی قوانین کی بر ملا پامالی ہے۔ جارحیّت ترک کر دیجئے تو آپ کو جس طرح اپنے مسلک کے مطابق زندگی گزارنے کی ہمیشہ آزادی رہی ہے اسی طرح تبلیغ و تحریک اور دوسرے پر امن طریقوں سے اپنی تعبیر کے مطابق شرعی نظام کے قیام  کے لیے سر گرداں رہنے کی بھی پوری آزادی ہے۔

3۔ یہ کوئی چھپی بات نہیں کہ ہم آپ کو  "حرابہ” اور "فساد فی الارض” کے مجرم سمجھتے اور اسی لیے ان تمام سزاؤں کے نفاذ کا اختیار اور ارادہ  رکھتے ہیں جو اس ضمن میں ہمیں دین نے تاکید اور دنیا نے تسلیم کی ہیں۔ با ایں ہمہ ہم ان تمام محاربین کی معافی قبول کرنے کے بھی پابند ہیں جو قانون کی بالفعل گرفت میں آنے سے پہلے تائب ہو کر خود کو قانون کے حوالے کر دیں۔ یہی نہیں بلکہ  ہم امّت کے اتحاد کی خاطر ان کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنانے تک "تالیف قلب” کی مد سے ان پر  خرچ کرنے کے لیے بھی پوری طرح آمادہ ہیں۔

4- ہم فاٹا میں یہاں کے عوام کی مرضی کا نظام رائج کرنے کے پہلے بھی قائل تھے اور اب بھی ہیں۔  ہم آپ سے جاننا چاہیں گے کہ کیا آپ یہاں کے عوام کے نمائندہ ہیں؟ اگر ہیں تو اس کا ثبوت پیش کیجے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم فاٹا کی تقدیر سے متعلق تمام بحثیں یہاں کے حقیقی نمائندوں ہی سے کرنے کے پابند ہیں نہ کہ آپ سے۔

5- آپ سے لڑائی کی ایک بڑی وجہ آپ کے ہاتھوں دوسرے مسالک اور مذاہب کا  بے دریغ قتل عام اور ان کے معبدوں اور دینی مراکز کی بے حرمتی ہے، جسے اسلام باقی سب مذاہب کے مقابلے میں بدرجہِ اُولٰی ممنوع قرار دیتا ہے۔ ہمیں ان کے ضمن میں کفر و اسلام اور حربی و غیر حربی کی بحثوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہم اپنے سب شہریوں کی جان، مال ، آبرو اور مذہبی آزادیوں کے یکساں محافظ ہیں۔ دینی اور دنیوی دونوں ہی تعلیمات ہمیں اس حفاظت کو طاقت سے یقینی بنانے کا پابند کرتی اور آپ یہ بخوبی جانتے ہیں۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے قتلِ عام کا اختیار آپ کو کس نے دیا؟ سرِ دست قطعِ نظر اس سے کہ بالفرضِ محال وہ اس کے مستحق ہیں بھی تو  کیا  کسی ریاست میں یہ اختیار حکومت کے سوا  کسی اور کو بھی ہوا کرتا ہے؟

6۔ ملک بھر میں اغوا براۓ تاوان، بھتّہ خوری، قتل بالہدف، ڈاکہ اور رہزنی کی  سب نہیں تو اکثر وارداتوں کے تانے بانے آپ کے اور آپ کے زیر تحت دوسرے گروہوں ہی سے ملتے ہیں۔ یہ جہاں ایک طرف تو آپ کے "شریعت” کے مطالبے کو کالعدم کرتا وہیں ہمیں دینی اور دنیوی قوانین کے مطابق آپ کی سر کوبی کا  پابند کرتا ہے۔  کیا آپ ان  گھناؤنے جرائم سے باز آنے کے لیے تیّار ہیں؟

7۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کا ایک مطالبہ فوج کا فاٹا کے کچھ یا سب مقامات سے انخلاء بھی ہے۔  ہم یہ بات  باوّل واہلہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے فوج کے استعمال کا حق دین بھی دیتا ہے اور قانون بھی۔ یہ اسی ملک کی فوج ہے ہندوستان کی نہیں۔ یہ وہاں گئی کیوں تھی اس سے ہمیں اختلاف ہو بھی تو بھی  اس سے ہمیں کوئی سرو کار نہیں،  کیونکہ اب یہ وہاں  اس وقت تک رہے گی  جب تک شورش  کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔  ہاں اگر قبائلی عمائدین انخلاء پر آمادہ  اور مذکورہ بالا جرائم کے قلع قمع کی یقین دہانی کراتے ہیں، اور آپ کے ساتھ معاملہ طے پا جاتا ہے، تو مرحلہ وار انخلاء کے لیے فریقین کے کسی مشروط متّفقہ قرارداد  تک پہنچ جانے کو ہم بعید از امکان نہیں سمجھتے۔ مگر یہ جب بھی ہو گا باقی سب معاملات پر اتفاق کے بعد ہی ہو گا۔

8۔ جہاں تک "دہشتگردی کے خلاف جنگ سے نکلنے”  اور "ڈرون حملے رکوانے” جیسے دوسرے مطالبات کا تعلق ہے ہم ان کی  توثیق کرتے ہیں، اگرچہ اس میں کچھ تفصیل ہے۔ اس جنگ میں ہمیں  حکومت پر ناجائز طریقے سے قابض ہونے والے ایک آمر نے بغیر عوام کی تائید کے جھونکا تھا۔  ہمیں یہ ورثہ میں ملی ہے۔ ہم اس جنگ سے نکلنے کے حق میں ہی نہیں بلکہ اس کے لیے  بالفعل کوشاں بھی ہیں۔ مگر جہاں تک ان مطالبات اور اس جنگ کی  دوسری فروعات سے نجات تامہ حاصل کرنے کا تعلق ہے ہماری راۓ میں اس کا لائحہ عمل اب حد درجہ تدبیر اور تدریج کا مقتضی  اور اس جنگ کے اسباب و علل کے سدّ باب سے ملحق ہے۔ ہم اس معاملے میں عدم بلوغت پر مبنی مشوروں کو ناقابل عمل سمجھتے ہوۓ انہیں یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ہم چاہیں گے کہ آپ جنگ ختم کر کے اس سلسلے میں ہمارا ہاتھ بٹائیں۔ اگر آپ کے پاس بھی سیاسی بصیرت پر مبنی کوئی قابل عمل راستہ ہے تو ہم ہمہ تن گوش ہیں۔

9- ہم آپ کے سودی نظام سے نجات کے مطالبے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- یہ اگرچہ واضح رہے کہ ہم  نہ تو اسے حلال سمجھتے اور نہ ہی اس کی ترویج کے ذمہ دار ہیں۔ یہ تو ایک ایسی عالمگیر لعنت ہے جس سے کلّی طور پر نجات کسی مسلمان ملک، جو ہم سے کہیں زیادہ مالدار بھی ہیں،   ابھی تک ممکن نہیں ہوئی۔  ہم اس سے نجات کے لیے ایک مدبّرانہ حکمت عملی کی تسوید میں مصروف ہیں۔ مگر اتنی بات طے ہے کہ یہ "اسقاط” نہیں  "فصال” کے طریقے پر ہی ممکن ہے۔ چنانچہ مطالبوں کی بجاۓ متبادل نظام معیشت کی تدوین میں ہماری معاونت کریں۔ اس معاملے میں دھونس اور دھمکی کا جو طریقہ آپ نے اختیار کر رکھا ہے وہ ہماری جانب سے تادیب کے سوا کسی چیز کو مستلزم نہ ہو گا۔

10- ہم یہ بات دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی سر زمین کے کسی حصہ کو دہشت گردی کے لیے قطعاً  استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس سلسلے میں ہم عالمی قوانین کے تابع اور بین الاقو امی معاہدات کے دستخط کنندہ ہونے کی حیثیت سے دین کے مطابق بھی ان کی پاسداری کے پابند ہیں۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ماضی قریب تک اس ضمن میں بلا ارادہ اور کبھی بالارادہ بے اعتنائی ہم برتتے رہے ہیں، مگر اصول کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے معروضی حالات کے پیش نظر اب ہم اس طرح کی سب خام پالیسیوں سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں بھی ہم تدریج اور تشنہ معاملات کے ازالہ کے قائل ہیں۔ کیا اس سلسلے میں آپ  تعاون پر آمادہ ہیں تا کہ کسی مشترکہ لائحہ عمل پر ہم اور آپ مجتمع ہو سکیں؟

یہ وہ معروضات ہیں جن کا ابلاغ میرے نزدیک انتہائی  ضروری اور ہمارے قومی مقدّمے کو مضبوط اساس پر استوار کرنے کے لیے سودمند ثابت ہو گا۔ مگر یہ کوئی جامع و مانع فہرست نہیں کہ کمی و اضافہ ممنوع ہو۔ ان میں جن متوقع مطالبات  کا پیشگی جواب دیا گیا ہے وہ مشہور و معروف بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً پیش بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ اور جن سے صرفِ نظر کیا گیا ہے ان کے لیے پیش کیے جانے والے سوالات کا انداز فیصلہ کرے گا کہ جواب کو کس ندرت سے ترتیب دینا ہے۔ ان کی تشہیر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی عوام میں بھی کی جاۓ تا کہ میڈیا اور عوام میں کی جانے والی بحثوں کو صحیح رخ دیا جا سکے۔ ان میں سے کن میں لچک دکھائی جا سکتی ہے اور کن میں نہیں، یہ میں عاقلوں کے ذوق پر چھوڑتا ہوں۔

طوالت کے پیش نظر میرا خیال ہے کہ دوسرے عنوان کے لیے ایک علیحدہ نشر پارہ ہی موزوں رہے گا۔۔۔۔

Advertisements

2 Comments Add yours

  1. uzeepert نے کہا:

    کیا خوب سیر حاصل تجزیہ کیا ہے کہ ماشاءاللہ ! میں آپ کے ایک ایک حرف سے متفق ہوں. اور یہ سمجھتا ہوں کہ اس مقالے کی اشاعت اور ذرائع ابلاغ میں ہونی چاہیے. اس کی سعی ضرور کیجئے گا. اس آواز کو نقار خانہ میں طوطی کی آواز ہرگز نہیں بننا چاہیے. حصہ دوئم کا بے چینی سے منتظر آپکا مداح.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s